کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جب زندہ ہوں، تو ان کی قدر وقیمت اتنی زیادہ نہیں ہوتی، جتنا مرنے کے بعد ان کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کچھ دوستیاں لازوال ہوتی ہیں۔ دوست جب اس دنیا سے چلا جاتا ہے، تودوستی تو ختم ہوجاتی ہے، ساتھ زندہ دوست بھی بکھر کر چلتی پھرتی لاشیں بن جاتے ہیں اور دل اس وقت تک تڑپتا ہے جب تک روح قفس عنصری سے پرواز نہ کر جائے۔
بزرگ قوم پرست رہنما افضل خان لالا کی وفات کے بعد سوات میں جو سیاسی خلا پیدا ہو ا ہے، وہ شائد کبھی پر نہیں ہو۔ ان کی سیاست کی پوری دنیا معترف ہے۔ ان کی موت کا سن کر ان کے دیرینہ دوست بھی ایک ہفتہ بعد اس دنیا سے رحلت کرگئے۔ یوں ایک عہد کی تاریخ دونوں شخصیات کی رحلت کیساتھ منوں مٹی تلے دفن ہوگئی۔
قوم پرست رہنما افضل خان لالا کے دیرینہ دوست ’’محمد امین خان‘‘ تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں کوٹنی میں 1930ء کو پیدا ہوئے۔ اسی گاؤں میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔ سیاسی کیرئیر کا آغاز مزدور کسان پارٹی سے کیا۔ جب غریبوں کو حقوق دینے کی آواز بلند ہوئی، تو یہ نوجوان سب سے آگے تھے۔ کیونکہ محمد امین خان کا خون غریبوں، بے بسوں اور لاچار لوگوں کو حقوق دینے کے لئے ہی جوش مارتا تھا۔ مزدور کسان تحریک میں وہ ملاکنڈڈویژن کے صدر تھے۔ آپ نے حقوق کے حصول کیلئے بھر پور انداز میں تحریک چلائی۔ اپر سوات کے پہاڑوں میں گجر برادری نے محمد امین کا بھر پو رساتھ دیا اور یوں مذکورہ برادری علاقہ کے خان خوانین کی زمینوں اور گھروں پر قابض ہوگئی۔ جب خانوں کو معلوم ہوا، تو انہوں نے اپنی جائیداد کو واگزار کرانے کیلئے مسلح تحریک شروع کر دی۔ مزدور کسان اور خان خوانین میں کئی خونی تصادم ہوئے جس میں دونوں اطراف سے کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ قوم پرست رہنما افضل خان لالا کی قیادت میں خان خوانین نے اپنی زمینیں اور جائیداد گجر برادری سے واپس لے لیں جبکہ گجر برادری اپنے علاقوں کو چھوڑ کر چلی گئی۔ ان دنوں مزدور کسان پارٹی کمزور ہوئی اور اس کی جگہ پاکستان پیپلز پارٹی نے لی۔ ان دنوں ذوالفقار علی بھٹونے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند کیا، تو محمد امین جو کمزور اور غریب طبقہ کے لوگوں کی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد مزدور کسان پارٹی کے تمام عہدیدار اور ورکرز پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اس دور میں پیپلز پارٹی ملاکنڈڈویژن میں ایک مقبول سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ جب عام انتخابات ہوئے، تو اس میں پیپلز پارٹی نے سوات میں بھر پو رکامیابی حاصل کی اور ڈاکٹر محبوب الرحمان (مرحوم) ممبر صوبائی اسمبلی بن گئے۔ ان کے مخالف امیدوار افضل خان لالا تھے جن کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری بار جب قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے، تو اس میں بھی افضل خان لالا مرحوم کو شکست جبکہ پیپلز پارٹی کو کامیابی ہوئی۔ اس کے بعد افضل خان لالا کو محمد امین کی قابلیت، سیاسی سوجھ بوجھ اورمحنت کا اندازہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان جو تلخی تھی، وہ افضل خان لالامرحوم کی سیاسی سوجھ بوجھ کی وجہ سے کم ہونے لگی اوروہ محمد امین کو عوامی نیشنل پارٹی میں لانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد محمد امین نے زندگی کی آخری سانس تک ان کا ساتھ دیا۔ خاص کر زندگی کے آخری ایام دونوں رہنماؤں کے ایک ساتھ گزرے۔ محمد امین خان اکثر افضل خان لالا مرحوم کے حجرے میں ہوتے۔ ان کے ساتھ سیاسی، فلاحی اور علاقہ کے مسائل پر بات چیت ہوتی رہتی، جب خان لالا بیمار ہوئے، تو محمد امین ان کیساتھ زیادہ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے۔
محمد امین، خان لالا کی جدائی برادشت نہ کرسکے۔ جب تیسرے روز فاتحہ خوانی سے واپس گھر لوٹے، تو گھر والوں کوکہا کہ میرا دوست نہیں رہا۔ اب میرا بھی اس دنیا میں جی نہیں لگ رہا۔ گھر والوں نے ان کو تسلی دی مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ خان لالا مرحوم کی موت کو انہوں نے دل کا روگ بنالیا ہے۔ ایک ہفتہ تک وہ گم سم سے رہے اور اس کے بعداچانک ہی انھیں دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے اور اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے،آمین۔
محمد امین کے بیٹے محمد رشاد خان کیساتھ فاتحہ خوانی کے موقع پر ان کی تمام تر سیاسی جدوجہد کا علم ہوا، تو بڑا افسوس ہوا کہ اتنی قیمتی شخصیت اب ہم میں نہیں رہی۔ وہ رہنما جنہوں نے باچا صاحب، والئی سوات، مزدور کسان، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو ابھرتے دیکھا، پارٹی راہنماؤں کے فیصلوں اور جدوجہد کے چشم دید گواہ تھے مگر اب وہ آسودۂ خاک ہیں۔
مرحوم خان لالا اورمحمد امین دونوں اس دھرتی کا وہ تاریخی اور قیمتی اثاثہ تھے جنھیں کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا۔ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ بس یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ تاریخ ہم اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اور اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے، تو پھر اس کا افسوس ہمیں عمر بھر رہے گا۔
780 total views, no views today


