اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)اور پنجاب کا الیکشن کمیشن ایک ہی ہے اس لئے الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ ہم ضمنی انتخاب ہار جائیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ اس ملک کا انتخابی نظام ایسا ہے کہ اسمبلیوں میں جانے کے قابل لوگ انتخابات لڑ ہی نہیں سکتے، پاکستان میں الیکشن کےنام پربہت بڑافراڈ ہوتا ہے،الیکشن کمیشن کو ٹھیک کئے بغیر نظام ٹھیک نہیں کیا جاسکتا، اگر دھاندلی ہوتی رہی تو ملک میں تبدیلی کبھی نہیں آسکے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں انصاف کے نظام میں کئی خامیاں ہیں یہاں تک کہ مجھے خود انصاف کے حصول میں ڈھائی سال لگ گئے تو عام آدمی کا کیا ہوگا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے جسے گلو بٹ بنا دیا گیا ہے جب کہ لوگ پولیس سے خوفزدہ ہیں، الیکشن ٹریبونل کے جج کاظم علی ملک نے بھی کہا کہ انہیں دو وزیروں نے دھمکیاں دیں، مسلم لیگ (ن)اور پنجاب کا الیکشن کمیشن ایک ہی ہے، الیکشن کمیشن کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف ضمنی انتخاب میں کامیاب نہ ہو جب کہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں پھر بھی انتخابی مہم سے روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف ہر جگہ اپنے امپائر کے ساتھ ہی میچ کھیلتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا این اے 122 کے ہر پولنگ اسٹیشن پر تحریک انصاف کے کارکن موجود ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے پہلے کہا کہ عمران خان الیکشن چھوڑ کر بھاگ جائے گا لیکن ضمنی انتخاب سے گیارہ دن پہلے انہوں نے حکم امتناعی لے لیا جب کہ سعد رفیق اور ایازصادق بھی اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپے رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہیں دی اگر انہوں نے وہاں جلسہ کیا تو تحریک انصاف کے جنونیوں کو جواز بنا کر حکومت کوئی بھی اقدام کرسکتی ہے، اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 4 اکتوبر کو اعلان کردہ جلسہ نہیں ہوگا اس کے بجائے 9 اکتوبر کو لاہور میں جلسہ ہوگا جس کے بعد اسلام آباد میں جلسہ عام کیا جائے گا۔
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں پارٹی اجلاس ہوا، جس میں جہانگیرخان ترین، اسدعمر، نعیم الحق، فیصل جاوید خان اور دیگر پارٹی رہنماء شریک ہوئے، اجلاس میں این اے 154 سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم، این اے 122 میں ضمنی انتخاب اور4 اکتوبرکو اسلام آباد میں اعلان کردہ جلسے سے متعلق امورپرفیصلہ تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں 4 اکتوبرکا جلسہ موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے دفترکے سامنے جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے اور 11 اکتوبر کو این اے 122 میں ضمنی انتخاب کے باعث جلسے کی جگہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
351 total views, no views today


