کون ہے یہ عام آدمی؟ وہ جس کے بارے میں ہمارے وزیر صاحب اکثر کہتے سنے جاتے ہیں: ’’ان کی زندگی پر بجلی کی فی یونٹ اضافے سے اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔یہ اضافہ اتنے یونٹ سے اوپر والوں تک کے استعمال کرنے والوں پر اثر ڈالے گا۔‘‘ اور یا عام آدمی سے مراد وہ انسان ہے جس کے بارے میں وزیر خزانہ صاحب منہ سے پھول جھڑتے ہوئے گویا ہوتے ہیں: ’’یہ بجٹ عام آدمی کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات پڑیں گے۔‘‘ حالاں کہ اکثر بجٹ میں مہنگائی اور ٹیکسز کی بھر مار ہوتی ہے۔ اسے کہتے ہیں ’’عوام کی آنکھوں دُھول جھونکنا۔‘‘ یا عام آدمی شائد وہ ہوتا ہے جس کے لیے مصائب ہمیشہ ایسے تیار کھڑے رہتے ہیں جیسے سمندر کی لہروں کے سامنے خس و خاشاک کے تنکے۔ اگر مفادات کی اندھی جنگ ہو،تو بھی عام آدمی ہی اس کا نشانہ بنتا ہے۔ یہ وہ شودر ہے جو ہمیشہ زمانے کی ٹھوکروں پر ہوتا ہے۔ اسے بجلی سے محروم بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے نام پر سیلاب فنڈ، دہشت گردی فنڈ، ترقیاتی فنڈ، صحت فنڈ، تعلیمی گرانٹ، غربت مکاؤ فنڈ اور بہت سے دیگر معلوم و نامعلوم آسانی سے ہمارے خواص اپنی توندوں میں اُنڈیل سکتے ہیں۔ جمع کے صیغے میں اس کو عوام بھی کہتے ہیں۔ جنہیں چوپائے سمجھا جاتا ہے۔ جن کے دودھ سے چند خاندان اور جاگیردار ہمیشہ سے پلتے آرہے ہیں۔ عوام کو قوت کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان کے ووٹوں سے سنیما میں ٹکٹ بیچنے والے اور چھوٹے بڑے دکاندار ’’زرداری‘‘ اور ’’فونڈریوں‘‘ کے مالک بن جاتے ہیں۔ اور ساری عمر ان کی گردنوں پر سوار ہوتے رہتے ہیں مگر ان عوام کے پلے کچھ بھی نہیں پڑتا۔ یہ صرف راستوں کو جاگ کر مچھروں سے ہاتھا پائی میں مصروف رہتے ہیں۔ اور ان کے ووٹ سے طاقت کے سر چشموں تک پہنچنے والے قمقموں کی روشنی میں اور اے سی کی ٹھنڈی پھواروں میں اپنی بیگمات اور بچوں کے ساتھ ہنستے مسکراتے، کچھ پیتے کچھ کھاتے، سرکاری خرچے پر بیرون ملک کے دوروں کے منصوبے بناتے ہیں یا عوام کے منہ کے نوالے کرنسیوں میں ڈھال کر عرب ممالک کے بینکوں میں جمع کرتے رہتے ہیں (ماضی میں یہ کرنسیاں سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع ہوا کرتی تھیں)۔ ان لوگوں کو عوام کی حالت کا کوئی ادراک نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ غریب عوام کے لیے زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور بجلی کتنی اہم ہے؟ کیوں کہ ان کرسی والوں نے کبھی بھوک نہیں دیکھی، کبھی لوڈ شیڈنگ کے تاریک عذاب اور اذیت سے نہیں گزرے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اُس نائی کا ذکر کروں جو وقت کے بادشاہ کی زلفیں آراستہ کرتے ہوئے ہمہ تن گوش تھا۔ بادشاہ پوچھ رہا تھا کہ میرے رعایا کی کیا حالت ہے؟ نائی نے کہا: ’’جناب عالی لوگ روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ بے روزگاری عام ہے۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل کر چنگھاڑرہا ہے۔ امن وامان کی حالت مخدوش ہے۔‘‘ بادشاہ نے فرمایا: ’’مگر وزیر با تدبیر تو کہہ رہے تھے کہ رعایا بالکل خوش حال ہے۔ ہر طرف چین ہی چین ہے۔‘‘ قصہ مختصر عالم پناہ نے وزیر کو بلوایا۔ اُس نے بھی اس بات کی دوبارہ تصدیق کی۔ چند دنوں بعد پھر عالم پناہ صاحب نے دوبارہ نائی صاحب سے پوچھا، تو پھر وہی نتیجہ کہ عوام کی حالت قابل رحم ہے۔ آخر بادشاہ نے تنگ آکر نائی صاحب کو وزارت داخلہ کا قلم دان تھما دیا۔ عالی شان گھر اور آسائشیں موصوف کو مہیا کر دیں۔ چند ماہ بعد ایک دوپہر کو بادشاہ سلامت نے سابقہ نائی و حال کے وزیر داخلہ سے وہی سوال پوچھا، تو وزیر داخلہ صاحب نے نہایت ادب سے سر جھکاتے ہوئے کہا: ’’عالم پناہ، راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ عوام خوشحال ہیں۔ آپ کے حسن انتظام اور عوام پروری کے ہاتھوں بس دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں‘‘۔ قارئین کرام! آج یہی صورتِ حال اس ملک کے عوام کے ساتھ ہے۔ کسی بھی آفت کے موقع پر ہمارے بڑے عوام کے سامنے ہمدردی کے نہر بہا کر دوچار فوٹو اخبار میں لگواتے ہیں، مگر اُن کی مصیبتوں کا کوئی حل نہیں نکلاتے۔ کیوں کہ ہم عوام ایک کمینے سماج کے پھوڑے، پھنسیاں ہیں اس سماج کے بدن میں زہر کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سماج نا انصافی کی بنیادوں پر قائم سماج ہے۔ ہمارے بڑے جو ماضی میں انگریزوں سے اورآج امریکہ سے مراعات پاکر عزت کا نان کلچہ کھا رہے ہیں۔ صرف اسی وجہ سے کہ عوام منتشر اور بے شعور ہیں۔ کیوں کہ زندگی بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر اُنہیں متحد ہونے اور کچھ سونے اور کرنے سے روکا جارہا ہے۔ اُنہیں طبقات میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ ہماری بیوروکریسی جو جھوٹ بولنے میں صاحب کمال اور دھوکہ دینے میں استاد کا مل سمجھی جاتی ہے، عوام میں بے چینی کا بیچ بو رہی ہے۔ رشوت کے پہیوں پے فائلوں کو آگے بڑھاتی ہے اور اقربا پروری میں کمال رکھتی ہے۔ یہ نوکر شاہی حکومت کے ہاتھ پاؤں ہوتے ہیں۔ جو عوام کے ہاتھ پاؤں توڑنے کو اپنا مشغلہ سمجھتے ہیں۔ صرف چند فی صد کے علاوہ سب عوام کا خون چوسنے کو ہی زندگی کا اصل مقصد سمجھتے ہیں۔ یہ سب نفس کے بندے اور غلام ہیں۔ بارش کا ایک قطرہ بنجر اور تپتی زمین کو سیراب نہیں کرسکتا مگر یہی قطرے جب آپس میں ملتے ہیں، تو سیلاب بن جاتے ہیں۔ اس باطل اور بے انصاف نظام کو بدلنے کے لیے اس دھرتی کے مظلوم ’’عام آدمی‘‘ کو بھی عوامی سیلاب بننا ہوگا۔ منتشر سروں کے ہجوم کو ایک قوم بننا ہوگا۔ ایک چیونٹی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، مگر جب لاکھوں کی تعداد میں کسی پر حملہ آور ہوں، تو نیم جان بیمار شیرکو بھی چٹ کر جاتی ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے عوام کو ایک ہونا ہوگا۔ پھر ظلم کی دیوارِ برلن اور وقت کا ظالم نیم جان شیر اُن کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوگا، مگر سب سے اہم بات ایک مخلص اور مزدور لیڈر کی ہے، جو بھٹو اور زرداری و نواز کی طرح جاگیردار نہ ہو بلکہ وہ رجل عظیم اور وہ راہنما ہو جس نے عوام کے درمیان رہ کر غربت اور بھوک کی سسکیاں سنی ہوں اور اس کا درد اور اذیت محسوس کی ہو۔ جس نے بے انصافی کی آگ محسوس کی ہو۔ حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جو جدوجہد اور حقوق کی جنگ میں سب سے آگے ہوتا ہے اور جب کامیابی کے ثمرات سمیٹنے کا موقع آتا ہے، تو سب سے پیچھے ہوتا ہے۔ امیر حکمرانوں اور غریب عوام کے اس بدقسمت ملک میں صرف ایک مزدور اور غریب کا بیٹا ہی اس قوم کی ڈوبتی ناؤ کو ساحل مراد تک پہنچا سکتا ہے۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا بیٹا نہیں۔ اس موروثی سیاسی بندر بانٹ سے قوم کو نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اگر شیروں کی راہنمائی کسی بھیڑ کے ہاتھوں میں دی گئی، تو ہمارا انجام وہی ہوگا جو میر جعفر کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہوا تھا۔
764 total views, no views today


