سوات، سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے ملاکنڈ ڈویژن بشمول کوہستان پر کسٹم ایکٹ کے نفاذ پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے ڈویژن کے کسی بھی مقام پر دفتر اور عملہ کی تعیناتی کی کوشش کی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے واضح کیا کہ آئین پاکستان کی رو سے ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس فری زون ہے ادغام کے وقت ہمارے بزرگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسی قسم کا ٹیکس کسٹم ایکٹ وغیرہ لاگو نہیں کیا جائے گا اس بنیاد پر حکومت کسٹم کے نفاذ کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام اور تاجران پر کسٹم یا انکم ٹیکس لاگو کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہو گا خوبصورت دفاتر اور محلات میں بیٹھے کرپٹ اور بد دیانت حکمرانوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک طرف باہر ممالک سے امداد حاصل کرکے متاثرہ علاقوں کے لوگوں پر زکواۃ خیرات کی صورت میں تقسیم کرتے ہیں اور دوسری جانب اس علاقے کے باسیوں پر کسٹم ایکٹ یا انکم ٹیکس کے نفاذ کے فیصلوں میں مصروف ہیں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کئی سالوں سے جن مشکلات سے دوچار ہے ان بے حس حکمرانوں کو سرے سے اسکا احساس نہیں ایک طرف کہتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام نے پاکستان کو بچانے کی خاطر قربانیاں دی ہیں اور دوسری طرف ان پاکستان بچانے والوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ہماری قربانیوں اور ہجرت کا یہ صلہ دیا جاتا ہے ہمیں بھکاری بنا کر کبھی وطن کارڈ کبھی کیش کارڈ سے نوازا جاتا ہے باوجود اس خیرات زکواۃ دینے والوں سے کسٹم کے وصولی کی پالیسیاں بنانے والوں کے بارے میں اس بات کے سوچنے پر مجبور ہے کہ حکمران انسانیت عاری ہو چکے ہیں ملاکنڈ ڈویژن میں صنعت ، تجارت ، زراعت ، سیاحت سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود ظالم عیاش حکمرانوں کا ہم پر ترس نہیں آتا انہوں نے خبردار کیا کہ کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا خواب دیکھنا ترک کرے ورنہ خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔ کیونکہ کسٹم ایکٹ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔
614 total views, no views today


