بریکوٹ، 2010کے تباہ کن سیلاب کے بعد ایک بار پھر شدید بارشوں نے تحصیل بریکوٹ کو بری طرح متاثر کردیا ۔دریائے سوات کے بے رحم موجوں نے قیمتی اراضی کو اپنے ساتھ بہا کرلے گیا۔قیمتی اراضی دریا برد ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں بہت سے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور علاقہ ڈیڈہ ور میں دریائے سوات کے پانی داخل ہو کر قیمتی سامان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔حکومت ٹیکس کے نفاذ کے بجائے ضلع سوات کو آفت ذدہ قرار دیا دیں ۔ان خیالات کا اظہار میڈیا ہوم میں قومی جرگہ تحصیل بریکوٹ ،بلدیاتی ناظمین کے علاوہ سیاسی قائدین جن میں قومی جرگہ تحصیل بریکوٹ کے صدر صدیق علی خان ، تحصیل کونسلر عدنا ن خان ،ضلعی کونسلر اصغر خان ، ضلعی کونسلر حید ر علی ، ضلعی کونسلر سید باچا حسین ، پی ٹی آئی سابق تحصیل بریکوٹ صدرانجینئر شرافت علی ،ناظم شاہ علیم باچا،پی ٹی آئی یوتھ تحصیل بریکوٹ کے جنرل سیکرٹری عزیر اقبال ،نائب ناظم نجیگرام واجد خان شلمانی ،یوتھ کونسلر ابدال خان ،نائب ناظم داود خان ،ناظم بریکوٹ شرقی حماد خان ،جنرل کونسلر محمد ظاہر خان ،جماعت اسلامی رہنماء عطاء اللہ خان ، جنرل کونسلر کوٹہ شرقی امجدعلی ،ناظم ظفرعلی شامل تھے ۔انہوں نے کہاکہ حالیہ بارشوں نے تحصیل بریکوٹ کو بہت سے نقصانات سے دوچار کردیا ہے ۔دریائے سوات نے ایک بار پھر تباہی کردی ۔دریائے سوات میں سیلابی ریلوں نے قیمتی زمینوں کو دریا برد کردیا اور ساتھ ساتھ ان زمینوں میں موجود فصلیں بھی دریا برد ہوگئیں ہیں جس سے ایک بار پھر گندم اور دیگر اناج کی پیدوار میں حد درجہ کمی آئے گی ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے گندم کی فصل پر بھی برے اثرات رونماء ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ عوام کے نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر تحصیل بریکوٹ سیمت پورے ضلعے کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور نقصانات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے ۔
664 total views, no views today


