کرکٹ کا ہیرو، سیاست میں زیرو، جمایما خان کا سابقہ اور ریحام خان کا حالیہ شوہر، پاکستان کی سیاست میں گالی گلوچ، دشنام طرازی، سب و شتم اور مجرا سیاست متعارف کرانے والے سیاست کار، سیاسی بصیرت سے بے بہرہ، ہر کسی پر بغیر کسی ثبوت کے کیچڑا اچھالنے والے، ہر موڑ پر بغیر سوچ سمجھ کے یوٹرن لینے والے پاکستان کے نایاب سیاسی خانہ بہ دوش ’’عمران خان‘‘ پہلے اپنے لیے وزات عظمیٰ کے لیے جو کوالی فی کیشن بیان فرما رہے تھے، وہ محض کرکٹ اور اسپتال کے حوالے سے تھی۔ یہ ’’زیرک سیاست دان‘‘ کرکٹ مفت میں نہیں کھیلے اور اسپتال اپنے پیسوں سے نہیں بنایا، البتہ صوبۂ خیبر کو مثالی صوبہ بنا سکتے تھے، لیکن خود سیاست سے نابلد تھے، اس لیے ایسا نہ کرسکے۔
حکومت کی ناکامی اور وزارت عظمیٰ کی حوس میں ان کے دھرنوں کا اختتام آخر کار ایک عدد شادی پر ہوگیا۔۔۔ اللہ کے فضل سے۔۔۔
ہم خان صاحب کے ’’وسیع‘‘ سیاسی کیریئر میں الجھنے سے بچ کے رہیں گے۔ کیوں کہ یہ ایسی گتھی ہے جو سلجھائے نہ سلجھے۔
اب سنیں! دھرنوں کے ابتدائی ایام میں، مَیں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو عمران خان کے لیے اچھی رائے رکھتے تھے، لیکن جب چند دنوں کے بعد موصوف نے سول نافرمانی کی صدا بلند کی (خود سول نافرمانی کے مکمل مفہوم سے ناواقف) تو اپنے سیاسی کم مائیگی کے احساس کے باوجود اسی دن میں نے دھرنے کا حل نکالا تھا۔ جب حال یہ ہوا تو ہم بھی رفتہ رفتہ پیچھے آگئے اور حقیقت آشکارا ہوتی چلی گئی۔ حقیقت یہ۔۔۔ کہ موصوف وزارت عظمیٰ کے عشق میں اس قدر مگن رہے کہ انھیں ملک کی بھی کوئی پروا نہیں رہی۔ ایک اور عشق میں گرفتار ہونے کے بعد پہلے والے سے چٹکارا حاصل کیا۔
اس ’’مظلوم‘‘ پر یہودی یا یہودی ایجنٹ ہونے کاالزام بھی لگا تھا۔ وہ بھی مولانا فضل الرحمان جیسے زیرک سیاست دان نے شدید غصے اور جھنجلاہٹ کے عالم میں فتویٰ صادر فرمایا تھا لیکن ہم اس ’’الزام‘‘ کو اس طرح بیان کریں گے کہ عمران خان بالواسطہ یہودی ایجنٹ نہیں ہیں۔ کیوں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہود عمران کو فنڈنگ کرتے ہیں۔ البتہ ان کی طرف سے ایک قسم کا ڈپلومیٹک سپورٹ حاصل ہوسکتا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بلاواسطہ یہ شخص ایجنٹ ہے۔ اس نے یہود کے مقاصد کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ حقایق اور الزامات ہم باربار سن اور پڑھ چکے ہیں۔ اس کی دہرائی کی اب ضرورت نہیں رہی لیکن مجھے جس چیز نے حیران کیا ہے، وہ جماعت اسلامی کا کردار ہے۔ مجھے حیرت سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب میں اسلام کا نام لینے والی جماعت اسلامی جیسی پارٹی کی اس قسم کی پارٹی سے اتحاد کو دیکھتا ہوں۔ امامت کی سطح سے لے کر مقتدیوں تک سب کے شب و روز تحریک انصاف کی بے جا وکالت میں گزر جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جماعت اسلامی مسلسل اپنا ساکھ کھو رہی ہے۔ بہ ہر کیف جماعت اسلامی اور تحریک انصاف الاینس ایک بڑا تصادم ہے اور یہ الاینس کئی وجوہ سے بے تُکا ہے، جو جماعت اسلامی کی سیاسی درخت کے لیے ایک خطرناک دیمک ثابت ہو رہا ہے۔ مثلاً پچھلے دو دہائیوں سے جماعت اسلامی کی یہ کوالٹی رہی ہے کہ اس کو ہر چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی یہودی یا امریکی سازش نظر آتی ہے۔ اس کی ڈھیرساری مثالیں ہیں۔ یہاں صرف ایک مثال قارئین کی نظر کرتے ہیں: جب 2012َ ء میں قاضی حسین احمد مرحوم پر بم دھماکا ہوا، تو قاضی صاحب نے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام عاید کیا کہ یہ امریکہ کے ستیا ناسوں کا کام ہے۔ اس کے بعد حامد میر نے اپنے پروگرام میں قاضی صاحب سے مزید استفسار کیا کہ اس کا کوئی ثبوت ہے؟ تو قاضی صاحب نے پھر وہی جواب دہرایا کہ یہ ثبوت ہے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ یہ امریکہ نے کیا ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی کرسی کے حصول کے لیے سازشیں جماعت اسلامی کو نظر نہیں آئیں، تو کیا یہ بات قابل غور نہیں؟
اس طرح جب سلیم صافی نے سراج الحق سے ایک انٹرویو میں تحریک انصاف کے ڈانسوں کے بارے سوال کیا، تو ان کا جواب بھی آن دی ریکارڈ ہے۔
سلیم صافی: ’’تحریک انصاف کے جلسوں میں بے ہودہ ناچ گانا ہوتا ہے، اس کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟‘‘
سراج الحق:’’جتنا بے ہودہ ناچ گانا جیو پر ہوتا ہے، اتنا نہیں ہوتا۔‘‘
اس سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ ایک درویش منش کس قدر ’’تحریک عمران‘‘ کے ’’عشق‘‘ میں مبتلا ہیں۔
اس طرح جب عمران خان نے اچانک اپنی توپوں کا رخ جماعت اسلامی کی طرف موڑ دیا اور عمران خان کی زبان کا سرکش گھوڑا بے لگام گیا کہ سراج الحق وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا بند کردیں، تو سراج الحق نے کہا کہ میں کرکٹ نہیں فٹ بال کھیل رہا ہوں۔ اس تلخی کا خاتمہ سراج الحق کی طرف سے اس فرمان پر ہوا:’’ہمارااور تحریک انصاف کا نظریہ و مقصد اور سیاست ایک ہے۔ ہم دونوں ایک حقیقی اسلامی وفلاحی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘
اس فرمان عالیہ پر دو باتیں عرض کی جاسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ محترم سراج الحق جماعت اسلامی سے کما حقہ نا واقف ہیں یا Politics of Reconciliation نے ان کو اندھا کردیا ہے ۔کیوں کہ اگر جماعت اسلامی کا نظریہ کسی کو پڑھنے کا اتفاق ہو جائے، تو اس پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ سراج الحق خود کہاں ہیں؟
بہ ہرحال سراج الحق کی حالیہ سیاست نے ہم پر ایک بات واضح کردی کہ جماعت اسلامی ایک عام سی سیاسی پارٹی ہے۔ پہلے میں اس بارے میں انتہائی کنفیوژ تھا کہ آیا جماعت اسلامی ایک مکمل تربیتی جماعت ہے یا پھر محض ایک سیاسی پارٹی، لیکن اب یہ الجھن دور ہوئی کہ یہ ایک مکمل سیاسی پارٹی ہے جس میں تربیت نامی چیز کی اب پہلے والی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی۔ اس طرز سیاست نے جماعت اسلامی کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔اگر اس کی Renaissanceبروقت نہیں ہوئی، تو اس کی نظریاتی اساس مکمل طورپر خاک میں مل جائے گی، جس طرح سید منور حسن کو کھڈے لاین لگا کر جماعت اسلامی نے یہ اعلان کیا تھا کہ نظریہ نامی چیز جماعت اسلامی کا شیوہ نہیں ہے۔
اب جماعت اسلامی کے پاس تین راستے ہیں۔
1:۔ تبلیغی جماعت اپنا حلول کردیں۔
2:۔ تحریک عمران میں ضم ہو جائیں۔
3:۔ یا پھر مرد بنیں اور اصولی، اسلامی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کریں۔
آخری چوایس کا کوئی امکان نہیں۔ کیوں کہ اسٹیبلشمنٹکو ابھی اس قسم کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک ایک سیٹ کے پیچھے زبان لٹکا کے بھاگنے سے نہ کوئی نظریاتی فایدہ ہے، نہ فلاحی اورنہ اسلامی غرض، بس ایک گورکھ دھندا ہے، جو جاری ہے۔
742 total views, no views today


