پشاور:پشاور کے ایک پولنگ سٹیشن میں ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر پر اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنان نے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔
سنیچر کی رات کو گور گھٹڑی زنانہ پولنگ سٹیشن میں بیلٹ پیپرز پر ٹھپنے کی اطلاع پر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ سکول میں پہلے سے بیلٹ پیپرز پر سٹیمپ لگائی جا رہی تھی.
خیال رہے اتوار 19 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور میں گور گھٹڑی زنانہ پولنگ سٹیشن پر ہونے والے واقعے کا کمیشن نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق مذکورہ پولنگ سٹیشن کے عملے کو فوری طور ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام پولنگ مٹیریل اور بیلٹ پیپرز محفوظ ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کی خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔’یہ سب ڈرامہ ہے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آزادانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، بیلٹ پیپرز پر سرعام ٹھپے کیسے لگائے جا سکتے ہیں۔‘
دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے افسران اور صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختونخوا کو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مستعد رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سکندر سلطان راجہ نے حکم دیا کہ صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کے دوران تمام وسائل بروئے لائے جائیں۔’الیکشن کے دوران کسی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری ایکشن لیں۔ امن و امان خراب کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔‘
چیف الیکشن کمشنر نے سپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کو ہدایات دی ہیں کہ وہ فوری طور پر پشاور پہنچ کر خیبر پختون خوا بلدیاتی انتخابات ذاتی کی نگرانی کریں
596 total views, no views today



