سوات میں مکتب اسکولوں کی بندش اور چار ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کی کالجوں میں داخلوں سے محرومی کے خلاف الف اعلان اور آئی وائی ایف کے زیرا ہتما م آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں سوات کی تمام سیاسی پارٹیوں کے اہم عہدیداروں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر مکتب اسکولوں کی بحالی اور طلبہ و طالبات کو داخلے دینے کے حق میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں حکمران سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی سلیم الرحمان، عبدالمنعم نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الف اعلان کے نمائندے ڈاکٹر جواد اقبال نے فیکٹ اینڈ فگرز پیش کئے، جس موجودہ تعلیمی صورتحال، مکتب اسکولوں کے خاتمے اور ایف اے؍ ایف ایس سی سے محروم طلبہ وطالبات کی تعداد اور مسائل ومشکلات شامل تھیں۔ ڈاکٹر جواد کے بقول اس سال ایف اے؍ ایف ایس سی سے محروم طلبہ وطالبات کی تعداد چارہزار آٹھ سو کے قریب تھی۔ جہانزیب کالج میں ایک ہزار، ڈگری کالج میں ایک سو اسی اور اسی تناسب سے دیگر کالجوں میں طلبہ کو داخلے مل گئے جبکہ جہانزیب کالج میں چھ ہزار فارم اور ڈگری کالج میں تین ہزار فارم جمع کئے گئے تھے۔ سوات میں مزید کالج نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات محروم ہوگئے ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟یقیناًوہ بچہ تعلیم کو خیر باد کہہ دیگا اور جب بڑا ہوگا، تو معلوم نہیں امن پسند ہو گا یا شدت پسند؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب ہمیں بیس سال بعد ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکتب اسکولوں سے پرائمری اسکول دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، جب اسکول اتنے دورہونگے، تو کیا چار سال سے لیکر آٹھ سال تک بچہ اتنا سفر کرسکے گا؟
ڈاکٹر جواد نے اعداد وشمار پیش کرنے کے بعد مکتب اسکولوں کی بندش اور ایف اے؍ ایف ایس سی داخلے سے محروم طلبہ وطالبا ت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی پارٹیوں کے عہدیداروں سے تجاویز دینے کو کہا۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ اس موقع پر کس نے کیا کہا۔
کانفرنس میں سب سے پہلے دعوت پاکستان مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری عمر فاروق کو دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر خیبر پختونخو ا اور ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرے، جس طرح سیلاب کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی نافذ ہوجاتی ہے اور ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہو جاتا ہے، اسی طرح صوبائی اور مرکزی حکومت ضلع سوات میں تعلیمی ایمرجنسی کے تحت کالج اور اسکول تعمیر کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی ایز اور ایم این ایز پر بھی زور دیا کہ وہ بھی اسمبلی فلور پر یہ معاملہ اٹھائیں اور کم از کم دس سال تک تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا بل منظور کروائیں۔ اس سے بیروز گاری کم ہو جائے گی اور طلبہ وطالبات کے تعلیمی مسائل ختم ہو جائیں گے۔
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے سلیم الرحمان نے کہا کہ محکمۂ تعلیم سوات، تعلیم اور طلبہ وطالبات کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اس ساری صورتحال کے ذمہ دار اساتذہ ہیں جو اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر پاتے۔ ان کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے اور خصوصاً پہاڑی علاقوں کے اساتذہ تو بالکل ڈیوٹی نہیں دیتے۔ پہلے وہ نوکری کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، جب ان کو ڈیوٹی دی جاتی ہے، تو پھر وہ اپنے تبادلے کروالیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملاقات کے دوران میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے اسکولوں اور کالجوں کے قیام کے بارے میں بات چیت ہورہی تھی، تو سوات میں اسکولوں اور کالجوں کے نہ بننے کا گلہ کیا گیا، جس کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ پہلے ہم سوات تعلیم کیلئے آتے تھے، اب لوگ دیر آیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ ہم مکتب اسکولوں کی بندش کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کیساتھ اس مسئلہ پر بات کرینگے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سابق وزیر قاری محمود نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اس قوم کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم ہی کی بدولت ملک اور مذہب سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نصاب تعلیم پر بھی توجہ دینی چاہئے، تاکہ بچے کو تعلیم کیساتھ تربیت بھی دی جاسکے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اسمبلی فلور پر یہ معاملہ اٹھائیں تاکہ غریب طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند نہ ہوسکیں۔
