عزیزان من! بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے لکھنے کے لیے بہت سارے موضوعات دست یاب تھے مگر میں ان موضوعات پر لکھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ کیوں کہ پہلے سے اخبارات میں اس حوالے سے روزانہ کی بنیادوں پر مختلف لکھاریوں کے دھڑادھڑ مضامین کی اشاعت کی ہی وجہ تھی کہ میرا دل اُٹھ سا گیا تھا اور کافی دنوں سے اس موضوع پر لکھنے سے قطعی گریزاں رہا لیکن آج احساسات کی پیالی میں الفاظ نے ایسے مچلنا شروع کیا کہ مجبوراً کچھ لکھنا پڑ رہا ہے، تو چلیے ہم بھی انتخابات کی بساط پر اپنی قلم کی نوک سے چند الفاظ بکھیرنے کی کوشش کرتے ہیں!
عزیزان من! جیسے کہ جب برسات شروع ہوتی ہے، تو مختلف انواع و اقسام کے مینڈک ٹرٹر ٹرٹر کرتے ہوئے اپنے بلوں سے نکل آنا شروع ہوجاتے ہیں اور اسی کے مصداق انتخابات کے موسم میں مبینہ طور پر چند باشعور لوگوں کے علاوہ مختلف انواع و اقسام کے امیدواران میدان میں اترتے نظر آتے ہیں بلکہ اس دفعہ تو ایسے ایسے مشٹنڈو کے پوسٹر اور تصاویر دیکھنے کو ملی ہیں کہ’’الامان و الحفیظ۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ حالیہ الیکشن میں تو انتخابی مقابلوں کے ساتھ ساتھ مونچھوں کا بھی زبردست مقابلہ جاری ہے اور مونچھیں بھی ایسی کہ بچھو کی ڈنک کی طرح ڈرانے والی۔ یقین جانیے مونچھوں کے اتنے برانڈز آپ نے لوکل سی ڈی ڈراموں میں بھی نہیں دیکھے ہوں گے، جتنے اس لوکل الیکشن میں دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ ہمارے علاقے میں تو شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی بڑی مونچھیں ہوں اور الیکشن میں کھڑا نہ ہوا ہو بلکہ جی تو کرتا ہے کہ رستے میں جو بھی مونچھوں والا ملے، تو فوراً اس سے دریافت کروں کہ بھئی کون سی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہو ؟
عزیزان من! پاکستانیوں کی اکثریت قصیدہ گو اور نوحہ فروشوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایسا قوم نما ہجوم ہے جسے بچوں کی طرح کھلونوں سے بھی بہلایا جاسکتا ہے۔ ہر دفعہ انتخابات کے چار یا پانچ مہینے بعد بر سر اقتدار آنے والے حکم رانوں پر لعن طعن کرکے نوحہ کناں رہتے ہیں جب کہ گزشتہ حکم رانوں کے قصیدے سناتے نہیں تھکتے۔ ’’فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد۔‘‘ ایک مہینے سے ہمارے کینڈی کرش نوجوانوں نے جہاں علاقائی ڈیروں اور ہجروں میں دھوم مچا رکھی ہے، اس سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا پر گدھوں کی طرح گرد اُڑا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دیواریں تو خیر رہنے دیجیے لیکن شاہ راہوں اور گلی کوچوں کی دیواروں کو جتنا گندا کیا گیا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ اتنی آسانی سے صاف ہوجائیں یا کوئی صاف کرنے کی زحمت بھی کرے گا؟ کیوں کہ انھی دیوارں پر دس یا بیس سال پرانے انتخابات کی باقیات بھی ابھی تک نمایاں ہیں۔ ستم یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں کو سیاست دانوں کی مار کھاتے کھاتے ابھی تک عقل نہیں آئی بلکہ اس قوم نما ہجوم کے سیاسی شعور کا تو یہ حال ہے کہ ہر دفعہ ایک ہی طریقے سے اور ایک ہی بل سے ڈس لیے جاتے ہیں اور آیندہ کے لیے بھی وہی طریقۂ کار اور وہی ’’بِل‘‘ کارآمد رہتا ہے ۔ گویا ان کو نمرود کی طرح بار بار چھتر کھانے سے راحت ملتی ہے۔
