کبل، ایم ایم اے دور حکومت میں شروع کردہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کبل کی عمارت تاحال مکمل نہ ہوسکی سہولیات سے محروم کرایہ کے بلڈنگ میں سینکڑوں طالبات کو ٹھونس کر تعلیم دی جارہی ہے جہاں پر مسائل و مشکلات نے طالبات سمیت سٹاف کی زندگی اجیرن بنا دی ہے سائنس کلاسز نہ ہونے کی وجہ اکثریت طالبات دیگر علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں
جبکہ بیشتر طالبات مسائل و مشکلات کی وجہ سے تعلیم ادھورا چھوڑ جاتے ہیں جس سے تعلیمی اہداف کے حصول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ارباب اختیار نوٹس لے کر کالج کے باقی ماندہ تعمیراتی کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرکے جلد از جلد چالو کریں ان خیالات کا اظہار ننگیالے پختون و اے این پی سوات ضلعی سالار سلطان خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یم ایم اے دور حکومت میں ٹاون شپ کے مقام پر گرلز ڈگری کالج کبل کے تعمیراتی کام شروع ہوا تھا لیکن بد قسمتی سے 9سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بلڈنگ کا تعمیراتی کام مکمل نہ ہو سکا جس کی وجہ 250سے زائد طالبات کرایہ کے عمارت میں زیر تعلیم ہیں جہاں پر بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ان گنت مسائل و مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے مزید کہا کہ بلڈنگ،ہاسٹل اور سائنس کلاسز نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے بیشتر طالبات سید و شریف اور دیگر کالجوں میں تعلیم کے حصول پر مجبور ہیں جبکہ مالی اور دیگر مسائل و مشکلات کی وجہ سے اکثریت طالبات تعلیم ادھورا چھوڑ جاتے ہیں جو تعلیمی اہداف کے حصول پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں انہوں نے ارباب اختیار سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقی ماندہ تعمیراتی کام کو تندہی کے ساتھ مکمل کرکے کالج کو جلد از جلد چالو کیا جائے تاکہ طالبات سمیت والدین میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کبل کی عمارت تاحال تعمیر نہ ہوسکی
342 total views, no views today


