یونین کونسل ’’شانگواٹی‘‘ تحصیل مٹہ کا علاقہ ہے۔ اس یونین کونسل میں جمال آباد پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹا سا گاؤں واقع ہے۔ گاؤں سے ذرافاصلے پر پہاڑی سے بہتی ندی کے قریب ایک چھوٹا سا کرکٹ گراؤنڈ ہے جس کو علاقہ کے عوام نے ’’کولمبو گراؤنڈ‘‘ کا نام دیا ہے۔ گراؤنڈ کے ایک طرف پہاڑ اور اس کے نیچے بہتے صاف شفا ف پانی کی ندی ہے۔ دوسری طرف باغات جب کہ سامنے چھوٹی سی ناہم وار زمین ہے۔ اس گراؤنڈ کی لمبائی تقریباً دو سو فٹ جب کہ چوڑائی سو فٹ سے کم ہوگی۔ اس میں ہر سال چار سے پانچ ٹورنامنٹ منعقد ہوتے ہیں، جس میں پوری تحصیل مٹہ کے مختلف گاؤں اور دیہاتوں سے پچیس تک کرکٹ کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس گراؤنڈ میں مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا، جس کے بعد یہ کالم لکھنے پر مجبور ہوا ہوں۔
جمال آباد گاؤں کے ’’کولمبو گراؤنڈ‘‘ میں ’’حضرت جمال کرکٹ ٹورنامنٹ‘‘ کے فاینل میچ میں ہمیں بھی اس علاقہ کے ایک سماجی، سیاسی اور کاروباری شخصیت حضرت جمال نے مدعو کیا، جس کے نام پر یہ ٹورنامنٹ شروع کیا گیا تھا۔ مذکورہ گراؤنڈ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ گاؤں سے ذرا فاصلہ پر واقع ہے اور کافی گہرائی میں ہے۔ حضرت جمال صاحب کی فرمایش پر مجھ سمیت میرے دیگر صحافی دوست ( شیراز خان، فضل ربی پختون یار اور ضیاء الرحمان) بھی مذکورہ علاقہ گئے۔ علاقہ میں پہنچ کر میں ہکا بکا رہ گیا۔ گراؤنڈکی جگہ کم ہونے کی وجہ سے کرکٹ سے دل چسپی رکھنے والے سیکڑوں لوگ باغات اور پہاڑی پر چڑ ھ کر جاری میچ دیکھ رہے تھے۔ حضرت جمال صاحب سے گراؤنڈ اور علاقہ کے بارے میں بات چیت شروع ہوئی، تو پتا چلا کہ جس جگہ گراؤنڈ ہے یہاں کسی وقت ندی بہتی تھی۔ یہاں کھڑے پہاڑ اپنا برف پگھلاکر پانی کی شکل میں اس ندی کو جوان رکھتے تھے۔ گاؤں کے کچھ نوجوان کھلاڑیوں نے پتھروں پر مٹی ڈال کر اس کو ہم وار کیا اور گراؤنڈ کی شکل دے کر اس میں کھیل کود کا عمل شروع کیا۔ میں نے حضرت جمال صاحب سے زمین کے مالک کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا کہ یہ زمین اور آمنے سامنے نظر آنے والے باغات سوات کی مشہور سیاسی خاندان کے چشم و چراغ جمال ناصر کی جائیداد ہیں۔ گاؤں کے لوگوں نے ان سے اجازت لے کر اس کو گراؤنڈ کی شکل دی ہے۔ اس گراؤنڈ کو آنے والی سڑک بھی کچی ہے، لیکن اس کی شکل پھر بھی مٹہ سے شانگواٹی جانے والی پختہ سڑک سے بہتر ہے۔
قارئین کرام! میں اس میچ میں بہ یک وقت ایک صحافی اور مہمان کے طور پر مدعو تھا۔ میں نے انعامی تقریب سے خطاب کے دوران میں کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی نے اس حلقہ سے بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ بار بار یہ اعلانات کررہے ہیں کہ ہم اپنے کھیلوں کے میدان آباد کریں گے، لیکن یہاں آکر مجھے دکھ ہوا کہ اس گراؤنڈ پر کئی مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی محب اللہ خان بہ طور مہمان خصوصی بھی آئے ہیں لیکن ابھی تک اس کو بہتر بنانے کے لیے انھوں نے کچھ نہیں کیا ہے۔ گراؤنڈ کو رکھ چھوڑئیے، اس کی طرف آنے والی پختہ سڑک آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہے۔
قارئین کرام! اگر آپ مٹہ گیٹ وے پر آنے والی چیک پوسٹ پر مٹہ بازار کی بہ جائے سیدھا ’’شور روڈ‘‘ پر جائیں، تو دو کلومیٹر کے بعد آپ کو سڑک کے قدیم آثار دیکھنے کو ملیں گے اور یہی آثار آگے جاتے ہوئے چپریال کے ’’وینئی پل‘‘ کے قریب ختم ہو جاتے ہیں۔ اس سڑک پر درجن بھر سے زاید گاؤں آباد ہیں، جن میں ہزار وں افراد رہایش پذیر ہیں، لیکن جو سڑک والئی سوات نے بنائی تھی، اس کے بعد اک آدھ بار اس پر تارکول نامی چیز ڈالی گئی ہے، جس کی وجہ سے ریاست سوات دور کی سڑک کے آثار پھر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
اگر چہ یہ علاقے سوات کے مختلف ادوار میں سب سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں، اس علاقہ میں محرومیوں کی وجہ سے مختلف اوقات میں سماج دشمن عناصرنے بھرپور فایدہ اٹھاکر لوگوں کو غلط راہ پر ڈالا ہے، جس میں صوفی محمد کی تحریک اور حال ہی میں کالعدم تحریک طالبان کی تحریک شامل ہے۔ کالعدم تحریک طالبان سوات کے دور میں اس علاقہ کے اسکول تباہ ہوئے اور سڑکوں کی رہی سہی شکل بارودی مواد میں اڑادی گئی۔
