یہ واقعہ ہمارے ساتھ دو دفعہ پیش آیا اور کئی دیگر والدین کے ساتھ بھی پیش آیا ہوگا۔ پہلا واقعہ آج سے کوئی دو مہینے پہلے ہوا۔ میرے بھتیجے نے سیدو شریف اپنے دفتر سے فون کیا کہ اُن کی بیٹی کو اسکول میں درد کی شکایت ہونے لگی ہے، چوں کہ اُس کو بریکوٹ پہنچنے میں بہت وقت لگے گا، تو میں اُسے اسکول سے لے کر قریبی بریکوٹ اسپتال لے جاؤں۔ میں جلدی میں ٹیکسی لے کر اسکول پہنچا اور بچی کو اسپتال لے گیا، وہاں پر بچوں کے ماہر امراض ’’سلمان صاحب‘‘ موجود تھے جو ایک اَن ہونی سے بات تھی مگر آج کل شعبۂ صحت میں خاصی خوش گوار تبدیلی آگئی ہے۔ بہ ہر حال بچی کے ٹیسٹ وغیرہ بھی ہوئے اور بروقت علاج بھی شروع ہوسکا۔
دوسرا واقعہ ابھی کل پرسوں (چودہ اپریل) کو بالکل اسی طرح پیش آیا۔ اسکول والوں نے میرے بیٹے کو اطلاع دی کہ اس کی بچی کو درد کی شکایت ہے، آپ فوراً آکر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ میرا بیٹا اُس وقت ڈیوٹی پر تھا اور چکدرہ میں تھا۔ اس نے مجھے فون کیا۔ میں گاڑی لے کر بریکوٹ گیا۔ بچی کو حسب سابق قریبی اسپتال لے گیا اور وہاں پر موجود سرجن ’’محمد حسین خان‘‘ نے اس کا چک اَپ کیا اور چند ٹیسٹوں کے بعد دوائی لے کر ہم گھر آگئے۔
آگے جانے سے پہلے ہم اُن اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کے ممنون ہیں جو سرکاری اسپتال میں ڈیوٹی کے اوقات میں موجود رہ کر عوام کی بے لوث خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کو سلام! اب اس طولانئی تمہید کے مقصد اور غرض و غایت کی وضاحت کی طرف آتے ہیں۔ ہمیں اسکول انتظامیہ سے یہ شکایت ہے کہ بہ جائے اس کے کہ آپ کسی بچے یا بچی کی علالت کے بارے میں اُن کے والدین کو اطلاع دیں۔ آپ سب سے پہلے اُسے قریبی اسپتال پہنچائیں تاکہ اُسے فرسٹ ایڈمل سکے اور اس کے بعد والدین یا سرپرست کو مطلع کریں۔ جو شخص آپ کو ماہانہ ہزاروں روپیہ فیس دے سکتا ہے، وہ کبھی انکار نہیں کرے گا، اگر آپ اس کے بچے کو فوری طور پر علاج کی سہولت بہم پہنچائیں اور اس سلسلہ میں اگر آپ کا پیسہ خرچ بھی ہوجائے، تو وہ آپ کو ضرور ادائیگی کرے گا۔
اگر کوئی بچہ درد کی شکایت کرے، تو یہ عام درد کے علاوہ اپنڈکس بھی ہوسکتا ہے۔ اب آپ نے اپنی دانست میں والدین کو فون کرکے خود کو بری الذمہ قرار دیا۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ اس طرح آپ کسی حادثہ کی صورت میں مکمل طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ اس لیے پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان سے گزارش ہے کہ وہ صرف دولت کے حصول کو مد نظر نہ رکھیں بلکہ بچوں کی نگہداشت بھی کریں۔ ہم اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کے لیے انھیں مہنگے اور اچھی شہرت والے اداروں میں بھیجتے ہیں، اس امید پر کہ بچوں کو نہ صرف کوالٹی ایجوکیشن ملے گی بلکہ وہ دوسری سہولتوں سے بھی فایدہ اُٹھائیں گے۔
بچوں کو زیادہ تر اسکولوں میں فضول قسم کی چیزیں کھانے سے بھی درد وغیرہ کی شکایت ہوتی ہے۔ اس لیے اسکول انتظامیہ اپنے قریبی دوکانوں پر جانے سے بچوں کو منع کریں بلکہ اسکول کے ’’ٹک شاپ‘‘ میں بھی معیاری چیزیں رکھیں۔
ایک اور اہم مسئلہ نجی اسکولوں کے ٹرانسپورٹ کا ہے۔ لالچ کے مارے بے حس ٹرانسپورٹرز زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے لیے گاڑی میں گنجایش سے تین گنا زیادہ بچے بٹھاتے بلکہ ٹھونستے ہیں۔ بچے کچھ باہر لٹکتے ہیں یا چھت پر بھی بیٹھتے ہیں۔ ایک سوزوکی وین کی زیادہ سے زیادہ گنجایش بارہ بچے ہے، مگر اس میں بلا مبالغہ پچیس سے تیس تک بچے اور پر تلے لاد دیئے جاتے ہیں۔ اس بارے میں اسکول مالکان کے علاوہ ٹریفک پولیس کو بھی اپنا کردار سختی سے ادا کرنا چاہیے، مگر ٹریفک سپاہی نے کبھی کسی اسکول جانے والے وین، پک اپ یا کوچ کو روک کر دیکھا ہے کہ اس میں کتنی سواریاں ہیں؟ ہر گز نہیں۔
لہٰذا پرائیویٹ اسکولز کے مالکان اس سلسلہ میں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر اس برائی کی بیخ کنی کریں۔ والدین تو مجبور ہوتے ہیں۔ گاڑی والے کو کہہ بھی نہیں سکتے کہ اتنی سواریاں نہ اُٹھائیں۔ وہ فوراً جواب دیتا ہے کہ اپنے بچے کے لیے گاڑی خریدو۔
ضلعی اور تحصیل انتظامیہ مل کر حالات کے سدھارنے میں اپنا رول ادا کریں اور پرائیویٹ اسکولوں کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں کہ ایمرجنسی کی صورت میں بچے کو پہلے اسپتال پہنچایا کریں اور پھر والدین کو اطلاع دیا کریں۔
بعض مشہور پرائیویٹ اسکولز اسی طرح ہی کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے قابل تقلید مثال ہیں۔
652 total views, no views today


