اٹھائیس جولائی 1969ء کی شام ریاست کے ادغام کا اعلان ہوا۔ سولہ اگست 1969ء تک والی صاحب حسب معمول ریاست کاانتظام چلاتے رہے، اُسی دن ملاکنڈ کے پولی ٹیکل ایجنٹ ہمایون نے سیدوشریف آکر عارضی طور پر چارج لے لیا۔ چند دن بعد عزیز الحسن نے بہ حیثیت ڈپٹی کمشنر کے اختیارات سنبھال لئے۔ ادغام کے فرمان کے رو سے حکمران سوات کے تمام اختیارات اُن کو منتقل کردیئے گئے تھے اورانہوں نے اپنے خطوط پر ضلع کا نظام چلانا شروع کیا اور یوں یوسف زئ قبیلے کے سنہری دور کا اختتام ہوگیا اور لوگ ایک عظیم محسن اور عظیم الشان حکمران سے محروم ہوگئے ۔
حال ہی میں ایک نجی چینل سے ایک پروگرام نشر ہوا۔ اس میں سابقہ ریاست خیر پور کے پرنس علی رضا نے پروگرام کے اینکر کو بتایا کہ خیر پور کے ادغام کے بعد اُن کے لوگوں پر بھیڑئے، گیدڑ اور گدھ مسلط کردیئے گئے۔ عین اسی طرح کا سلوک سواتیوں سے روا رکھا گیا۔ نئی سیٹ اپ کے لیے تمام عملہ بہ شمول کلرک وغیرہ کے ملاکنڈ اور دیگر اضلاع سے لایا گیا۔ یہ لوگ خود کو فاتح اور سواتیوں کومفتوح سمجھنے لگے۔ چھوٹے سے چھوٹا کلرک بھی خود کو کمشنر سے کم نہیں سمجھتا تھا۔ اس قسم کی نچلی سطح کے ذہنیت والے اہلکاروں کی وجہ سے نیا سیٹ اپ نفرت پھیلانے کا سبب بنا۔
سوات ایک بڑی ریاست تھی جو اَب پانچ اضلاع میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اس کا رقبہ چار ہزار مربع میل تھا اور یہ چار انتظامی یونٹ پر مشتمل تھی۔ حاکمی پٹن، حاکمی الپورء، حاکمی بونیر ڈگر اور خاص سوات۔
ابتداء میں یہی سیٹ اپ بر قرار رہا اور ہر یونٹ میں ایک اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ سوات میں ایک اے سی کے علاوہ دو ای اے سی اور ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لگائے گئے۔ ان افسران میں جو سی ایس پی تھے، اُن کا رویہ مہذبانہ تھا۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معزز خاندانوں کے نوجوان ہوا کرتے تھے لیکن جو رینکس سے اوپر آئے تھے، اُن کی ذہنی سطح پٹواری سے اوپر نہیں گئی تھی اور اُن کا طرز گفتگو اور انداز تخاطب وہی عامیانہ اور توہین آمیز تھا۔
اس قسم کے انتظامی افسر بات بات پر سواتیوں کو تحقیر کا نشانہ بناتے تھے۔ خصوصاً سیدو شریف میں ایک اے سی صاحب کا تو تکیہ کلام ہی گالی تھا۔ دفتر میں آئے ہوئے سائیلین کو بات بات پر جھڑکنا اُن کا وطیرہ تھا۔ عام لوگوں کے علاوہ ریاست کے وہ ملازمین جو نئے سیٹ اپ میں کھپا دیئے گئے تھے، وہ بھی موصوف کی زبان سے محفوظ نہیں تھے۔ اس تعفن بھری فضاء میں ڈی سی عزیز الحسن صاحب کی ذات ایک مینارۂ نور کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ وہ نہایت ہمدرد اور مخلص افسر تھے۔ ان کو سواتیوں کے جذبات کا بھر پور احساس تھا اور نئی انتظامی امور سے ان کی ناواقفیت کو در گزر کرتے تھے۔ خود ہی سمجھاتے تھے اور نہایت نرمی اور پیار سے ما تحت عملے سے کام لیتے تھے۔
