سیکورٹی اہلکاروں سے لیکر سکول کے معصوم بچوں تک کوئی بھی ’’نامعلوم افراد‘‘ کے وار سے نہیں بچ سکتا۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایسا بس صرف پختونوں کی سرزمین پر ہو رہا ہے۔
سیکورٹی اہلکار یا پولیس پر حملوں کی تُک تو پھر بھی سمجھ آجاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، اس لئے بدلے کے طور پر انھیں قربان ہونا پڑتا ہے، مگر سکول کے معصوم بچوں پر حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ چاہے دشمن کو سرحدوں کے اندر یا باہر سے فنڈنگ ہوتی ہو، نشانہ زیادہ تر معصوم عوام بنتے ہیں۔ آج کل اگر بم دھماکے کرنا مشکل ہیں، تو ٹارگٹ کلنگ ایک آسان حربہ بن چکا ہے دہشت گردوں کے لئے۔ ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات میں پہلے پہل ٹارگٹ کلر سیاسی قائدین یا امن کمیٹیوں کے ممبران کو نشانہ بناتے تھے مگر اب وہ اتنی مہارت حاصل کرچکے ہیں کہ مسلح پولیس اہلکاروں کو بھی دیدہ دلیری سے نشانہ بناتے ہیں اور ٹارگٹ کے بعد موقعہ واردات سے برقی رو کی طرح دوڑ کر غیب ہوجاتے ہیں۔ پھر چند منٹوں میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کے ہاتھوں نشانہ بننے والوں کی خبر پورے ملاکنڈ ڈویژن میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے ۔
قارئین کرام! نامعلوم افراد ٹارگٹ کلنگ کے بعد ایک نشان چھوڑ کر وہاں سے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں اور ہمارے ادارے اس نشان کی تلاش میں فوراًپہنچ جاتے ہیں۔ نامعلوم افراد ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد گولی کے خالی خول نشان کے طور چھوڑ کر فرار ہوتے ہیں۔یہ خالی خول کوئی معمولی ثبوت نہیں ہوتے۔ ابھی تک کسی ٹار گٹ کلر کے پستول میں گولی نہیں پھنسی ہے اور نہ ہی اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے میں وہ ناکام ہوا ہے۔ ایسے موقعوں پر استعمال ہونے والے پستول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بین القوامی معیار کا ہوتا ہے۔اس لئے میرے خیال میں ایسے لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے بین الاقوامی معیار کی حکمت عملی ہونی چاہئے، جو بدقسمتی سے ہمارے پاس نہیں ہے۔ اگر ہماری ملکی کی لیبارٹیاں واقعی یہ معلوم نہیں کرسکتیں کہ ’’کارتوس‘‘ کہاں تیار ہوا، اسلحہ کس ملک یا ادارے کا تھا، تو پھر تو یہ لیبارٹریاں اور ان میں کام کرنے والے قوم کے خزانے پر بوجھ ہیں۔
قارئین کرام! یہ بات رکھ چھوڑتے ہیں کہ ہمارے ادارے طاقتور ہیں یا کمزور؟ یہ بات زیادہ پتے کی ہے کہ ہمیں امن سے کیوں جینے نہیں دیا جا رہا؟ جہاں بھی پختون بستا ہے، اس پر عرصہ حیات کیوں تنگ کیا جا رہا ہے؟
734 total views, no views today


