امریکاکی دہشت گردی اور پاکستانی المیوں اورسانحات کی ایک طویل داستان ہے جو 60سال کے عرصے پر محیط ہیں جو آسانی سے ختم ہونے والے نہیں۔ حکمرانوں کا طبقہ امریکہ کی غلامی میں دبا ہوا سڑ رہا ہے۔ بحرانوں کی تاریکیوں میں قوم اوندھی پڑی ہے کہ قوم بھی لا شعو ر اور کمزوری کی انتہا پر ہے۔
دل مغموم اور جسم مردہ ہیں۔ ضمیر خوف لالچ اور جہالت کے قیدی میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکاسمیت طاقتور مغربی دنیا کومسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور بر بر یت کا دورہ پڑاہواہے ۔ پہلے انہوں نے پیرس میں ایک فرانسیسی رسالے کے حق میں ایک بڑا مظاہر ہ کیا جس میں کوئی چالیس سے زیادہ حکمران شریک ہوئے اس رسالے نے چند غلیظ کارٹون چھا پے جس میں حضرت محمد ﷺ کی گستاخی کی گئی تھی ۔جب مسلم دنیا اس کے خلا ف سر گرم ہوگئی تو جو اب میں مغربی مسیحی دنیا نے مظاہرے شروع کردئیے اس دوران امریکی حکمران بھی خاموش نہ رہے انہوں پاکستان کے ایک مجاہدکی سر کوبی کا حکم دیا حافظ سعید صاحب کی تنظیم کا نام ہے جماعت الدعوۃ جس کی بڑی سر گرمی خدمت خلق کے میدان میں ہے۔ اس طرح بڑی عالمی تنظیم الخد مت فاونڈیشن ہے جس کے رضا کار ہر مشکل میں سب سے پہلے پہنچتے ہیں ۔برطانیہ کی طرح امریکا بھی افغانستان پر اپنی پہلی یلغار کے۱۶ سا ل بعد ناکام ہوکر بری طرح افغانستان سے شکست کھا کر بھا گ گیا ہے امریکہ اب اپناغصہ مسلمانوں پر نکال رہا ہے جن میں افغانستان کا پڑوسی ملک پاکستا ن سر فہرست ہے۔امریکہ نے پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ جماعت الدعوہ کو پکڑ لے اور ان کے بنک اکاونٹ منجمد کر دے لیکن حافظ صاحب کا کہنا ہے کہ ان کا بنک اکاونٹ تو ہے نہیں پاسپورٹ بھی نہیں ہے۔
امریکہ کا بس چلے تو اسلام پر ہی پابندی لگا دے لیکن خلقت آدم سے تا دم کوئی قوم ایسی پیدا ہی نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک پیدا ہوگی جو یہ جسارت کر سکے ۔ آدم ؑ کو پید ا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے جس نے دین اسلام کو انسانوں اور جِنوں کی رہنمائی کیلئے بھیجا۔ البتہ جو ماننے والے اور عمل کرنے والے ہیں وہ اہل ایمان ہیں ااور جو انکا ر کرنے والے ہیں وہ کافر ہیں ۔جو زبان سے اقرار کرتے ہیں اور رعملاً بغاوت کے مرتکب ہیں وہ منافق ہیں۔
امریکہ سالہاں سال سے پاکستان میں ڈرون حملے کیوں کررہا ہے۔ پاکستان میں دو افراد کے قاتل ریمنڈڈیوس کو کیوںآسانی سے امریکہ بھیج دیا گیا؟ پاکستان کے جنرل مشرف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور500دیگرافراد امریکہ کو کیوں فروخت کئے۔ پاکستان کے امور مملکت کے فیصلے واشنگٹن میں کیوں ہورہے ہیں؟پاکستان اور پاکستان کے عوام امریکہ کے سیاسی قیدی کیوں ہیں؟ ایسے میں کیاپاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے؟کیا ان حکمرانوں کو فوجی عدالتوں کی قیام کے بعد اور اپنی نا اہلی کرپشن اور غیروں کے بند گی میں بند اس ملک پر حکمرانی کا کوئی حق ہے ؟ کیا ان کو ہٹانے کا وقت نہیں آیا ؟کیا اس بات کی کو ئی امید ہے ؟
امریکہ نے پوری دنیا کو کنٹرول کیا ہے جہا ں تک پاکستان کا تعلق ہے اسے کسی قسم کی زحمت کر نے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہم مدتوں سے امریکی بلاک میں شامل ہیں، دل جان سے اس کے ساتھ ہیں ۔ غلامی میں ہم بہت ہی وفادار ہیں سچ تو یہ ہے کہ مسلم ممالک امریکہ کے سیاسی محکوم ہیں۔ا ن حالات میں جہاں بھی اسلامی ریاستیں دہشت گردی کے خلاف اُٹھیں گے رسوائی کے ساتھ شکست ان کا مقدر ہوگا ۔ہاں صرف عزم اورنیت صالحہ کے ساتھ اللہ پر تعالیٰ پر بھروسہ کرکے عالمی طاقتوں کے جو ہری حصا ر کو گرا سکتے ہیں کہ نظریاتی پختگی کے ساتھ اللہ اکبر کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے ایمان کا سوال پیدا ہوا توان کو فتح نصیب ہوئی اس کی واضح مثال افغانستان ہے جہاں سے پہلے بھی اور آج بھی مغربی طاقتیں دم دبا کر بھاگ رہی ہیں۔
