اسلام پسندی کے پیکر ،عالمی جہاد کے چمپئن اور مجاہد اول مرحوم جنرل ضیاء الحق آج حیات ہوتے، تو پتہ نہیں مملکت خداداد میں جاری فساد کی شکل کیا ہوتی؟
مرحوم خود کو ’’امیرالامت‘‘ سمجھتے تھے اور اپنی اسلام پسندی کو نہ صرف کیش کر چکے تھے بلکہ مجاہدین کے بھی باپ دادا تھے۔ ضیاء الحق خود اپنے آپ سے جتنے متاثر تھے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ان سے دو کیا پورے دس گنا زیادہ متاثر نکلے اور خود کو ’’عقل کل‘‘ سمجھنے کی وہی روش اپنائی جو ’’امیر المؤمنین‘‘ ضیاء الحق نے اپنائی تھی۔ البتہ دونوں کے انداز کار، سوچ اور ڈایریکشنز مختلف تھے۔ اس لیے تو ضیاء الحق نے عالمی جہاد کا جھنڈا ہاتھ میں لے کر ’’لیجنڈ‘‘مجاہد اور جہاد کے چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا، تو مکا لہرانے اور دکھانے کے شوقین سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ’’کایا پلٹ‘‘ پالیسی اپنا کر کار کا رخ دوسری جانب موڑ دیا جس پر جوشیلے مجاہدین سیخ پا ہوئے اور پاکستان کے اس فیصلہ پر بدگمانی اور عدم اعتماد کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس سے نہ صرف اس ملک کا امن تباہ ہو گیا بلکہ خیبر پختون خوا اور قبایلی پٹی میں لہو رنگ، بارود کی باس اور سوختہ لاشوں نے اس گلشن کو بنجر بنا دیا۔
پاک فوج کی جانب سے ’’المیزان‘‘ آپریشن کے بعد جو طالبان اٹھ کھڑے ہوئے اور مارو، مرجاؤ کا جو فلسفہ اپنا یا گیا، وہ تاحال جاری ہے۔ قصور وار مشرف صاحب ہیں یا پھر کوئی اور، اس بحث میں نہیں جاتے صرف اتنا بتاتے ہیں کہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد امریکہ نے جو حکمت عملی اپنائی اور ہمیں ’’قربانی کابکرا‘‘ بنایا، تو ایک فون کال پر خارجہ پالیسی تبدیل کرکے جنرل (ر) پرویز مشرف نے غلطی کی اور پھر قبایلیوں کی روایات یعنی ’’جرگہ‘‘ کو بھی یک سر نظر انداز کرکے پراؤں جیسا سلوک روا رکھنے پر قبایلی بھی ہم سے روٹ گئے اورپاک فوج کے خلاف قبایلی علاقوں میں جو لوگ جمع ہوئے، ان کوقابو میں رکھنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ تب سے ہم کبھی مذاکرات کرتے ہیں اور کبھی آپریشنز لیکن خاطر خواہ کامیابی ابھی تک حاصل نہیں ہوئی اور شہریوں کی ہر وقت جان پر بنی رہتی ہے۔ عالمی تناظر میں ایسی پالیساں اپنانے پر مرحوم ضیاء الحق ضرور سیخ پا ہوتے اور آج اگر زندہ ہوتے، توہم پیشہ پرویزمشرف اور چہیتے نوازشریف کے بھی ’’کٹر‘‘ دشمن ہوتے۔ کیوں کہ وہ خود کو ’’امیر الامت‘‘ سمجھتے تھے اور اسی جذبہ کے تحت شاید وہ مجاہدین کے ’’ابا‘‘کے طور پر تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ کی بہ جائے خود امیر تحریک ہوتے۔ ہاتھ میں راکٹ لانچر اور خودکش جیکٹ پہنے ہوئے پارلیمنٹ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اڑانے نکلتے، تو پوری دنیا کے سامنے نہ صرف ہمارے سر جھک جاتے بلکہ پورے ’’برہنہ‘‘ ہو جاتے۔
اب فو ج کے دو جرنیل آمنے سامنے ہوں یا پھر سابق صدر اور پارلیمنٹ، یہ برہنہ ہونے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟ اے پروردگار، تیرا شکریہ کہ ہمیں برہنہ ہونے سے بچایا۔
دہشت گردی کے خلاف لڑتے لڑتے دھماکے، لاشیں، خون خرابہ، فساداور قتل وغارت تو اب معمول کی چیزیں بن چکی ہیں لیکن کیا یہ چیزیں اسی طرح معمول کے طور پر چلتی رہیں گی یا پھر اس کا کوئی مداوا بھی ہوگا؟
