سوات، یونیورسٹی آف سوات کے طلباء و طالبات اور خواتین اساتذہ کے ہاتھوں یونیورسٹی کے مین سائٹ پر اکیڈمک بلاک اور ہاسٹلز کی تعمیر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر محمد جہانزیب خان اور یونیورسٹی سٹاف کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ یونیورسٹی کی تعمیر کے سلسلے میں دیگر تعمیراتی کام ، جس میں مین گیٹ، رابطہ سٹرک اور باؤنڈری وال کی تعمیر شامل ہیں، کا افتتاح پہلے ہی یونیورسٹی کے اساتذہ اور سٹاف کے ہاتھوں کیا جا چکا ہے جبکہ یونیورسٹی کے پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کے کام کا افتتاح یونیورسٹی کے کلاس فور ملازمین کے ہاتھوں کیا جا چکا ہے۔ طلباء اور اساتذہ نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم یونیورسٹی آف سوات ، اپنے اساتذہ اور خصوصی طور پر وائس چانسلر صاحب کے نہایت مشکور ہیں جنہوں نے ہماری یونیورسٹی کے کام کا آغاز ہمارے ہی ہاتھوں سے کروایا۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے طلباء اور اساتذہ کو تعمیراتی کام کی تکمیل اور اس حوالے سے دیگر امور کے بارے میں اگاہ کیا۔ وائس چانسلر نے بتایا کہتعمیر کا کام مرحلہ وار مکمل کیا جائیگااور پہلے مرحلے میں لنک روڈ، باؤنڈری وال مین گیٹ اور اکیڈمک بلاک کے علاوہ ہاسٹلزکی تعمیر کی جائیگی۔ تعمیراتی کام کے آغاز کے لئے صوبائی حکومت نے 1500 ملین اوروفاقی حکومت نے 1000 ملین روپے کی منظوری پہلے ہی دی ہوئی ہے۔ تعمیراتی کام کے آغاز کے لئے تقریباََ 350ملین روپے ریلیز ہوچکے ہیں جبکہ بقایارقم کی مرحلہ وار ریلیزہوگی۔وائس چانسلر نے بتایا کہ انہوں نے دیگر زرائع سے بھی فنڈزکے حصول کے لئے شروع دن سے کوششیں کی ہیں اوراللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے 1800 ملین روپے کی مزید فنڈنگ کی امیدہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی باقاعدہ افتتاح کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مشترکہ طور پر درخواست کی گئی ہے کیوں کہ دونوں حکومتوں نے یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کیئے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی باقاعدہ افتتاحی تقریب منعقد ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میں اور میری ٹیم کے تمام ممبران خلوص نیت سے اس بڑے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تعمیراتی کام مقررہ وقت تک مکمل ہوجائیگا۔ یونیورسٹی کی تکمیل پر اس میں جدید آڈیٹوریم، سپورٹس کمپلیکس،ڈیجیٹل کمپیوٹرائزڈ لائیبریری ، دفاتر، گیسٹ ہاؤس، مسجد، بوٹانیکل گارڈن ، دکانیں، کیفے ٹیریا، سیکیورٹی چیک پوسٹیں ، ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کے لئے رہائیشی کالونی وغیرہ جیسی سہولیات میسر ہونگی۔
810 total views, no views today


