مینگور، مینگورہ شہر میں غیر یقینی صورتحال کے دوران حاجی بابا سکول میں ہونے والے سب سے بڑے خودکش حملے میں شہید ہونے والے 55سے زائد اشہید سو سے زیادہ افراد ہمیشہ ہمیشہ کیلیے جسم کے اہم اعضاء سے محروم ہوگئے ہیں ، آج اس خودکش دھماکہ کے سات سال مکمل مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس اہم مقدمے میں ملوث یا اس مقدمے میں زرا بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ، جس کے وجہ سے عام شہریوں کا ملک کے اہم اداروں پر اعتماد تقریباً ختم ہوچکے ہیں ان شہید ا فراد کی آج ساتویں برسی منائی جارہی ہے ،شہید ڈی ایس پی جاوید اقبال خان کی نماز جنازہ میں ہونے والے خودکش حملہ نے مینگورہ شہر کے متعدد گھرانوں کو اجاڑدیا،
ایک ہی روز شہر بھر میں ایک ساتھ درجنوں جنازے اٹھنے سے پوری شہر میں کہرام مچ گیا ،جبکہ اس خودکش دھماکہ میں ملوث ایک بھی فرد کو گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ ملک میں جنرل پرویز مشرف کے غلط پالیسیوں ڈوہ ڈولہ مدرسہ اور جامع حفضہ لال مسجد کے واقعات کے بعد اب تک اس ملک کو اچھا روز نصیب نہیں ہوسکا شہداء کے رشتہ دار موجودہ حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مقدمے میں جنرل مشرف کو شامل کرکے ملزم نامزد کریں تاکہ آئندہ کیلئے ملک کے سالمیت سے کوئی نہ کھیلیں ،جبکہ دھماکہ سے پہلے پورے شہر میں یہی فضاء تھی کہ اس جنازے میں خودکش دھماکہ ہوگا پھر بھی یہ جنازہ دوبارہ عام جگہ پر کیا گیا جہاں پر سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کی گئی تھی اس مقدمے کو اکثر نو تحقیقات کی جائے کہ اس مقدمے میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے کیونکہ اس وقت غیر یقینی صورتحال کے دوران اسی طرح جنازہ کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے لہٰذا اس تمام محرکات کو اکثر نو تحقیقات کی ضرورت ہے اس میں شہید 55افراد نہیں جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوچکے ہیں رپورٹ کے مطابق 29فروری 2008کو مینگورہ شہر سرشام اس وقت لرز اٹھا جب لکی مروت میں شہید کئے جانیوالے پولیس آفیسر ڈی ایس پی جاوید اقبال خان کی حاجی با با سکول مینگورہ میں نمازجنازہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ،دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور سنی گئی جس کے نتیجے میں شہید ڈی ایس پی جاوید اقبال کے فرزند سمیت 55سے زائد افراد شہید اور 100سے زائد زخمی ہوگئے ،اس دلخراش واقعہ کے دوسرے دن صرف شہید ڈی ایس پی کے آبائی محلہ مکان باغ سے 31اور شہر کے دیگر علاقوں سے 19جنازے اٹھ گئے جن میں مینگورہ کے خوبرونوجوانوں کے جنازے بھی شامل تھے،اس روزصرف مینگورہ ہی نہ ہی بلکہ پورے ضلع سوات پر غم کے سائے منڈلارہے تھے ہر طرف غم اور عالم کی فضا ء تھی،آج اس واقعہ کوسات سال مکمل ہوگیا مگر اب بھی اس المناک واقعہ کے تشویش یہاں کے عوام کے دلوں پر موجود ہے ،خودکش دھماکہ میں شہید ہونے والوں کی آج ساتویں برسی منا ئی جارہی ہے مگر اس میں زخمی ہونے والے 100سے زائد افراد میں سے ایسے بھی موجود ہیں جن کا کسی طرح بھی سرکاری طورپر علاج معالجہ نہ ہوسکا اور اس وقت کے مطابق ان زخمیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنا علاج کرایا ،یہاں پر ایسے زخمی بھی موجود ہیں جو آج بھی حکومتی امداد کے منتظر نظر آرہے ہیں ،واضح رہے کہ خودکش دھماکہ میں شہید ہونے والوں میں سے صرف چند ہی افراد کی شناخت ہوچکی تھی جبکہ بیشتر لوگوں کی میتوں کی شناخت نہ ہوسکی ،تاہم ان سمیت ایسے شہیدوں کو بھی سپردخاک کردیا گیا جن کے صرف گوشت کے لوتھڑے ہی موجود تھے ،سات سال گزرنے کے باجود بھی ان شہیدا کے گھروں سے بین کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ،انکے بچے آج بھی معاشرہ میں سوالیہ نشان بنے نظر آرہے ہیں ،جیسے پوچھ رہے ہوں کہ ان کے والد کو کس جرم کی سزا دی گئی؟ان کی بہنیں ،بیویاں اور مائیں بھی سوالیہ نظروں سے اپنے آس پاس کے ماحول کو ٹٹول رہی ہیں ،خودکش دھماکہ اگر ایک طرف عوام سے اپنے پیاروں کو چھیننے کا سبب بنا تو دوسری طرف اس میں معروف کاروباری شخصیت اور سوات پریس کلب کے چیف ارگنائزر اور روزنامہ شمال کے چیف ایڈیٹرغلام فاروق کا بڑا بھائی حاجی غلام حسین، سینئر صحافی سیراج الدین خان،نائب ناظم اور ہردلعزیز نوجوان حبیب اللہ ،،سماجی کارکنان عیسیٰ خان،سکندرخان،دو سگے بھائی سلطان علی اور ارشد محمودسمیت انسپکٹر حبیب زمان ،شمشیر علی ،ریاض علی ،فیض اللہ خان،عرفان ،آختر علی اور فیاض علی سمیت دیگر خوبرو نوجوان شہید ہوگئے ،جن کے ایصال ثواب اور انکے لواحقین کو صبر کی تلقین دینے کے لئے آج اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگی جارہے ہیں ، واضح رہے کہ اس دھماکہ میں زخمی ہونے والے 100سے زائد افراد جسم کے اہم اعضاء سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم ہوچکے ہیں مگر حکومتی سطح یا غیرسرکاری تنظیموں کے طرف سے ان کو کوئی مدد نہیں کی گئی ، اس مقدمے میں گرفتاری یا ملزما ن تک پہنچنا حکومتی اداروں کے طرف سے سوالیہ نشان اور ماتے پر ایک بدنما داغ ہے
464 total views, no views today