باہرسے آنے والے کیا افسر اور کیا کلرک، سب نے سوات کی لوٹ کھسوٹ شروع کردی۔ جو اہلکار ایک بریف کیس ساتھ لے کر آتا تھا، تو ٹرانسفر ہوتے وقت تین چار ٹرکوں میں اس کا گھریلو سامان بہ مشکل سما سکتا تھا اور ٹرک بھی بیگار میں پکڑے جاتے تھے۔ ان لوگوں نے سرکاری رہائش گاہوں سے نہ صرف پنکھے اتروائے بلکہ کئی ایک تو لکڑی کے دیوار گیر الماریاں بھی نکال کر ساتھ لے گئے۔ ایسی بدبو کی فضامیں جب میں ڈی سی صاحب عزیز الحسن خان کے بارے میں سوچتا، تو مجھے حیرت ہوتی کہ
’’ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں ہے‘‘
ایک شام کو جب شدید بارش ہورہی تھی میرے افسر اور میں، ڈی سی آفس میں اُن کے ساتھ ایک پی سی ون پر بحث کررہے تھے۔ میرے جو افسر تھے وہ انگریزی سے نابلد تھے۔ بحث کے دوران میں ڈی سی نے مجھے کہا: ’’بیٹا! میرے پاس فنڈز زیادہ ہیں، تم اسی پی سی ون میں ایک ’’لیپروسیم ‘‘ (Leprosium)ڈال دو۔‘‘ میں نے کہا: ’’سر! وہاں پر ریاست کے دور کا قائم کردہ لیپر وسیم پہلے سے موجود ہے اور ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ اس علاقے میں سرکاری رہائش گاہوں کی کمی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں، تو ہم اس میں دو تین رہائشی کوارٹرز بڑھائیں گے۔‘‘ وہ بہت خوش ہوئے اور میری تجویز سے اتفاق کیا۔ جب ہم اُن کے آفس سے نکل رہے تھے تو انہوں نے مجھے پھر آواز دی: ’’بیٹا! تمہارا نام؟‘‘ میں نے اپنا بتایا، تو انہوں نے اپنے سامنے پڑے پیڈ پر نوٹ کیا اور بعد میں اکثر مختلف مواقع پر مجھے بلاتے رہے۔ باہر آکر میرے افسر نے پوچھا: ’’یہ کیا چیز ہے جو صاحب پوچھ رہے تھے؟‘‘ میں نے ان سے کہا: ’’جی! یہ جذام کے ہسپتال کو کہتے ہیں۔‘‘ ایک اور افسر جس نے ہم اسٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے اہلکاروں کو بی اینڈ آر کے قوانین و ضوابط اور طریقۂ کار کی تربیت نہایت جان فشانی سے کی اور ایک مشفق اُستاد کی طرح ہمیں پڑھایا سکھایا، وہ ہمارے ایکسین عبدالرحیم خان تھے۔ ان کا تعلق ڈی آئی خان سے تھا۔ نہایت لمبے دراز قد اور اتنے ہی موٹے۔ بہت زندہ دل، وہ پہلے موجودہ پولیس لائن کے رسٹ ہاؤس میں مقیم تھے۔ بعد میں چلڈرن پارک کے قریب کالج کالونی کے ایک بنگلے میں شفٹ ہوگئے۔ وہ ڈرائی فروٹ بڑے شوق سے کھاتے تھے اور ہم سب کو کھلاتے تھے۔ ہم نے جو کچھ سیکھا اور جو ریٹائرمنٹ تک ہمارے کام آیا۔ اُن ہی کا سکھایا ہوا تھا۔ اللہ سے دعا ہے کہ عزیز الحسن خان اور عبدالرحیم خان کے درجات بلند فرمائے۔
738 total views, no views today