صوبائی حکومت میں اتحادی جماعت، جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری حافظ اسرار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مکتب اسکولوں کی بندش اور طلبہ وطالبات کی تعلیم میں حائل مسئلہ ایک علاقائی مسئلہ ہے اور اس کے حل کیلئے سب متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکنڈ شفٹ تعلیمی اداروں میں فی الفور شروع کیا جائے، تاکہ کچھ نہ کچھ طلبہ و طالبات کو فائدہ تو پہنچے۔ انہوں نے مکتب اسکولوں کی بحالی کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کی حالت بھی درست کرے اور اس کیلئے فی الفور فنڈز مہیا کئے جائیں۔ ایم ایم اے اور اے این اے کے دور حکومت کو لوگ دیکھ چکے ہیں اور اب ان کی نظریں پی ٹی آئی حکومت پر ہیں کہ وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے کیا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بچہ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اور حکومت اس کو اس کا حق نہیں دے رہی، تو پھر وہ کیا کرے گا؟ اس کا ہمیں ادراک ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ایم این اے سید جعفر شاہ نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ دو سال سے سوات میں ترقیاتی کاموں اور نئے اسکولوں کی تعمیر کی کوئی اینٹ نہیں رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ایک قرار داد جمع کی ہے کہ پانچ سے سولہ سال تک بچے کی تعلیم کا حق حکومت کی ذمہ داری ہے، یہ قرار داد ابھی تک اسمبلی فلور پر بحث کیلئے سامنے نہیں لائی جاسکی۔ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ اور بہت سارے مسائل ہیں اور آپ ہمیں ایک اور مسئلے میں الجھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے فنڈ ز لیپس ہوتے ہیں، کوئی نہیں پوچھتا۔ پورے صوبے میں بتیس ہزار اساتذہ کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں جبکہ صوبائی حکومت دوہزار پندرہ؍ سولہ میں آٹھ ہزار لوگ بھرتی کرے گی، یہ کتنی ناانصافی ہے! انہوں نے کہا کہ سوات کی تعلیمی صورتحال اور یونیورسٹی کی انتظامیہ سے ہم خوش نہیں ہیں جس مقصد کیلئے یونیورسٹی قائم کی گئی تھی، وہ پورا نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مکتب اسکولوں کی بحالی اور پی پی سی کالجوں کی دوبارہ بحالی پر اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی دور میں ہر سال چار مکتب اسکولوں کو پرائمری کا درجہ دیکر اس کی عمارت بنائی جاتی تھی، لیکن یہاں تو مکتب اسکول کو ہی ختم کیا جارہا ہے۔
اے این پی سوا ت کے صدر شیر شاہ خان نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دی، تو اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی۔ ملائشیا میں اسکولوں میں دن میں تین شفٹ ہوتے ہیں جس سے طلبہ و طالبات استفادہ کرتے ہیں، تو پھر پاکستان میں کیوں یہ پروگرام جاری نہیں ہو سکتا؟ انہوں نے کہا کہ اے این پی اس معاملہ میں مکمل سپورٹ کرے گی۔ چاہے اسمبلی کے فلور پر ہو، احتجاج ہو یا جرگہ ہو ہم اپنے سواتی عوام کیلئے ہر قربانی دینگے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر سلیم خان نے کہا کہ سیلاب آتے ہیں، دہشت گردی آتی ہے، زلزلے آتے ہیں لیکن ہم کو ئی پلاننگ نہیں کرتے۔ جب سب کچھ ہمارا برباد ہو جاتا ہے، تو ہم کچھ وقت کے لیے جاگ جاتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ سوات میں تعلیمی بحران اپنے عروج پر ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سواتی عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کالجز کو اپ گریڈ کیا جاتا ہے لیکن وہ اپ گریڈ نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مسئلہ پر ایک ہونا ہو گا اور اس کے حل کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں ملک ریاض اور فضل الرحمان نونونے کہا کہ ہمارے علاقہ میں چار مکتب جبکہ ایک پرائمری اسکول ہے۔ اگر یہ چاروں اسکول ایک پرائمری اسکول میں ضم ہونگے، تو طلبہ پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ انہوں نے کہا کہ اس پرائمری میں جو بچے پڑھتے ہیں، وہ کلاس روم میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے برآمدے میں بیٹھتے ہیں، تو جب مکتب اسکول کے بچے وہاں شفٹ ہوں گے، تو پھر کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو مکتب اسکولوں کے خاتمہ سے قبل متبادل انتظام کرنا چاہئے، تاکہ طلبہ وطالبات تعلیم سے محروم نہ ہوں۔ غریب بچوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ہم سب کو اکھٹا ہو نا ہوگا اور یہ مسئلہ ہر فورم پر اٹھا کر فوری طور پر حل کرنا ہوگا۔
