سوات قدرت کی طرف سے یہاں کے باسیوں کیلئے انمول تحفہ ہے۔ قدرتی نظارے، گھنے جنگل اور سرسبز وشاداب پہاڑیاں انسانوں کو پُرسکون رکھنے کیلئے کافی ہیں۔ موجودہ دور کی مصروف ترین اور تھکاوٹ سے بھرپور زندگی میں انسان سکون حاصل کرنے کیلئے قدرتی ماحول میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتا ہے، مگر افسوس کہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ کئی نعمتوں کی قدر ہم اہل سوات نے نہیں کی۔ ایک طرف قدرت نے انسانوں کو دنیا میں بے شمار نعمتوں سے تو نوازا ہے، مگر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی ہم نے کوئی کوشش نہیں کی۔ گرچہ ترقی یافتہ ملکوں میں انسانوں کی زندگی آسان بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
لاکھوں آبادی پر مشتمل سوات کی معیشت میں سیاحت اہم مقام رکھتی ہے۔ اس شعبہ سے یہاں کے ہزاروں لوگ وابستہ ہیں۔ عرصہ پہلے سوات کی جنت نظیر وادی کو دیکھنے کیلئے نہ صرف اندورن ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی لوگ آتے تھے مگر مخدوش صورتحال اور سیلاب کے بعد سیاحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہو نے کے بعدسیاحت جیسے اہم شعبہ کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب یہاں پر دہشت گردی پروان چڑھائی جانے لگی اور یہاں کے لوگوں پر اپنی ہی زمین تنگ کی جانے لگی، یوں باہر سے آنے والے لوگ بھی سوات آنے سے کترانے لگے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بعد سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ اب سوات میں رونقیں کیسی بحال ہونگی؟ اس کام کیلئے انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں نے مقامی لوگوں کیساتھ مل کر جدوجہد شروع کی۔ کبھی ملم جبہ میں ’’اسکی ٹورنامنٹ‘‘ کا انعقاد کیاجاتا، تو کبھی کالام میں فیسٹیول کا اہتمام کیا جاتا، میوزک شوز منعقد کرائے جاتے، گالف مقابلے کرائے جاتے اور ان تمام کاموں کا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی بھی صورت سوات کی وہی پرانی رونق لوٹ آئے اور سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر بحال ہو جائے، مگر افسوس یہ تمام اقدامات خراب سڑکوں اور بند ائیرپورٹ کی وجہ سے بے کار ثابت ہوئے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ سوات کی سڑکیں زمانۂ قدیم کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ان سڑکوں پرسفر کرتے ہوئے تقریباً ہر شخص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جدید سائنسی دور میں ایک ایسی جگہ جو قدرت کی نعمتوں سے اٹی پڑی ہے، جس میں بسنے والے انسان مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں، جو حکومت کو باقاعدہ بجلی، پانی و گیس کے بل بھی ادا کرتے ہیں اور ٹیکس نہ ہونے کے باوجود ان بلوں کو بھاری بھر کم ٹیکسوں کیساتھ جمع کراتے ہیں اور پھر بھی ترقی سے محروم ہیں!
باہر کے لوگ تو یہاں ایک یا دو ہفتے گزارنے آتے ہیں جب کہ یہاں بسنے والے لوگوں کا روزانہ ان سڑکوں سے واسطہ رہتا ہے۔ یہ سڑکیں آپریشن اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئیں، ان کی تعمیر کیلئے ہر حکومت نے بلند بانگ دعوے کئے۔ خصوصاًشانگلہ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کے مشیرانجینئر امیر مقام سیاحتی علاقوں کی سڑکوں کی تعمیر کے اعلانات میں سب پر بازی لے چکے ہیں۔ موصوف بحرین تا کالام روڈ کا افتتاح بھی تقریباً دو سال پہلے کرچکے ہیں مگر تاحال ان سڑکوں کی تعمیر اعلانات اور فیتہ کاٹنے سے آگے نہ جاسکی۔ ان کھنڈر نما سڑکوں کی وجہ سے کئی خطرناک حادثات بھی رونما ہوچکے ہیں۔
امسال عیدالفطر کے موقع پر جنت نظیر وادی کے خوبصورت مقامات کو دیکھنے کیلئے اندورن ملک سے ریکارڈ تعداد میں سیاح آئے۔ ملم جبہ، کالام، مرغزار، مدین اور بحرین سمیت دیگر سیاحتی علاقوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ سیاحوں کیلئے ہوٹلوں میں کمرے کم پڑگئے تھے۔ عید کے پہلے دن سے لیکر چوتھے دن تک سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہی۔ سڑکوں کی خراب حالت کی وجہ سے لوگوں نے منٹوں کا فاصلہ کئی کئی گھنٹوں میں طے کیا۔ سیکورٹی کی ذمہ داریاں پولیس نے بخوبی سرانجام دیں مگر انتظامیہ اس موقع پر مکمل طور پر ناکام رہی۔ضلعی انتظامیہ نے عید کے سیاحتی سیزن کیلئے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا اس طرف دھیان رہاکہ آنے والے لوگوں کیلئے کس قسم کی سہولیات ہونگیں؟ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے کیا انتظامات ہونگے؟ نااہلی کی انتہا ہے کہ کالام سے دوپہر کو نکلنے والے سوات کے دیگر علاقوں کے لوگ اگلے روز اپنے علاقوں کو پہنچے۔ عید کے ایام میں سیاحت کے تباہ حال شعبہ کو کروڑوں روپے آمدنی کی توقع تھی۔ سوات میں سیاحت کی بحالی سے سوات کی معیشت بحال ہونے کے ساتھ حکومتی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔ اور اس طرح ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ باہر کے لوگ بھی یہاں سرمایہ کاری کریں گے جبکہ مزید ایسے کئی مقامات دریافت ہوں گے جن تک رسائی کے لیے ابھی تک کوئی ذریعہ نہیں ہے، مگر یہ فوائد اس وقت حاصل ہونگے جب سوات کی خراب سڑکوں کی تعمیر یقینی ہوجائے گی۔ یہاں پر گزشتہ کئی سالوں سے بند ائیر پورٹ جو سوات کی معیشت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، بحال ہوجائیگا۔ یہاں کے سیاحتی مقامات کو سیاحوں کیلئے محفوظ بنایا جائیگا اور یہ تب ممکن ہوگا جب سوات کی سڑکوں پر ’’سیاست‘‘ بند ہوگی اور یہاں کے سیاسی قائدین مفادات کو چھوڑ کر وادی کی ترقی کیلئے عملی جدوجہد کرینگے۔ اللہ تعالیٰ ہماری وفاقی وصوبائی حکومت سمیت سیاسی قائدین کو سوات کی سڑکوں کی تعمیر اور بند ائیرپورٹ کو کھولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم ویسے بھی مسائل اجاگر کرنے اور دعا کرنے کے علاوہ کوئی طاقت نہیں رکھتے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
750 total views, no views today


