مینگورہ ، وزیراعظم کے دورے کے موقع پر مقامی مسلم لیگیوں نے گو نواز گو اور گو امیرمقام گو کے نعرے لگائیں دوسرے طرف ڈاکٹر خالد محمودخالد نے کہا ہے کہ متاثرین کے لئے آتے تو پہلے سوات آکر متاثرین کے غم میں برابر شریک ہوتے۔لیکن دورہ سوات کے موقع پر انہوں نے جہا ں نقصانات ہوئے ہیں۔وہاں وزیراعظم نہیں گئی۔جبکہ وہاں گیا جہاں اتنا نقصان نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی دورہ سوات سے عوام کی بہت امیدیں وابستہ تھے۔ کہ وزیر اعظم سوات آکر سیدو شریف یونین کونسل میں ہونے والے زیادہ نقصانات کے متاثرین سے ہمدردی کرینگے۔لیکن انہوں نے سیاسی دورہ کیا۔اور نہ وہاں آئے اور نہ سیدو شریف ہسپتال میں کیجولٹی ،سنگوٹہ میں کڈنی ہسپتال کا افتتا ح کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال سے سوات کو مرکزی حکومت نے نذر انداد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین زلزلہ سے وزیراعظم نے مذاق اڑایا ہے۔دو لاکھ سے ایک کمرہ نہیں بن سکتا۔تو گھر کس طرح آباد کرینگے۔آنے والا زلزلہ اللہ کی طرف سے امتحان تھا۔حکومت کو چاہئیں کہ زلزلہ زدگان سے امتحان نہ لیں۔اور دو لاکھ کی بجائے لوگوں کی گھروں کو حکومت خود تعمیر کریں۔وزیر اعظم سوات دورہ کے موقع پر سوات کے صحافیوں کو دعوت نہیں دی گئی۔اور سوات کے صحافیوں کو نظر انداز کیا گیا۔سوات میں وزیر اعظم کے دورہ کے موقع پر صحافیوں نے نظر انداز کر نے پر شدید احتجاج کیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم کے دورے کے موقع پر مقامی مسلم لیگیوں نے گو نواز گو اور گو امیرمقام گو کے نعرے لگائیں جبکہ مسلم لیگیوں کے علاوہ عام لوگوں نے بھی وزیراعظم پاکستان کا دورہ سوات کو انتہائی مایوس کن قرار دیا-
436 total views, no views today


