ہمارے وطن عزیز میں تو ہر کام الگ انداز میں ہوتا ہے لیکن ہمارے ٹی وی چینلوں پر جس طرح کے اشتہارات نشر ہوتے ہیں، ان اشتہارات اور اُن کمپنیوں کی مصنوعات میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تقریباً ہر کمپنی کے اشتہار کے بعد بندے کا دل چاہتا ہے کہ اس کمپنی کا پراڈکٹ اسی وقت لے لیا جائے، لیکن جن لوگوں نے تجربہ کیا ہوتا ہے، وہ پھر اُن اشتہارات اور ان میں ہونے والے دعوؤں پر عمل نہیں کرتے۔
برسبیل تذکرہ، کچھ سال پہلے ورزش نہ کرنے کی وجہ سے میرا وزن بڑھ گیا۔ اُن دنوں ٹی وی پر وزن کم کرنے والے ایک بیلٹ کا اشتہار دیکھا۔ طویل تر اشتہار میں بیلٹ کی جو خوبیاں بیان کی گئیں، اُس کے مطابق مذکورہ بیلٹ کو روزانہ تیس منٹ پیٹ پر لگانے سے آپ ایک ماہ میں دس کلو وزن کم کرسکنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اشتہار کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لئے آپ کو نہ تو ورزش کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کھانے میں پر ہیز کی۔ اور تو اور اشتہار میں گارنٹی کارڈ بھی ساتھ تھا اور پیٹ کم نہ ہونے کی صورت میں آپ کے پیسے بھی آپ کو واپس ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر اشتہار میں دئیے گئے نمبر پر رابطہ کیا اور کسٹمر سروس والے صاحب نے بتایا کہ فلاں دن آپ کے شہر میں ہمارا نمائندہ آئے گا۔ وہ آپ سے رابطہ کرلے گا۔ میں بے چینی کے ساتھ وزن کم کرنے والا ’’بیلٹ ‘‘ لانے والے صاحب کا انتظار کرتا رہا اور آخرِ کار ایک دن اس صاحب نے مجھے فون کر ہی دیا۔مجھے شہر کے ایک ہوٹل میں آنے کا کہا۔ صاحب نے پہلے میرے پیٹ کا ناپ لیا۔ اپنے ساتھ نوٹ کیا اور میرے وارنٹی کارڈ پر بھی لکھ کر مجھے دیا۔ بیلٹ میرے حوالہ کرنے کے بعد میں نے اُن دنوں اُن کو بیلٹ کی قیمت تین ہزار روپے ادا کردیئے۔ بیلٹ لے کر دفتر پہنچا۔حسب ہدایت روزانہ سخت گرمی میں، مَیں وہ بیلٹ پیٹ پر باندھ کر سوئچ بجلی میں لگاتا اور آدھے گھنٹے تک بیلٹ کی گرمی کا وہ اذیت ناک مرحلہ برداشت کرتا۔ پورا مہینہ اذیت برداشت کرنے کے بعد جب میں نے اپنا وزن کیا، تو اس میں سات کلو گرام کا اضافہ ہو چکا تھا اور سونے پر سہاگا یہ کہ پیٹ بھی تین انچ بڑھ چکا تھا۔ اس کے بعد کمپنی اور اُس کے نمائندے کو فون پر فون کرتا رہا لیکن کسی نے بھی نہیں اٹھایا۔ ایک اور نمبر سے کوشش کی، تو الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ انہوں نے اس کو میری غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا استعمال غلط ہے۔
گذشتہ دنوں ٹی وی میں ایک انرجی ڈرنک بنانے والی کمپنی کا اشتہار ٹی وی چینلوں پر نشر ہوا جس میں کچھ لڑکیاں شاپنگ کے بعد شاپنگ پلازہ میں خود کار سڑھیوں moving stairs پر چڑھتی ہیں کہ اچانک خود کار نظام بند ہو جاتا ہے اور سیڑھیاں رُک جاتی ہیں۔ اتنے میں ایک نوجوان پینٹ کی جیب سے مذکورہ انرجی ڈرنک نکالتا اور پیتا ہے۔ اس کے بعد وہ ورزش کی قسم کا ناچ ناچتا ہے اور سیڑھیاں خود بخود چلنے لگتی ہیں۔ اب مذکورہ انرجی ڈرنک بنانے والی کمپنی نے ایک اور اشتہار تیار کیا ہے۔ اشتہار میں کچھ لڑکے لڑکیاں ایک کشتی پر سمندر میں جا رہی ہوتی ہیں کہ اس دوران فنی خرابی کی وجہ سے کشتی رُک جاتی ہے اوراس میں سوار افراد کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اتنے میں ایک نوجوان جیب سے انرجی ڈرنک نکال کر پیتا ہے اور پھر ورزش نما ڈانس شروع کرتا ہے۔ کچھ ہی سیکنڈز میں کشتی میں لگے انجن کا پنکھا چلنا شروع ہو جاتا ہے اور یوں کشتی روانہ ہو جاتی ہے۔ اس اشتہار کو دیکھنے کے بعد مجھے نندی پور پاور پراجیکٹ یاد آیا جس کے قصے ہم ہر روز ٹی وی میں سنتے اور اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ نندی پور پاور پراجیکٹ ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے۔ اب ہماری حکومت اتنی نا اہل اور اتنی بے وقوف ہے کہ وہ نندی پور پراجیکٹ شروع نہ کرسکی۔ کبھی ایک بہانا تو کھبی دوسرا۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے حکمران اور خاص کر بجلی کے وفاقی وزیر یا وزیر مملکت تو ٹی وی دیکھتے ہی نہیں۔ اگر وہ دیکھتے اور یہ صاحب اُن کو نظر آجاتے کہ وہ پچاس روپے کا انرجی ڈرنک پی کر کس طرح کے کارنامے سر انجام دیتا ہے، تو یقیناًوہ ان صاحب کو بھاری تنخواہ پر نندی پور پاؤر پراجیکٹ میں لگاتے اور اُس انرجی ڈرنک کے کنٹینرز نندی پور میں جمع کراتے اور ان صاحب کو مسلسل وہ انرجی ڈرنک پلا کر پورا نندی پور پاور پراجیکٹ چلاتے۔ یوں ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی ہو جاتی۔
پچھلے دنوں میرے کپڑوں پر سالن گر گیا۔ سالن بھی فٹ پاتھ پر بننے والے بیف کڑاہی کا تھا جس میں پتا نہیں کہ وہ کونسے گھی کا استعمال کرتے ہیں۔ میرے گھر میں دو تین بار اُن کپڑوں کو سرف کی مدد سے دھویا گیا لیکن داغ تھے کہ کپڑوں سے جانے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ ایک دن میں نے ٹی وی میں ایک اور اشتہار دیکھا ’’ ایک دھلائی کا چیلنج۔ ‘‘ اس اشتہار میں ایک صاحب اُس واشنگ پاوڈر کے اشتہار میں مائک ہاتھ میں لئے ایک بڑے سائز کے کپڑے پر لوگوں کو داغ لگانے کا کہتے ہیں۔ کپڑوں پر کوئی سالن پھینکتا ہے، کوئی چاکلیٹ والی آئس کریم اور کوئی ٹومیٹو کیچ اپ۔ اس کے بعد اشتہار والے صاحب کپڑے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے دو الگ الگ واشنگ مشینوں میں ڈالتا ہے۔ ایک مشین میں اپنا والا واشنگ پاوڈر ڈالتا ہے اور دوسرے میں ’’دشمن والا واشنگ پاوڈر۔‘‘ کچھ دیر بعد صاحب والے واشنگ پاوڈر کی مشین سے ایسا صاف کپڑا نکلتا ہے جیسے وہ ابھی کمپنی کی مشین سے تیار ہوکر نکلا ہو اور دشمن والے واشنگ پاوڈر میں دھلا کپڑا مشین سے اُسی طرح گندا نکلتا ہے۔ پھر صا حب داغ لگانے والے لوگوں سے پوچھتا ہے کہ’’ دُشمن والے واشنگ پاوڈر‘‘ نے صاف کیا؟ لوگ نعرہ لگا کر جواب دیتے ہیں: ’’نہیں ‘‘۔ پھر پوچھتا ہے کہ ہمارے والے واشنگ پاوڈر نے ایک دھلائی میں صاف کیا؟ لوگ نعرہ لگا کر فاتحانہ انداز میں جواب دیتے ہیں ’’ہاں ‘‘۔ میں بھی اپنے کپڑوں کی صفائی کے لئے ’’ ایک دھلائی چیلنج ‘‘ والا واشنگ پاوڈر گھر لے آیا لیکن اُس کے استعمال کے بعد بھی کپڑوں پر داغ جوں کا توں رہا۔
ہمارے ملک کے ٹی وی چینلوں پرکمپنیوں کے عجیب و غریب اشتہارات آتے ہیں۔ کوئی بیوٹی کریم ایک رات میں، کچھ تین دنوں میں اور کچھ ایک ہفتہ میں خواتین کے کالے رنگ کو ایسا گورا کرتا ہے کہ جیسے کسی نے اُس خاتون کو ’’بغیر ٹوکن ‘‘ والے پینٹ سے ایک دو کوٹ پینٹ دیا ہو۔
ہمارے ایک دوست کی بیوی کالی ہے۔اس کی خواہش تھی کہ وہ بھی گوری ہو جائے۔ دو سال سے انہوں نے ٹی والے اشتہارات کے تمام کریم اس مقصد کے حصول کے لئے آزمائے۔ بیوی تو گوری نہ ہوئی۔ البتہ ری ایکشن کی وجہ سے اب چہرے پر دانے ضرور نکل آئے ہیں۔
گزشتہ روز ایک اور اشتہار دیکھ رہا تھا کہ ایک شخص کی بیوی ناراض ہے۔ اشتہار میں دکھا یا جاتا ہے کہ بیوی تو بات ہی نہیں کرتی۔ بیوی کی پیشانی پر ہر وقت ’’ بارہ بج ‘‘ رہے ہوتے ہیں۔ ایک دن اس کے میاں صاحب ’’بیس روپے ‘‘ والا چاکلیٹ لا کر کھولتے ہیں۔ بیوی کو تھوڑا سا ’‘ کھلاتے ہیں اور بیوی ایک دم خوش ہو جاتی ہے۔ میرے بھی ایک دوست کی بیوی ناراض تھی ۔ اُس نے بہت کوشش کی ، مہنگے کپڑے بھی خرید کے دیئے لیکن بیوی ناراض ہی رہی۔ پھر میں نے دوست کو اُس بیس روپے والے چاکلیٹ کا قصہ سنایا اور ساتھ اس نسخے کو آزمانے کا مشورہ بھی دیا۔نتیجتاً اُس کی بیوی مزید ناراض ہوگئی اور میاں کو کہا کہ کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟
قارئین کرام! اس طرح کے کچھ تجربات کے بعد تو اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بازار میں صرف وہی اشیاء خریدیں گے جن کے اشتہارات ٹی وی پر نہیں آتے۔
804 total views, no views today


