پشاوﺭ ؛ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبائی بجٹ برائے مالی سالی 2022-23 کو ایک عوام دوست اور تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے جس کا مجموعی حجم 1332 ارب روپے ہے جس میں تمام شعبوں پر بھر پور توجہ دی گئی ہے اور اس بجٹ پر عمل درآمد سے صوبے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور عوام کی زندگیوں میں ایک نمایاں تبدیلی رونما ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت نے مشکل مالی حالات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 418 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات بلاتاخیر عوام تک پہنچ سکیں اور اس مقصد کیلئے ترقیاتی بجٹ کا 92 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔
مالی سال 2022-23 کے صوبائی بجٹ کے حوالے سے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ محمود خان نے بجٹ کو صحیح معنوں میں ایک غریب پرور بجٹ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بجٹ میں عام آدمی کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے۔ بجٹ میں 63 ہزار سے زائد ملازمین کی مستقلی شامل ہے جن میں 58 ہزار اساتذہ تقریباً700 ڈاکٹرز و دیگر محکموں کے ملازمین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میںرواں سال مارچ سے دیئے گئے ڈی آر اے الاﺅنس سمیت مجموعی طور پر 31 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔محمود خان نے کہاکہ غریب اور متوسط طبقے پرمہنگائی کے اثرات کو کم کرنے اور اس طبقے کو ریلیف دینے کیلئے انصاف فوڈ کارڈ منصوبے کیلئے 26 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔اُنہوںنے کہاکہ سماجی شعبہ شروع ہی دن سے پاکستان تحریک انصاف حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست رہا ہے اور نئے بجٹ میں صحت و تعلیم سمیت دیگر سماجی شعبوں کے بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ صوبے کے امن و امان کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو تحفظ دینے کیلئے پولیس کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے صحت کارڈ پلس منصوبے کو اپنی حکومت کا ایک عوام دوست اور صوبے کے عوام کیلئے ایک بڑا تحفہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ نئے بجٹ میں صحت کارڈ پلس منصوبے کو مزید جامع بنانے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن میں بون میرو ٹرانسپلانٹ ، تھیلی سیمیا اور دیگر بیماریوں کے علاج کو شامل کیا جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ کاکہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے رواں مالی سال کم کئے گئے ٹیکسوںکی شرح کو مالی سال 2022-23 میں برقرار رکھا جائے گا۔ محمود خان نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں چھوٹے صنعتکاروں اور نوجوانوں کو 25 ارب روپے سے زائد کے قرضہ جات فراہم کئے جائیں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف حکومت بااختیار بلدیاتی نظام پر مکمل یقین رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ کا 20 فیصد یعنی 37 ارب روپے مقامی حکومتوں کو دے رہی ہے اور خیبرپختونخوا حکومت اپنی مقامی حکومتوںکو خطیر ترقیاتی فنڈ دینے والا واحد صوبہ ہے جس کی کسی اور صوبے میں مثال نہیں ملتی ۔
خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ مالی سال 2022-23 میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لئے 227 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اے ڈی پی میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے 144 ارب روپے کے 105 ترقیاتی منصوبوں کیلئے سترہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جن میں سکولوں سے متعلق بڑے منصوبے شامل ہیں۔ بجٹ تقریر کے مطابق 36.6 ارب روپے کی لاگت سے طلبا و طالبات کے لئے 711 سکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے لئے آئندہ مالی سال میں 3.4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح 35.5 ارب روپے کی لاگت سے 1318 سکولوں کی تعمیر نو کے لئے بجٹ میں 3.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 6.9 ارب روپے کی لاگت سے 521 سکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے 2.1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تیمور جھگڑا نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ 27.7 ارب روپے کی لاگت سے 914 سکولوں کا درجہ بڑھانے کے لئے ترقیاتی بجٹ میں 2.1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 4.4 کی لاگت سے بنیادی سہولیات، سکول بستہ اور سٹیشنری کی فراہمی کے منصوبے کے لئے 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبا کے لئے پچاس کروڑ روپے کے وضائف کی تخصیص بھی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کرنٹ بجٹ میں فرنیچر کی خریداری کیلئے دو ارب، پی ٹی سی فنڈ کے لئے ایک ارب، طالبات میں وظائف کی تقسیم کیلئے 2.4 ارب جبکہ سکول کے طلبا کے لئے وضائف کی مد میں 90 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ہیں۔صحت کے لیے 205 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تیمور سلیم جھگڑا
خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے کے لئے مالی سال 2022-23 میں 205 ارب 72 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے ہیں جس میں جاری اخراجات کی مد میں 178 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے، ترقیاتی بجٹ کی مد میں 23 ارب 31 کروڑ 90 لاکھ روپے جبکہ بیرونی مالیاتی امداد میں چار ارب 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمور سلیم جھگڑا نے یہ اعداد و شمار پیر کے روز صوبائی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے پیش کیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے فلیگ شپ منصوبے صحت کارڈ پلس کیلئے 25 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پچھلے سال آٹھ لاکھ سے زائد خاندانوں کو نجی و سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کی گئی۔ صحت کارڈ پلس میں جنوری 2022 سے جگر کی پیوندکاری سمیت مزید پانچ بیماریوں کا علاج میں شامل کیا جائے گا۔ ان بیماریوں میں تھیلیسمیا، ایڈوانس کینسر کا علاج، کاکلر ٹرانسپلانٹ اور بون میرو ٹرانسپلانٹ شامل ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ٹی آئیز الائیڈ ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کیلئے 53 ارب روپے مختص کئے گئے صوبے میں چار مزید ایم ٹی آئیز اور چار نئے میڈیکل کالجوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ اسی طرح ضلعی ہسپتالوں کی تزین و آرائش، بحالی اور بہتر خدمات مہیا کرنے کیلئے تین ارب روپے کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا صحت کے شعبے میں ہر سطح پر بہتری لا رہے ہیں۔صوبے کے 24 اضلاع کے 58 سیکنڈری کئیر اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تعاون سے چلانے کیلئے 2.7 ارب جاری بجٹ سے مختص کئے گئے۔ پرائمری کئیر ری ویمپ پروگرام کے لئے 2 ارب سے زائد کی رقم مختص کئے گئے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار سے زائد بنیادی مراکز صحت کو ڈی ڈی او کوڈز دیکر مالی خودمختاری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بہتر صحت خدمات کی فراہمی کیلئے 15 اضلاع میں بنیادی مراکز صحت نجی شعبے کے تعاون سے چلانے کیلئے 2 ارب روپے جاری بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔ 8 اضلاع میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے زریعے ایم آر آئی خدمات کی فراہمی کیلئے 50 کروڑ کی سبسڈی دینگے۔وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ انٹر ہسپتال ایمبولینس سروس کی کامیاب منتقلی بعد حاملہ خواتین و نومولود کی صحت کیلئے صوبہ بھر میں میٹرنل ایمبولینس سروس شروع کرنے کیلئے 1.3 ارب روپے مختص کئے ہیں جس سے دیہی علاقوں میں بھی زچہ و بچہ کو صحت مراکز تک رسائی میں آسانی پیدا ہو گی۔
812 total views, no views today