بھئی، مجھے تو ایک بات کی برابر سمجھ آگئی۔ اور وہ یہ کہ ووٹ واقعی قیمتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کی بھی برابر سمجھ آگئی ہے کہ اصل میں ووٹ ہی قیمتی ہے ۔ میرا مطلب ہے کہیں ایسا نا ہو کہ آپ ووٹ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی اتنا ہی قیمتی تصور کرلیں۔ کیوں کہ ایسا نہیں ہے بھائی! آپ لوگوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ یعنی ووٹ کے ساتھ ووٹر کی ہرگز ہرگز کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے پاس الیکشن کے بعد غریب عوام سے جان چھڑانے کے طرح طرح کے طریقے پہلے سے موجود ہیں اور اگر کوئی نیا نیا سیاست میں قدم رکھتا ہے، تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسرے تجربہ کار پنڈتوں سے یہ طریقے آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے اور منتخب ہونے کے بعد ماجرہ بالکل الگ ہوجاتاہے ۔
اگر یہ ووٹ اتنا ہی قیمتی ہے کہ بڑے بڑے سیاستدانوں کو بھکاری کے سامنے بھی بھکاری بنادیتا ہے تو الیکشن کے بعد ووٹر پر کونسی بجلی گر جاتی ہے کہ کوئی نمائیندہ اسے جاننے تک سے انکاری ہوتا ہے !!
بار بار ان تجربات سے گزرنے کے باوجود کچھ لوگ اب بھی یہی کہتے آرہے ہیں کہ ووٹ میں بڑی طاقت ہوتی ہے حالانکہ میرا مشاہدہ اس سے بات بالکل مختلف ہے !! کیونکہ میں نے دیکھا ہے اور کئی بار دیکھا ہے اور اس دفعہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ ووٹوں سے زیادہ طاقت نوٹوں میں ہوتی ہے !
کیوں ؟
کیونکہ جو نمائندہ زیادہ اخراجات اُٹھارہے ہوتے ہیں اس کو اتنی ہی حمایت مل رہی ہوتی ہے ۔ اس کے دو وجوہات ہیں ایک تو اخراجات کی وجہ سے چرچہ بڑھ جاتا ہے اور مذکورہ نمائندے کو ووٹ نہ دینے والے بھی اسی چرچہ کو کامیابی کے واضح امکانات تصور کر لیتے ہیں لہٰذا چار و ناچار ایک ناکام امیدوار کے بجائے کامیاب امیدوار کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ الیکشن کے دوران میں ووٹوں اور نوٹوں کی ادلی بدلی ہوتی رہتی ہے، چاہے چوری چھپکے ہو یا چاہے بر ملا۔
قارئین کرام! المیہ یہ ہے کہ ہم گلی کوچے پکا کرانے کے واسطے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہ کام منتخب نمایندوں کی بہ جائے مختلف این جی اوز اور دیگر خیراتی ادارے بہتر طریقے سے اور بہتر معیار تعمیر کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں، تو اب اس قوم نما ہجوم کے افراد سے عرض ہے کہ سیاست دانوں کے جھنڈوں سے بنے سیاسی برانڈ کی ٹوپیاں ہی سہی لیکن اگر آپ کو کوئی ٹوپی پہنا رہا ہے اور آپ کو خوش فہمی ہورہی ہے، تو آپ کو آیندہ بھی ٹوپی ہی پہنائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’کینڈی کرش‘‘ نوجوانوں سے انتہائی ادب اور تعظیم کے ساتھ عرض ہے کہ چند دن اور سہی لیکن گرد اُڑائی میں تاریخ رقم ہونی چاہیے۔ چلتا ہوں ۔۔۔ اللہ حافظ!
*۔۔۔*۔۔۔*
826 total views, no views today


