بریکوٹ، سوات کے سرکاری ہزاروں ملازمین کو پوسٹل بیلیٹ پیپرز نہ ملنے کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات میں حق رائے دہی سے محروم کردیا ،سرکاری ملازمین میں غم اور غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف جمہوریت کو مظبوط بنانے کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری ملازمین کو اولین بنیادی حقوق سے دستبردار کیا جار ہا ہے ۔ان کو اس جرم کی سزا بلدیاتی الیکشن میں سرکاری فرائض کے انجام دہی پر دیا جارہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق بلدیاتی الیکشن 2013میں ذرائع کے مطابق ضلع بھر کے تقریباًپندرہ ہزار سرکاری ملازمین کو ووٹ دینے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے ۔جنرل الیکشن میں قانون کے مطابق سرکاری ملازمین کو الیکشن کے دن سے چند دن قبل پوسٹل بیلیٹ پیپرز جاری کئے جاتے ہیں جس پر وہ اپنے رائے دہی کا حق استعمال کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔مگر بلدیاتی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے طرف سے ان سرکاری ملازمین کو بیلیٹ پیپر ز کی فراہمی نہ ہوسکی ۔بریکوٹ وارڈ سے نامزد ضلعی آزاد امیدوار انجینئر شرافت علی نے اس بارے میں کہاکہ دیر میں موجودہ ضمنی الیکشن میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے پر ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے مگر اب سرکاری ملازمین کو بلدیاتی الیکشن میں حق رائے سے محروم رکھ کر جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کا کام کیا جارہا ہے ۔انہون نے الیکشن کمیشن آف پاکستا ن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کو بلدیاتی الیکشن میں سرکاری ملازمین کو بلدیاتی الیکشن میں رائے دہی کا موقع فراہم کرے الیکشن کمشنر سوات عبد القادسے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کے قانون میں سرکاری ملازمین کو پوسٹل بیلیٹ پیپر ز کی سہولت نہیں ہے ۔جبکہ یہ سہولت جنرل الیکشن مین ہوتی ہے ۔
817 total views, no views today


