کامران جان
ٹریفک پولیس پشاور کی تعریفوں کے متعلق آئے روز میڈیا میں زور شور مہم چلتی رہتی ہے یہاں تک کہ بڑی بڑی شخصیات کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا گیا کہ اگر پورے ملک میں ٹریفک پولیس ہے تو صرف پشاور کی باقی سب بیکار ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میڈیا میں اپنی تعریفوں کی جعلی خبریں شیئر کرکے اعلی حکام اور عوام کو بیوقوف بنایا جار ہے؟ ٹریفک پولیس کی اندرونی کہانی کیا ہے اور یہ محکمہ کا طرح کرپشن کرتا ہے کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ پشاور کی شاہراہوں پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کے لیئے جو وردی ٹریفک ہیڈکوارٹرز کے وردی گودام میں آتی ہے اس کا سرے تو پتہ ہی نہیں چلتا۔ اسٹور میں نہ تو جرسیاں ہیں، نہ گرم کوٹ، نہ جرابیں، نہ بوٹ، نہ شرٹس اور نہ ہی پتلونیں موجود ہیں۔ ٹریفک اہلکار اگر بھول کر سرکاری وردی گودام میں سے کچھ مانگنے جائے تو اس کو برساتی والا کوٹ ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے اور اس کا انگوٹھا اور دستخط پانچ اشیاء پر لیا جاتا ہے یعنی کہ اس سے بوٹ، جرسی، کوٹ، شرٹ اور پتلون کی وصولی پر بھی دستخط لیا جاتا ہے جو اسے نہیں ملتیں۔ یہ مال کہاں جاتا ہے اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ وردی گودام کے اہلکار سرکاری یونیفارم باہر ٹھیکیدار پر فروخت کر دیتے ہیں۔ وردی گودام کا مال آپ کو پولیس کی پرائیویٹ کینٹینوں میں فروخت ہوتا ملے گا۔
نمبر 2۔۔ ٹریفک پولیس پشاور میں زیور شاہ نامی ایک شولڈر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز تعینات ہے جس کے بارے میں ساری پولیس جانتی ہے کہ اس کا دستخط بھی اس کا کمپیوٹر آپریٹر ریڈر وحید کرتا ہے۔ زیور شاہ اتنا ان پڑھ ہے کہ اس کو کسی درخواست پر allowed یا forwarded یا one day تک لکھنا نہیں آتا اور موصوف اس جاہلیت میں پورے ٹریفک کا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ جو پی ٹی آئی حکومت کے لیئے فخر کی بات ہے۔
نمبر 3۔۔ ڈی ایس پی ٹریفک حیات آباد لیاقت علی عرصہ دراز سے اسی جگہ پر تعینات ہے۔ جب ان کا تبادلہ ٹریفک پولیس کے کینٹ سرکل میں کیا گیا تو وہ ڈینگی کا بہانہ بنا کر چارپائی پر لیٹ گیا اسی بیماری کے دوران جب اس کا واپس حیات آباد ٹریفک پولیس میں تبادلہ ہوا تو وہ بیماری بھول کر حیات آباد نوکری کرنے پہنچ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موصوف افغانستان سے آنے والے افغان ٹرک ڈرائیوروں کے پاسپورٹ قبضہ میں لے کر ان کو بھاری جرمانہ کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور فی ڈرائیور دس ہزار روپے لے کر چھوڑ دیتا ہے۔ حیات آباد کے علاقے سے رینگ روڈ پر ٹرکوں کا جانا منع ہے مگر موصوف کی بادشاہی میں کمائی کا یہ سلسلہ کئی عرصہ سے جاری ہے۔
