مینگورہ، آل درجہ چہارم ملازمین نے چوکیداروں سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لینے کوزیادتی قراردیتے ہوئے ان سے قانون کے مطابق ڈیوٹی لینے کا مطالبہ کیا،اس حوالے آل درجہ چہارم ملازمین سوات کے صدر سید خطاب نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ جب آرمی پبلک سکول پر دہشتگردو ں نے حملہ کیا اور معصوم طلباء کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا ، بحیثیت ایک پاکستانی ہر طبقے کی طرح ہم نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی اس المناک واقعہ کے بعد سکولوں میں سیکیورٹی کو بڑھایا گیا ،
سکول چوکیداروں کو مسلح کیا گیا ، انہیں بندوق دے کر ٹریننگ بھی دی گئی اور سکول چوکیداروں کے علاوہ دیگر درجہ چہارم ملازمین بھی پستول اور بندوق لے کر سکولوں اور بچوں کے محافظ بن گئے ، انہوں نے کہاکہ ہم نے عزم کیا کہ ہم اپنے بچوں کی طرح سکول کے بچوں ،طلبہ اور طالبات کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے اور بحیثیت مسلمان اورپاکستانی ہم نے عملی طور بھی اسے ثابت کیا ، لیکن اس وقت سے لے کرآج تک ہمیں چوبیس گھنٹے ان ڈیوٹی رہنے کی ہدایت دی گئی کہ سکول چوکیدار نہ نماز پڑے گا ،نہ کھانا کھائے گا اور نہ بیوی بچوں کو وقت دے گا بلکہ چوبیس گھنٹے آن ڈیوٹی رہے گا ،انہوں نے کہاکہ پولیس نے باقاعدہ طور پر سکول پر چھاپے مارے اور کسی بھی لمحہ چوکیدار کو غیر حاضر پاکر اس کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی ، اس میں نہ نماز پڑھنے کی رعایت ہے اور نہ کھانا کھانے کی بلکہ گذشتہ روز ایک ایسے چوکیدار کیخلاف رپورٹ درج کی گئی کہ چوکیدار اور رپورٹ کنندہ ایک ہی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے ،انہوں نے کہاکہ گذشتہ دنوں چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہونے کے بعد ایک بار پھر سکول چوکیداروں کیلئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں ،انہوں نے کہاکہ مختلف اوقات میں سکولوں پر چھاپے مارکر چوکیدار وں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ ہم ڈیوٹی اور سیکیورٹی میں کردار ادا کرنے سے انکاری نہیں لیکن سکول چوکیدار وں کو بھی انسان تصور کیا جائے ،انہوں نے کہاکہ اگر بائیس فروری تک جائزمطالبات حل نہ ہوئے تو جلوس نکالنے پر مجبورہوجائیں گے،اس موقع پر جنرل سیکرٹری عبدالرؤف،اکرام اللہ،صابر خان ،خورشیدعلی اوردیگر عہدیداربھی موجود تھے۔
692 total views, no views today


