خوازہ خیلہ ،اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیل دار خوازہ خیلہ نے عدالتی حکم امتناعی کے باجود میرے رہائشی مکان کو مسمار کیا ، سامان سے بھرا اور اہل خانہ سمیت گھر مسما ر کرنا ظلم کی انتہا ہے ، انصاف دلائی جائے ۔ ، محمدرشاد ، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تحصیل خوازہ خیلہ کے رہائشی محمد رشاد نے میڈیا کو اپنا فریاد سناتے ہوئے کہا کہ طویل عرصہ سے اپنے گھر میں رہائش پذیر ہوں جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے مجھے گھر مسمار کرنے کا نوٹس دیا تھا ، جس کے جواب میں میں نے عدالت سے رجوع کرکے حکم امتناعی حاصل کی تھی ، میں نے قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ انوار الحق اور تحصیلدار خوازہ خیلہ قمر زمان کو زبانی طور پر آگاہ کیا تھا کہ مجھے مذکورہ گھر کے حوالے عدالت سے حکم امتناعی میں توسیع کا حکم مل چکا ہے، اور تھوڑی دیر میں پہنچنے والا ہے اس سلسلے میں علاقے کے مشران محمد شاہی خان ودیگر نے بھی حکم امتناعی کے یقین دہانی کی کوشش کرائی لیکن انہوں سنی ان سنی کردی انہوں نے زبانی اور فیکس کے ذریعے حکم امتناعی قبول کرنے سے ا نکار کرتے ہوئے زبردستی میرے رہائشی مکان کو مسمار کیا جس سے میرا لاکھوں کا نقصان ہوچکا ہے ، اور میرے خاندان کو ذہنی آذیت سے دوچار کردیا ہے ، انہوں چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سوات سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے ۔
710 total views, no views today