نمبر 4۔۔ ڈی ایس پی ٹریفک کینٹ سعید خان کی ناجائز کمائی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ غریب رکشہ والوں کو پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے ڈرا دھماکر دو دو ہزار روپے فی رکشہ رشوت لیتا ہے۔ یعنی کہ ہر روز موصوف پچاس ہزار تک کی کمائی کرکے اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اسٹڈیم چوک سے باڑہ جانے والی سوزوکیوں اور بسوں سے بھی بھاری کمیشن لیا جاتا ہے کیونکہ اسٹیڈیم چوک کا وہ اڈہ ناجائز ہے جہاں کوئی بس یا سوزوکی کھڑی نہیں ہو سکتی مگر یہ بہتی گنگا ہے جس میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں۔
اسی طرح ٹریفک پولیس کے کروڑ پتی لائن افسر شوکت خان بھی کسی سے پیچھے نہ رہے انہوں نے بی آر ٹی کا سیریا سمٹ چرا کر اس سے اپنا گھر تعمیر کروایا ہے یعنی کہ ٹریفک پولیس میں جس کو جہاں چانس ملا لمبا ہاتھ مارتا آرہا ہے۔ لائن افسر شوکت کے آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری کے اسکواڈ سے روابط رہتے ہیں جو شوکت کو آئی جی پی کی روڈ پر مومنٹ کی خبریں دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے ایس ایس پی عباس مجید مروت کو باخبر رکھ سکے۔ جیسے ہی آئی جی پی روڈ پر نکلتا ہے تو عباس مجید صاحب بھی راستے میں کھڑے ہوکر لوگوں میں ہیلمٹس یا پمفلٹس تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو reward، ایواڈ یا سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تصاویر میں انہی پرانے چہروں کو بتایا جاتا ہے جو لائن افسر اور ایس ایس پی ٹریفک کے ارد گرد رہتے ہیں۔ یعنی کہ جعلی تصاویر میڈیا میں جاری کی جاتی ہیں تاکہ یہ اعلی حکام کو یہ دیکھایا جا سکے کہ ٹریفک پولیس میں جزا و سزا کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ٹریفک پولیس پشاور میں پولیس اہلکاروں کا ڈیٹا رکھنے والا او اے ایس آئی کمپیوٹر پر سارا دن گیمز کھیلتا رہتا ہے جبکہ ٹریفک پولیس میں تبادلوں کے لیئے ایس ایس پی ٹریفک نے ایک سول ڈائریکٹر آئی ٹی اشفاق کو اپنا رائٹ ہینڈ بنا کر رکھا ہوا ہے جو کھٹمل سے بھی ذیادہ ادنی پولیس ملازمین کا خون چوس رہا ہے۔ ٹریفک پولیس میں اگر کوئی اہلکار جرمانہ کرے تو اس کو سرکاری طور پر ہر ماہ دس سے پندراں ہزار روپے کا کمیشن ملتا ہے مگر دو ہزار روپے ان کے ہاتھ میں تھما کر انہیں چلتا کردیا جاتا ہے۔ میڈیا مہم، سڑکوں پر فوٹو سیشن، کرسیاں، میزیں رکھ کر پروگرام کرنے اور مہم چلانے کے ہر ماہ کروڑوں روپے ٹریفک پولیس کے سرکاری خزانے سے نکالے جا رہے ہیں۔ دس روپے کی چیز سو روپے میں ظاہر کرکے بلز کیش کروائے جاتے ہیں۔ آخر اتنی بڑی کرپشن کا سارا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ ٹریفک اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی عباس مجید مروت کے منہ کو خون لگ چکا ہے کیونکہ ٹریفک میں کرپشن کرنے کا یہ نیا طریقہ اختیار کیا گیا کہ میڈیا کو کچھ دیکھایا جاتا ہے اور حقیقی طور پر ہوتا کچھ اور ہے۔ یہ کرپشن پکڑنے کے لیئے قومی احتساب بیورو نیب کو 2006ء کی طرح اب دوبارہ ٹریفک پولیس پر اچانک چھاپہ مارنا پڑے گا۔ مذید انکشافات بہت جلد جاری ہوں گے۔
1,252 total views, no views today