گاؤں شانگواٹی بھی اسی سڑک پر آنے والا ایک خوب صورت گاؤں ہے۔ یہاں صاف پانی کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اب بھی لوگ اپنے کاندھوں پر صاف پانی پہاڑی چشموں سے لانے پر مجبور ہیں۔ اس گاؤں میں ایک ’’پرایمری اسکول جورہ‘‘بھی ہے، جس کی کوئی عمارت نہیں ہے۔ ایک ٹینٹ ہے جو اب قابل استعمال نہیں رہا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو بچے وہ دن اپنے گھروں میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور جب مطلع صاف ہوجاتا ہے، تو بچے اسکول کا رخ کرلیتے ہیں۔ اس کو آپ بدقسمتی سمجھ لیجیے یا بے حسی کی انتہا کہ گاؤں میں اگر کوئی غمی خوشی کا موقعہ ہو، تو اسکول اس دن بند رہتا ہے۔ شام کے وقت یہ اسکول جانوروں کا مسکن بن جاتا ہے اور جب صبح بچے اسکول آتے ہیں، تو غلاظت سے بھرے میدان میں پڑھائی شروع کر دیتے ہیں۔
سڑک کنارے مذکورہ اسکول کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ مہینہ میں کئی مرتبہ ہمارے تبدیلی کے دعویدار ممبران اسمبلی یہاں سے گزرتے ہوں گے، لیکن اپنی دنیا میں مگن یہ اسکول ان کو نظر نہیں آتا ہوگا اور نہ اس میں پڑھنے والے بچوں کی بلند آوازیں ہی ان کی سماعت سے ٹکراتی ہوں گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ محکمۂ تعلیم کے اہل کار اس علاقہ سے گزرے ہوں گے اور یہاں پر بچوں کے تعلیمی معیار اور ماحول کو پر کھا ہوگا۔ اس اسکول کی حالت زار پر مجھے رحم آتا ہے۔ تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے ’’گھر آیا استاد‘‘ مہم پورے زور وشور سے شروع کررکھی ہے، لیکن مجھے نہیں خیال کہ گاؤں کی سطح پراس خوش کن نعرے کو تقویت ملے گی اور لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کریں گے۔ خاص کر اس جیسے پس ماندہ علاقوں میں جہاں ٹینٹ اسکول ہوں اور ٹینٹ بھی ناقابل استعمال ہوں، جس میں گنجایش سے زیادہ طلبہ و طالبات پڑھتے ہوں اور وہ سردی کی شدت اور گرمی کی تپش کی پروا کیے بغیر سکول آتے ہوں ۔
تحصیل مٹہ کی پس ماندگی دور کرنے اور علاقہ کے مسایل حل کرنے میں پچھلی حکومتوں کے ممبران اسمبلی ناکام رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علاقہ کے عوام نے تحریک انصاف کاساتھ دیا تھا اور بھاری ووٹ دے کر اس کے ممبران کو کامیاب کیاتھا، لیکن شاید اب بھی وہ پس ماندگی اور مسایل حل کرنے کا وقت نہیں آیا ہے۔ اس وقت اس علاقہ کے دو ایم پی ایز صوبائی کابینہ میں شامل ہیں۔ ایک ایم پی اے وزیر جب کہ دوسرامشیرکے عہدے پر فایزہے۔ پھربھی سڑک، اسکول کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر مسایل کے حل کا وقت نہیں ہے۔ شاید یہ حکومت بھی ختم ہو جائے گی لیکن پس ماندہ علاقوں کی پس ماندگی ختم نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ علاقہ کے عوام میں موجودہ حکومت سے ناراضگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ تحریک انصاف کے ممبرا ن اسمبلی کیا کررہے ہیں جو مسایل حل نہیں ہورہے؟ تو جواباً دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کو بھی ایک عام سی سیاسی جماعت قرار دیا گیا، جس کے پاس مسایل حل کرنے کا کوئی لایحۂ عمل نہیں۔ بتایا گیا کہ وہ صرف اپنے وسایل بڑھانے کے چکر میں ہیں۔
میں تو تحریک انصاف حکومت کے ممبران اسمبلی سے یہی عرض کرسکتا ہوں کہ اگر اس بار بھی تحصیل مٹہ کے علاقوں کی پس ماندگی دور نہ کی گئی، تعلیمی ادارے بہ حال نہ کیے گئے اور آمدورفت کے ذرایع کو بہ حال نہ کیا گیا اور کھیلوں کے پرانے میدانوں کی بہ حالی اورنئے میدانوں کی تعمیر بروقت نہ کی گئی، تو شاید پھر یہ لوگ اپنا ووٹ سرے سے استعمال ہی نہ کریں۔ کیوں کہ یہ لوگ قوم پرستوں کو آزماچکے، انھوں نے خان خوانین کو پہنچانا، سرمایہ دار پارٹیوں کو ووٹ دیا، اب ان کی نظریں تبدیلی لانے والوں پر جمی ہیں، اگر یہ لوگ بھی ناکام ہوئے، تو پس ماندہ علاقوں کے لوگوں کا اعتماد پھر کبھی بہ حال نہ ہوگا۔
718 total views, no views today