اگر حالات کا بہ نظر غایر مشاہدہ اور تجزیہ کیا جائے، تو مستقبل قریب میں’’فساد‘‘ معمول کے مطابق چلتا دکھائی دے گا۔ کیوں کہ مذاکرات کرکرکے تو حکومت اور طالبان کا ستیا ناس ہوگیا اور آپریشنوں کا بھی وہی نتیجہ ہے، جو برسوں پہلے تھا اور اس کی اہم وجہ جو معقول اور سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہو سکتی ہے کہ فوج دہشت گردی کا صفایا چاہتی ہے اور طالبان شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ منطق ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ نہ توپاک فوج دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئی اور نہ طالبان شرعی نظام لانے اور نافذ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ البتہ دونوں کے درمیان لڑائی میں بے گناہ افراد لقمۂ اجل بنے ہیں، گھروں سے دربہ در ہوئے ہیں،کس مہ پرسی کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور اوپر سے شاطر امریکہ ڈرون سے شکار کرتا ہے، تو بھی بے گناہوں کو نشانہ بناتا ہے۔ لگتا ہے تینوں کے اہداف فی الحال نامکمل ہیں اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔ امریکہ تو مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے۔
’’کون نہیں جانتا کہ وہ افغانستان کیوں آیا؟‘‘
کیا صرف اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے اور افغان طالبان کی افغانستان میں حکومت کا خاتمہ کرنے امریکی، افغان سرزمین پر آئے ہیں؟ ہر گز نہیں اوراگر کوئی یہ سمجھتا ہے، تو وہ عقل سے عاری ہی ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں دلیل کے طور پر امریکہ کا یہ بیان کافی ہے کہ افغان طالبان دہشت گرد نہیں بلکہ غیر ملکی قوتیں جو افغان سرزمین پر موجود ہیں، ان کے خلاف مسلح ہیں۔ تو کیا امریکہ یہ جواب دے سکتا ہے کہ ناین الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کن اصولوں اورکن قراردادوں کے تحت کیا گیا؟ کیا افغانستان میں افغان حکومت کے خاتمہ کے لیے اور افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے امریکہ نے ’’زور‘‘ نہیں لگایا تھا اور اب یہ باتیں کرکے امریکی ہم دردی جتانا چاہتے ہیں۔ بہ حیثیت طالب علم ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان اور اس خطہ میں امریکی مفادات اور مقاصد ابھی تک پچاس فی صد بھی پورے نہیں ہوئے اور ایسی بیان بازیاں دے کر امریکی چال چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی افغانستان میں اپنے مفادات کی خاطر جنگ جار ی رکھے گا لیکن ہمیں جو نقصان ہوا ہے اور ہماری بے ہنگم پالیسیوں سے جو مزید نقصان ہو گا، کیا ہماری حکومت کو اس کا اندازہ ہے؟ ہر گزنہیں،کسی تو تھپڑ دے کر اس کی لات کے لیے خود کو تیار رکھنا کہا کی دانش مندی اور دانائی ہے؟ پاک فوج کی جانب سے ’’المیزان‘‘ آپریشن سے لے کر تاحال دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ خاطر خواہ کامیابی سے مراد دہشت گردی کااسی فی صد خاتمہ اور شہریوں کے جان و مال کو تحفظ دینا ہے۔ مذاکرات اور آپریشنز دونوں سے ہم دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اور پاک فوج کو مل بیٹھ کر حالات کا عالمی تناظر میں بہ غورجایزہ لینا چاہیے اور امریکیوں کی ’’چال بازی‘‘ والی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع، مربوط اور مؤثر پالیسی اپنانی چاہیے۔ اگر اب بھی کوئی جامع، کامل اور بہتر حکمت عملی نہیں اپنائی گئی اور ’’امریکی جا رہے ہیں‘‘کا واویلا کرتے رہے، تو پھر ہم کچھ نہیں کر پا ئیں گے اور سب سے زیادہ نقصان پھر بھی ہمارا ہی ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف چودہ سال ہمارے سامنے ہیں اور سبق سیکھنے کے لیے تاریخ اور ماضی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔
936 total views, no views today


