د نیا ایک ایسے جگہ کا نام ہے جو کہ ایک عجیب قسم کا ہے ،مخلوقات پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں کچھ لوگ اپنے پیچھے دنیا میں اچھے اچھے اعمال چھوڑتے ہیں جبکہ کچھ لوگ مرنے کے بعد دنیا کے لوگوں میں کے ذہن اور الفاظ میں برے پہچانے جاتے ہیں ۔ایسے میں آج ایسا چوبیس فروری کا دن ہے کہ دو سال پہلے چوبیس فروری دو ہزار چودہ کو محترم محمد شیرین المعروف جاجا نے بھی اس دنیا میں چھوڑکر دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
پورے علاقے میں بڑوں ،بوڑھوں،بچوں ،جوانوں سب کے منہ سے محترم کیلئے جاجا کا باادب لفظ نکلتا تھا اور خاندان میں سب لوگ ان کو جاجا کے نام سے پکارتے تھے ۔چہرے پر مسکر اہٹ ،جوانوں کے ساتھ جوان ،بچوں کے ساتھ بچہ ،بوڑھوں کے ساتھ بوڑھا جیسا رویہ رکھتا تھا اس وجہ سے علاقے کے سب لوگوں کے دلوں میں ایک مقام تھا اور ہے ۔
چلتے ہے محترم کے زندگی کے سفر کا آغاز ان کے ذاتی زندگی سے کررہا ہوں وہ پیشے کے لحاظ سے دکاندار تھے اور اس کے ساتھ جماعت اسلامی کے ایک سچے سپاہی تھے ،جماعت اسلامی کے قیادت وکارکنان میں یکساں ہر دل عزیز تھے اور ایک نڈر بے باک انسان تھے ،ہمیشہ حق وصداقت کا ساتھ دیتے تھے ،علاقہ نیک پی خیل اور خصوصا کوزہ بانڈی کے انتہائی مشہور ہر دلعزیز شخصیت تھے اور ایک خاص خوبی یہ تھے کہ ہر حال میں ان کے چہرے پر مسکرہٹ بکھری ہوئی ہوتی تھی۔انتہائی محنتی ،سچ گو ،خدمت گار انسان کے ساتھ ساتھ محترم جاجاایک غریب مزاج طبیعت کا مالک تھا ۔کسی کا تیمارداری تھا یا کسی کا غم و خوشی تھا ہر جگہ پر حاضر ہوتا تھا ،ہر کسی کے جنازے میں شریک ہوتے اور تین تین دنوں تک غم کے خاندان کے ساتھ ہوتا ۔
محترم جاجا کے نڈر اور جرات ہونے کے چند واقعات ذکر کر نا مقصود ہے جب سوات کے تحصیل کبل میں صوفی محمد کے تحریک میں جب کالے اور سفید جھنڈوں کے علاوہ کوئی اور جھنڈا لگانا جرم تھا اس دور میں آپ نے حالات کا سخت مقابلہ کیا اور جماعت کا جھنڈا کبھی گھر سے نہ اتارا ۔اس طرح جب سوات میں کشیدگی کے دوران فضل اللہ کے تحریک طالبان دور میں بھی اپنے سوچ پر سختی سے کاربند اور انتہائی سخت اور کٹھن حالات میں انہوں نے اس تحریک کی سختی سے مخالفت کی جس کے باعث ان پر دو مرتبہ حملہ ہوا اور شدید زخمی ہوئے ۔اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت عطا کرکے ان کو جنت میں اعلی مقام دیں اور ان کے روح پر رحمت برسا دیں ۔آمین
739 total views, no views today