روس سے جنگ کے دوسرے سال خودمیں نے ساڑھے تین سال پاکستان اورکابل میں گزارے میدان حرب سے میرا یقین پختہ ہوا کہ شکست روس کا مقدر ہے برطانیہ جب وہ ایک سُپر پاور تھا 1919-1842-1800-میں تین بار یہاں سے شکست کھا کر بھاگا یہاں تک کہ ایک حملے میں تو افغانیوں نے ان کی فوج ختم کردی سوائے ایک زخمی ڈاکٹر کے جس نے ہندوستان جا کر اپنی فوج کو اطلاع دی اب تو رسل اور وسائل عام ہیں اور برطانیہ کے افغانستان سے اپنا یونین جیک اُتارنے کے اطلاع دنیا بھر کو مل چکی ہے اس کے ساتھ امریکہ بھی کچھ رکھ رکھاؤ کے ساتھ وہاں سے کھسک رہا ہے اور بے چارہ سوویت یونین یعنی روس تووہاں سے ایسی بری حالت میں نکلا کہ اس کی سوویت یونین کا نام نشان بھی مٹ گیا۔
روس میں قرآن کریم رکھنے اور پڑھنے پر سخت پابندی تھی سوویت یونین کی سفاکی دہشت گردی کاعالم یہ تھا کہ وسطی ایشیا سے آگے بڑھ کر افغانستان پر قابض ہو گیا جس کے بعد اس کی اصل منزل پاکستان تھی اور پھر گرم سمندر تک رسائی اس کے پس منظر میں اصل عزائم تھے۔
قوم پرست جماعتیں جو الحاد اور لا دینت کے نشان تھے اس صورت حال پر بڑے خوش اور پر امید تھے کہ پاکستان یا کم از کم پختونخوا سوویت یونین بن جائے گا ۔وہ بر ملا کہتے تھے کہ ہم روسی ٹینکوں میں آنے والوں کو ہار پہنائیں گے لیکن جہادی سیل رداں نے سوویت یونین کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہم واصل کر دیا۔
اس میں اسلحہ کے حد تک امریکہ اور دیگر ممالک نے بھی امداد کی لیکن سٹنگر میزائل کی زد میں آکر جا نیں افغانیوں نے قربان کیں کہ میدان کا رزار میں مجاہدین کی قوت غالبہ و مزاحمت تھی اور ا س میں شک کی گنجائش نہیں۔ جب اہل ایمان خلوص اور روحانی حرارت کے ساتھ میدان جنگ میں نکلے تو ان کے سامنے کس کی قوت کو ٹھہر نے کا امکا ن نہیں تھا۔
گزشتہ چند سالوں کی تاریخ اس پر گواہ ہے اب پھر صورت حال ایسی بن رہی ہے کہ مغربی دنیا پاکستان کو پسند نہیں کرتی اور اس وجہ سے وہ ہم کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن مسیحی دنیا کو یہ علم ہونا چاہئے کہ اصل میں ہمارے سینوں میں وہ کچھ محفوظ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی نصرت پر ایمان صدق دل سے اپنے رسولؐ کی اطاعت ومحبت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ۔ اللہ تعالیٰ نے چار مرتبہ مغربی دنیا کو اپنے ہاں سے شکست دی ۔
افغانیوں کی غیب سے مدد اللہ تعالیٰ نے کی ابتداء میں دیسی بندوقیں اور پہاڑوں کے پتھراور اللہ اکبر کانعرہ جو ہری حصاروں کو توڑنے کی قوت ان کا سرمایہ تھا لیکن فتح مادی طاقت سے نہیں بلکہ ایمان کی حرارت سے ملتی ہے۔ ہر ذی شعور آدمی محسوس کرتا ہے کہ پاکستانی مرعوب اور گھبرائے ہوئے ہیں ،ا سکی وجہ ان کی سچی مسلمان قیادت سے عرصہ دراز سے محرومی ہے لیکن پاکستانیوں کو ا س حصار سے نکلنے کیلئے اسلامی قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا۔
نقلاب کی آواز پر لبیک کہنا ہوگا اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کیلئے رہنما کا تعین کرنا ہوگا ورنہ ذلت کی زندگی پھر سب کا مقدر ہوگا جو کسی صورت مسلمانوں کی شایان شان نہیں ہے۔
1,098 total views, no views today


