یہ ایک یتیم بچے کی کہانی ہے جس کا نام جنید احمد ہے۔ جنید احمد اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے جو ان کی شادی کے آٹھ سال بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کے والدین اس سے بے انتہاء پیار کرتے تھے۔ یہ چھوٹا خاندان تحصیل مٹہ کا ایک گاؤں جس کا نام جورہ ہے، اس سے تعلق رکھتا تھا۔ جنید احمد کا والد صاحب جس کا نام محبوب احمد تھا پی ٹی سی ٹیچر تھا، جنید کا ایک چچا ہے جس کا نام محبوب احد ہے اور سعودی عرب میں ہے۔ مئی 2009ء میں جنید احمد کا والد صاحب اپنے گھر جا رہا تھا کہ ایک ہوائی گولی اس کے پیٹ میں آلگی اور یوں وہ انتقال کرگیا۔ جب وہ اپنی آخری سانس لے رہا تھا، تو اس نے اپنے بھائی محبوب احد سے یہ وصیت کی کہ میرے اکلوتے بیٹے کی دیکھ بال اچھے طریقہ سے کرنا۔ مجھ سے بہت خون بہہ چکا ہے اور میرا بچنا مشکل ہے۔ اس کے بھائی نے کہا کہ آپ کا بیٹا، میرا ہی بیٹا ہے۔ یوں اپنے بھائی کے انتقال کے بعد محبوب احد سب کو کہتا تھا کہ میں اپنے بھتیجے کا خیال بالکل اپنے بیٹے جیسا رکھوں گا۔ جنید احمد کی تعلیم اور دیکھ بال کی ذمہ داری اب میرے ذمہ ہے۔ محبو ب احد نے اپنے بھائی کے انتقال کے کچھ دنوں بعد ایک پلان بنالیا۔ اس نے گھر میں کہا کہ کھیتوں کے کاغذات مجھے دے دیے جائیں۔ میں ان سے فوٹو کاپیاں تیار کرنا چاہتا ہوں۔ گھر والوں کو کیا پتا تھا کہ وہ ایک یتیم بچے کے ساتھ دھوکہ کرنے جا رہا ہے۔ گھر والوں نے کھیتوں کے سارے کاغذات محبوب احد کو دیئے اوریوں اس نے سارے کھیت اپنے نام کر دیے اور پھر یتیم بچے کو کہا کہ اب تجھے کچھ نہیں ملے گا۔
جب جنید کی ماں کو اس دھوکے کا پتا چلا، تو اس نے جنید کی پھوپھیوں سے کہا کہ محبوب احد نے ساری جائیداد اپنے نام کی ہے۔ اب اس یتیم بچے کی تعلیم کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے؟ جنید احمد اس وقت نہم کلاس میں پڑھتا تھا۔ وہ انتہائی ذہین بچہ تھا۔ اکثر اپنے اسکول کو ٹاپ کرتا تھا، تو پھوپھیوں نے یتیم بچے پر ترس کھاتے ہوئے اپنا حصہ جنید احمد کے نام کیا۔ اسی وجہ سے ظالم محبوب احد نے اپنی بہنوں سے رشتہ ناتا توڑ دیا۔
جنید احمد کے والدین کی خواہش تھی کہ یہ ذہین بچہ ضرور ڈاکٹر بنے، لیکن چچا کے ظلم اور اپنے پیارے ابو کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہ بن سکا۔ اتنے مظالم اور پریشانیوں کے باوجود اس نے اتنے نمبرز لیے کہ اسے اب ایگری کلچر یونی ورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے۔ جنید احمد کے ساتھ چچا نے ظلم کیا لیکن حکومت نے بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ حکومت کی طرف سے کچھ ریلیف اس مظلوم بچے کو نہیں ملا بلکہ اس کا جو حق تھا، وہ بھی اُس سے چھینا گیا۔ سوات آپریشن میں جو لوگ شہید ہوگئے تھے، حکومت کی طرف سے ان کو تین تین لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ اس میں جنید احمد کے شہید والد کا نام بھی تھا لیکن حکومت کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ چوں کہ محبوب احمد ایک سرکاری ملازم تھا، اس لیے وہ پیسے ان کو نہیں ملیں گے۔ کیا ایک سرکاری ملازم انسان نہیں ہوتا؟ وہ روپے جو اُن کے نام منظور ہوئے تھے، پتا نہیں کس ظالم نے ہڑپ لیے۔ میں نے خود وہ لسٹ دیکھی تھی جس میں محبوب احمد کا نام تھا۔اب کہاں سے اس یتیم بچے کی تعلیم کے اخراجات پورا ہوں گے۔
مَیں اس حوالہ سے وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، عمران خان صاحب، پرویز خٹک صاحب اور آپریشنل کمانڈر میجر جنرل جاوید بخاری سے اپیل کرتا ہوں کہ اس بچے کو اس کا پورا پورا حق دیا جائے اور اس کے تعلیمی اخراجات میں اس کی مدد کی جائے، شکریہ۔
716 total views, no views today


