سوات، سوات سی این جی ایسوسی ایشن نے عدالت سی این جی بندش کے خلاف کوئی حکم امتناعی حاصل نہیں کی اور نہ ہی کوئی کیس جیتاہے ، محکمہ سوئی گیس کے انتہائی باوثوق زرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے سوات میں گھریلوں صارفین کو سوئی گیس دینے کے لئے مقامی سی این جی سٹیشن کو بند کردیاہے جس سے سوات کے لاکھوں آبادی کو پہلی مرتبہ سخت سردی میں گیس مل گیا، مگر سوئی گیس ایسوسی ایشن کے بعض عہدہ دار مختلف حربوں سے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرکے سی این جی سٹیشن کو کھولنے کا فیصلہ کرلیاہے سوئی گیس محکمے کے ایک اعلی آفسیرنے نام نہ بتانے کے شرط پر بتایاکہ پاکستان کے قانون کے مطابق سب سے پہلے سوئی گیس پر گھریلوں صارفین کا حق ہے جبکہ سوات میں مسلسل آٹھ سالوں نے عوام کے بجائے سی این جی سٹیشن استعمال کررہے ہیں جبکہ قانون کے مطابق تین کلومیٹرکے فاصلے پر ایک سی این جی سٹیشن قائم کرنے کی اجازت ہے مگربااثرسیاسی لوگوں نے اپنے اثر روسوخ پر تین کلومیٹرمیں انیس سی این جی سٹیشن قائم کرکے کے جس پر عدالت اور ضلی انتظامیہ خاموش دریں اثناء سیدوشریف کے تحصیل کونسلر ڈاکٹرخالد محمود گوجرنے اپنے بیان میں کہاہے کہ عوام کے حقوق پر کسی کوبھی ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور اگر سی این جی سٹیشن کو دوبارہ کھول دیاگیاتو عوام سڑکوں پر نکل آئینگے اور اس کی تمام ترذمہ داری سوئی گیس ایسوسی ایشن اور ضلعی انتظامیہ پر ہوگی ۔ مزید انہوں نے کہاکہ سوات میں ٹیکس نہ ہونے کے باوجود سی این جی سٹیشن مقررہ نرخ پر گیس فروخت کرکے فی کلو35روپے کمارہے ہیں جبکہ غیر قانونی طورپر مختلف تندورں، ہوٹلوں کو سوئی گیس دے رہے ہیں۔ دریں اثناء عوامی حلقوں نے بھی سوئی گیس سٹیشن کے کھلونے کے صورت میں سخت احتجاج اور سی این جی سٹیشنوں کامحاصرہ کرنے کی دہمکی دے رکھی ہے ۔
528 total views, no views today


