تحریر ۔عبدالرّحمان
لحمیات (پروٹین)ایک نامیا تی مرکب ہے۔جو انسانی جسم کا ایک اہم جزہے،انسانی جسم کا تقریباٌ 1/6حصہّ لحمیات سے بنا ہوا ہے۔اسطرح ایک گرام لحمیات ہمیں چار کلو کیلری توانائی فراہم کرتا ہے لحمیات ایک کمپلکس مرکب ہے جو اما ئینو ایسڈ کے چھوٹی چھوٹی اکا ئیوں سے بنا ہوا ہے، اما ئینو ایسڈ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک کو نان ایسینٹل امائنو ایسڈ کہتے ہیں جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر بنتی ہے۔اور دوسرے کو ایسینٹل امائنو ایسڈ کہتے ہیں۔جو ہمارے جسم میں قدرتی طور پر نہیں بنتی،لہذا اس قسم کے امائنو ایسڈ ان غذائیوں میں موجود ہونی چا ئیے۔جو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں،ان میں دالیں ،مچھلی،دودھ اور گوشت وغیرہ شامل ہے۔ان غذائیوں کو استعمال کرتے وقت احتیاط اور صفائی ستھرائی بہت ضروری ہے۔آج کل اگر ہم غور کریں تو قصائیاں اور دودھ والے دودھ اور گوشت بیمار اور مضر جانوروں سے حاصل کرکے فروخت کرتی ہے،جو کہ انسانی صحت کیلئے مضر ہوتی ہے،جس کیوجہ سے جانوروں میں موجود بیماری انسانوں کو با آسانی سے منتقل ہوتی ہے۔مثلاٌ ٹیک بون انفکشن،برو سیلیس،اینتریکس،وائرل انفکشن شامل ہیں۔اس طرح بعض قصائیاں ایسے جگہ پر جانوروں کو ذبح کرتی ہے جہاں گندگی کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔جب وہ جانوروں سے کھال اتارتے ہیں۔ ان کے گوشت اورہڈیوں کو الگ کرتے ہیں تو جانوروں کے گوشت گندگی کے ڈھیر سے اٹھنے والے گرد وغبار سے الودہ ہو جاتے ہیں اور جب انسان وہ گوشت استعمال کرتے ہیں تواس سے کافی مہلک بیماریاں انسانوں کو با آسانی منتقل ہو جاتے ہیں مثلاٌ Listeriosis,pasturcllosis,Asiatic cholera,infections Hepatitisاسطرح بعض قصائیاں گوشت اور انتھڑیوں کو الگ کرتے وقت احتیاط سے کام نہیں لیتے اور انتھڑیوں سے نکلا ہوا مادہ جانوروں کے گوشت پر پڑ جاتا ہے جس کیوجہ سے انتھڑیوں میں موجود parasitesکے (بیضوے)انڈے گوشت پر پڑ تے ہیں اور اس طرح انسان کے پیٹ میں داخل ہوکر مختلف قسم کے بیماریاں پھیلاتے ہیں،مثلاٌ cysticercosisوغیرہ،اس طرح اگر ہم جانوروں کا گوشت اور دودھ بغیر پکائے استعمال کرتے ہیں تو اس میں موجود جراثیم انسانی جسم میں داخل ہوکر مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
736 total views, no views today


