کالام، سوات کوہستان قومی جرگہ کے نام سے گرینڈ جرگہ سوات کی حسین وادی کالام کے پرفضاء مقام پر منعقد ہوا، جس میں علاقہ عمائدین، سماجی شخصیات سمیت تعلیم یافتہ نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ جرگے کا انعقاد ادارہ برائے تعلیم و ترقی بحرین اور الف اعلان سوات کے باہمی اشتراک سے کیا گیا۔جرگے نے متفقہ طور پر ’’اقراء تعلیمی مہم‘‘ کے نام سے باقاعدہ تعلیمی تحریک کا آغاز بھی کیا۔ اس موقع پر ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے ڈائیریکٹر زبیر توروالی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جرگے کا مقصد سوات کوہستان کی تعلیمی پسماندگی کو حل کرنے کے لئے قومی جرگے کی صورت میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ ہم اپنے حقوق کے لئے ایک مٹھی ہوکر لڑ سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سوات کوہستان کو ہارڈ ایریا تصور کیا جائے اور ان علاقوں کے باشندوں کو بلا مقابلہ سرکاری اداروں میں روزگار فراہم کیا جائے۔ الف اعلان کے کارکن اور انویٹیو یوتھ فورم سوات کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر جواد اقبال نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پورے ایشیاء میں پاکستان تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ترین ملک ہے، اس کے بعد سوات کوہستان کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے میں ہوتا ہے جہاں پر سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 34 فیصد ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ سوات کوہستان کو ایک سازش کے تحت پسماندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور اس جرگے کے پلیٹ فارم سے ہم مل کر اپنے حقوق کے لئے لڑیں گے۔ جرگے سے علاقہ مشران ماسٹر عبدالقیوم، ملک خان گل، ملک نواب اور دیگر نے آئی بی ٹی اور الف اعلان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ انشاء اللہ اقراء تعلیمی مہم میں وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ سوات کوہستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں شرین ذادہ، احسان الحق، ظر علی، محمد عالم، نور خان اور دیگر نے اپنے خطاب میں بتایا کہ تعلیمی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے نوجوانوں کا کردار لازمی ہے، اس لئے وہ یہ عہد کرتے ہیں کہ تعلیمی آگاہی کے لئے مقامی لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے دیگر پروگراموں کا انعقاد کریں گے اور حکومت سے اپنے تعلیمی حقوق کی حصولی کے لئے ہر محاذ پر لڑیں گے۔رپورٹ ایچ ایم کالامی سوات نیوز ڈاٹ کام
1,046 total views, no views today


