ذرایع ابلاغ کی ضرورت انسان کو ہر دور میں رہی ہے۔ قبیلوں، خاندانوں اور ریاستی حالات و واقعات سے باخبر رہنے اور پیغام رسانی کے لیے مختلف طور طریقے استعمال میں لائے جاتے تھے۔ ذرایع ابلاغ کی بہ دولت قبایل، خاندان اور ریاستیں آپس میں مضبوط و مربط اور فعال تعلقات رکھنے، ایک دوسرے کی قوتِ بازو اور شریک کار بننے کے قابل ہوتے۔ حالات سے باخبر رہنے کے لیے ہرکارے مقرر ہوتے تھے جو پیدل سفر کرکے پڑوسی ممالک اور ریاست کے اندر ہونے والے واقعات کو جمع کرکے اپنے ریاستی، قبایلی اور یا خاندانی سربراہ تک پہنچائے جاتے تھے۔ ذرایع ابلاغ میں تیزی اور جدت پیدا کرنے کے لیے اونٹوں اور گھوڑوں کو استعمال میں لایا گیا۔ تاکہ ارد گرد رونما ہونے والے حادثات و واقعات ان تک بر وقت پہنچ سکیں۔ آن ادوار میں بھی ذرایع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ قید و بند کی سختیاں اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ بعض کو زندگی سے ہاتھ بھی دھونا پڑا لیکن ان سب کے باجود ذرایع ابلاغ کا کام جاری و ساری رہا۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ذرایع ابلاغ نے بھی ترقی کی منازل طے کرنا شروع کیں۔ بات اخبارات اور جرایدکے اجراء تک پہنچ گئی۔ اول اول اخبارات، ماہنامہ اور ہفت روزہ تک محدود ہوتے تھے۔ لوگوں کو مہینوں اور ہفتوں بعد معلومات تک رسائی نصیب ہوتی تھی کہ فلاں علاقے میں کیا کچھ ہوا۔ دوسرے اخبار کے آنے تک انھی حالات و واقعات اور حادثات پر بحث ہوتی تھی۔ تجزیئے کیے جاتے تھے۔ زمانے نے ترقی کی راہ پر قدم رکھا، تو اخبارات بھی اسی دوڑ میں شامل ہوئے۔ ماہناموں اور ہفت روزوں سے بات روز ناموں تک پہنچ گئی۔لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر ملکی اور علاقائی حالات سے باخبرہونے کا موقعہ ہاتھ آیا۔پھر بھی ان واقعات سے اکثر لوگوں بے خبر رہتے۔ کیوں کہ مالی پوزیشن کم زور ہونے کے سبب لوگ اخبار خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ ریڈیو کی ایجاد نے ذرایع ابلاغ کے میدان میں جدت پیدا کی۔ ریڈیو پر خبریں سننا بعض لوگوں کو نصیب ہوتاتھا۔ پورے علاقے میں خاص خاص لوگوں کے ساتھ ریڈیو سیٹ ہوا کرتا تھا۔ لوگ ایک ریڈیوکے ارد گرد جمع ہوکر خبریں سنتے تھے۔ ہوتے ہوتے اس میدان میں ٹی وی چینلز نے قدم رکھ دیا۔ ٹی وی چینلز کے آتے ہی ذرایع ابلاغ کی تو دنیا ہی بدل گئی۔ اب تو روز نئے نئے چینل کھل رہے ہیں۔ جدیدذرایع ابلاغ کے توسط سے لوگوں کو منٹوں میں کسی بھی حادثے اور واقعے کی خبر پہنچ جاتی ہے۔ آج مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد ’’میڈیا‘‘ کو ریاست کا چوتھا ستون شمار کیا جاتا ہے۔ عوام میں شعور و آگہی پیدا کرانے کے لیے میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی کامیابی اور ناکامیوں کی وجہ یہی میڈیا ہے۔ حکومتوں کی کارکردگی اور نااہلی عوام کے سامنے لانے کے لیے میڈیا کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ میڈیا نے ہمارے معاشرے میں ایسے ایسے کرداروں کو بے نقاب کیا کہ انسان ورطۂ حیرت میں پڑگیا۔ لوگوں کو یقین نہیں آتا کہ ہمارے ارد گرد ایسے بھی کردار ہوں گے جو ہر وقت ہماری تباہی و بربادی کا اہتمام کرتے ہیں۔ میڈیا کی بہ دولت اب یہ بہت مشکل ہے کہ سیاست دان، حکومت، حکومتی ادارے اور ان کے ہرکارے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا سے وابستہ صحافیوں، رپورٹروں، تجزیہ نگاروں اور قلم کاروں کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، جانیں قربان کرنا پڑی، کوڑے کھانے پڑے، مالی نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن اپنے مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اس سے انکار نہیں کہ ٹی وی چینلز اپنے تمام تر پروگرام ملک و قوم کے بہتر مفاد میں ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں۔ میڈیا جو دوسروں کے سیرت و کردار پر نظر رکھتا ہے۔ ان کو اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کے بارے میں علم نہیں ہوتا، جو پورے میڈیا کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ پشتو میں ضرب المثل ’’ 713871317158 71307139 7139 7162715871627159716471607# 7139ے ‘‘ کے مصداق اپنے اندر کی کالی بھیڑوں سے بے خبر ہیں۔ پشتوکے ایک معروف ٹی وی نیوز چینل نے صوبۂ خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں، سیاسی پارٹیوں کے نام زد اور الیکشن میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے والے آزاد امیدواروں کے بارے میں عوام کوباہمی معلومات پہنچانے کے لیے ایک سیاسی پروگرام ٹیلی کاسٹ کرنے کا اہتمام کیا۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے پروگرام کا مقصد عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنا ہے لیکن ہماری یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوئی جب مذکورہ نیوز چینل کے نمایندے اسرار خان( چکدرہ لویر دیر) اور شریک کار دیگر عملے نے تھانہ میں منعقدہ پروگرام کے اختتام پر پروگرام میں سیاسی پارٹیوں کے نام زد اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں سے فیس کا مطالبہ کیا۔ پروگرام میں شامل چار امیدواروں کو فی امیدوار تیرہ تیرہ ہزار روپے (مجموعی طور پر باؤن ہزار روپے) ادا کرنا پڑے۔ میری اس تنبیہ کے باوجود کہ میں آپ کے اس کالے کرتوت سے چینل کے ذمہ داروں کو آگاہ کروں گا۔ دھڑلے سے فیس وصول کرکے چلتے بنے۔ مذکورہ نیوزچینل اپنا کردار احسن طریقے سے نبھا رہا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے پروگراموں کی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ اس میں موجود بلیک میلرز اس چینل کی بدنامی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔ میڈیا نے مالی اور جانی قربانیوں کے بعد ایک مقام حاصل کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرے ٹی وی چینلز میں بھی ایسی کالی بھیڑیں موجود ہوں اور اپنے چینل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔
جاتے جاتے پاکستان میں موجود تمام پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا سے عرض ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو بہ حال رکھنے کے لیے ان کالی بھیڑوں کو پہلی فرصت میں فارغ کردیں۔ تاکہ بدنامی اور رسوائی سے بچا جا سکے۔
828 total views, no views today


