مینگورہ، سیدوشریف میں سوات میڈیکل کمپلیکس کے نام سے قائم پرائیویٹ ہسپتال مریضوں کو سہولت دینے کی بجائے زحمت دینے لگا،غلط تشخیص کے سبب مریض پریشانی میں مبتلا،ہسپتال میں طبی سہولیا ت کا فقدان،ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی سے تحقیقات کا مطالبہ،سوات کے صدر مقام سیدوشریف میں واقع سوات میڈیکل کمپلیکس کے نام سے قائم پرائیویٹ ہسپتال میں مریضوں کیلئے سہولت نام کی کوئی چیزموجود نہیں،اس سلسلے میں مینگورہ کے رہائشی شوکت علی چھ نومبرکی شام کو اپنی والدہ جو دل کی مریضہ ہے کو مذکورہ کمپلیکس لے گیاجہاں پرموجود اعلیٰ سرجن اوراعلیٰ انستھیسزیاڈاکٹرنے معائنہ اورتمام ٹیسٹ کرانے کے بعد بتایا کہ ان کا اپنڈیکس کا اپریشن کرنا پڑے گا اوران کی ای سی جی کرانے کو کہاتاہم وہاں پر موجودای سی جی کی دومشینیں خراب تھیں اورایک مشین میں رول نہیں تھا کئی گھنٹے بعدڈاکٹروں نے بتایاکہ یہ اپریشن وہ یہاں نہیں کرسکتے لہٰذہ مریض کو پشاور لے جاؤ، جب ہم پشاور گئے اور معائنہ کرایا تو رپورٹ آنے کے بعدپتہ چلا کہ ان کی والدہ کو اپنڈیکس کی شکایت نہیں تھی ، سوات میں بڑی بڑی عمارتوں میں پرائیویٹ ہسپتال قائم ہیں مگر وہاں پر سہولت نام کی کوئی چیز موجود نہیں یہ پرائیویٹ ہسپتال مال بنانے کی فیکٹریاں بن چکی ہیں جہاں پر معائنہ اورمختلف ٹیسٹوں کی بھاری بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کا تو سناتھامگر پرائیوٹ ہسپتالوں میں سہولتوں کا نہ ہونا حیران کن ہے، ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی سوات میڈیکل کمپلیکس اوراس میں موجود ڈاکٹروں کی ڈگریوں کے حوالے سے تحقیقات کرے اوران سے دوبارہ امتحانات لئے جائیں تاکہ پتہ چلے وہ اس سے قبل صحیح طریقے سے امتحان پاس کرچکے ہیں یانہیں،دوسری جانب جب اس سلسلے میں سوات میڈیکل کمپلیکس سے ٹیلی فون نمبر 710282پررابطہ کرکے ان کا موقف معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو وہاں پر موجود ایگزیکٹیواہلکارنے کہاکہ اس سلسلے میں ڈاکٹر نثاراورڈاکٹرافتاب کیساتھ رابطہ کریں،واضح رہے کہ سوات میں شعبہ طب سے وابستہ افرادچندہی سالوں میں ارب پتی بن جاتے ہیں یہ علاقہ ڈاکٹروں کیلئے سونے کی چڑیا بن چکاہے۔
2,240 total views, no views today


