مینگورہ، مینگورہ کی رہائشی خاتون مسماۃ بانو کی دل کا برداشت ختم سوات پولیس کے خلاف گھر سے خود نکل کر پریس کلب پہنچ گئی۔ مینگورہ شہر میں خواتین میں برداشت کا مادہ ختم ہوگیا ہے، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں منشیات فروشی ،عریانی عروج پر ،اور کھلے عام شہر میں جرائم پیشہ افراد نے ڈھیرے ڈال دی،نوجوان نسل کی مستقبل تاریک ہوگیا۔ حکومت ہیر وئن ،چرس ،شراب ، عریانی سوات میں بند کرنے کے لئے اقدمات اٹھائیں۔پولیس صرف پرچے کرنے اور رشوت لینے کے لئے سوات میں کام کرتے ہیں ۔خوبصورت نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کی ہے۔ اور ہمارے نوجوان بچوں نے اپنے ماؤں کی دلوں میں سراغے بنائی ہیں۔ ہم پر اللہ کی رضا کے لئے رحم کریں۔سوات میں پولیس کی ظالمان کی خلاف کاروائی نہیں کرتی۔بلکہ غریبوں سے ایک وقت کی روٹی چھننے کی کوشش میں ہیں۔ سوات پولیس منشیات فروشوں، عیاشی،عریانی پھیلانے والوں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، عمران خان ،نواز شریف سوات میں منشیات فروشی پر ایکشن لیں۔ ان خیالات کا اظہارسوات پریس کلب کے سامنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ۔ایک برداشت ختم کرنے والی بوڑھی ماں مسماۃ بانو نے کہا کہ مینگورہ شہر میں کھلے عام چرس،ہیروئن ،شراب ،اور دو نمبر کام پولیس کی ایماء پر ہورہی ہے۔پولیس منشیات فروشوں سے ہفتہ واری بھتہ وصول کرہی ہے۔میرا نوجوان بیٹے کی زندگی منشیات فروشی کیوجہ سے تباہ ہوگیا۔پولیس صرف سوات میں پینے والوں کو پکڑ تے ہیں۔اور منشیات فروشوں کو نہیں پکڑ تے۔میرے جیسے ہزاروں کی تعداد میں ماؤں کی دلوں میں سوات پولیس کی غفلت کیوجہ سے سرغے ہوئی ہے۔اور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاء ہے۔متاثرہ خاتون نے میڈیا کو بتایاکہ سوات پولیس نے نہ صرف ماؤں کو تکلیف دی ہے بلکہ سوات میں ہزاروں نوجوان لڑکیوں کی زندگیا ں بر باد کئے ہیں۔اور کر رہے ہیں ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک صاحب ،عمران خان،نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ سوات میں جرائم پیش افراد سے ملی ہوئے پولیس افسران کے خلاف کاروائی کر کے انکوائری مقرر کریں اور نوکری سے نکال دیں۔اور منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کریں۔متاثرہ خاتون نے کہا کہ سوات میں پولیس افسران صرف غریب لوگوں کو بے روزگار کرنے اور رشوت لینے میں نمبر ون ہے۔
750 total views, no views today