قومی وطن پارٹی کے صوبائی رہنما فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مکتب اسکولوں کا قیام غیر جماعتی حکومت کے دوران میں ہوا، جس میں گھر کے اندر اسکول شروع کئے گئے، تاکہ وہ سبق پڑھیں اور اس ملک کیلئے کچھ اچھا کریں۔ اس وقت ضلع بھر میں دو سو ستاون اسکولوں کا قیام عمل میں لا یا گیا تھا، اس دور میں پرائمری اسکولوں کو مڈل اور مڈل کو ہائی کا درجہ دیا جاتا تھالیکن آج ہم نئے اسکول تو درکنار پرانے اسکولوں کو ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکتب اسکولوں کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا مکتب اسکول کا استاد اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے انجام دے رہا ہے یا وہ اسکول کے بچوں سے اپنے چھوٹے موٹے کام لے رہا ہے۔ سوات میں نئے پرائمری، مڈل، ہائی اسکول اور کالجز بننے چاہئیں، تاکہ غریبوں کے بچوں کو بھی وہی مواقع مل سکیں جو امیروں کے بچوں کو ملتے ہیں۔
آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے والے اہم ممبر صوبائی اسمبلی اور مشیر وزیر اعلیٰ عبدالمنعم خان نے اپنے خطاب کے دوران میں کہا کہ مکتب اسکولوں کا خاتمہ اور ایف اے؍ ایف ایس سی میں داخلوں سے محروم بچوں کا معاملہ ایک انتہائی اہم ایشو ہے۔ صوبائی حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ موجودہ حکومت تعلیم کی شرح بڑھانے کیلئے کام کررہی ہے۔اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اسکول نہیں بن رہے، تو یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ ضلع شانگلہ میں اس وقت نو اسکولوں کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ پہلے چھ کمروں کا اسکول بنتا تھا، اب نو کمروں کا اسکول بنے گا۔ صرف اُن مکتب اسکولوں کو ختم کیا جا رہا ہے جن میں بچوں کی تعداد صرف دس تک ہے۔ ایک کلومیٹر تک نزدیک اسکول ہونے کے بعد مکتب اسکول کو ختم کیا جائے گا جبکہ اگر فاصلہ ایک کلومیٹر سے زیادہ ہوگا، تو پھر یہ بدستور کام کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم پلاننگ نہیں کرتے۔ یم یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگرآل پارٹیزکانفرنس کے بعد جرگہ ہو یا کوئی وفد اس کا رہبر میں ہونگا۔ آپ میرا ساتھ دیں جہاں بھی با ت ہوگی، ہم کرینگے۔
صحافی فضل خالق نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کے دوران میں کہا کہ ریاست کے دور میں ایک پلاننگ کے تحت اسکول، اسپتال اور سڑکیں قائم کی گئی تھیں اور جو پلاننگ والئی سوات (میاں گل جہانزیب) نے کی تھی، انہوں نے اس پلاننگ کو سو فیصد مکمل کیا۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ والئی سوات کے دور میں کتنے اسکول بنے ہیں اور ریاست کے ادغام کے بعد کتنے بنے، اس سے حکومتی کارکردگی کا اندازہ آپ کو بخوبی ہو جائے گا۔
گلوبل پیس کونسل کے سابق صدر احمد شاہ نے کہا کہ اینول ڈویلپمنٹ پروگرام میں تعلیم کیلئے اچھی خاصی رقم مختص کی جانی چاہئے، ہماری اے ڈی پی میں دو فیصد تعلیم کیلئے رکھے گئے ہیں جبکہ اس کو چار فیصد تک بڑھایا جانا چاہئے۔ سوات میں شرح تعلیم صرف انتیس فیصد ہے۔ اس شرح تعلیم کو بڑھانے کیلئے حکومت کو نئے اسکول اور کالجز بنانا ہونگے۔ خاص کر اپر سوات میں کالجز کا جو مسئلہ ہے، اس کو فی الفور حل کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم اپنے بچوں کو پھر جواب نہیں دے سکیں گے۔
آل پارٹیز کانفرنس کے دوران میں سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی اور صحافیوں نے مکتب اسکولوں کی بندش اور طلبہ و طالبات کو داخلے دینے کے حق میں قرار داد منظور کی جبکہ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ آگے جو بھی قدم اٹھائے جائے گا، مل کر اس مٹی کی فلاح کے لئے اٹھایا جائے گا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
836 total views, no views today


