سو ات، ایم پی اے ڈاکٹر حیدر علی خان پارلیمانی سیکرٹری انٹی کرپشن پراوینشل انسپکشن ٹیم کی زیر صدارت کمشنر ملاکنڈ کے دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں کمشنر ملاکنڈ عثمان گل، ڈی آئی جی ملاکنڈ آزاد خان ، ڈپٹی کمشنر سوات عاطف الرحمان اور دیگر محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں معدنیات کے حوالے سے مقامی افراد اور ٹرانسپورٹرز کے تحفظات پر غور کیا گیا۔ اور اس سلسلے میں محکمہ معدنیات کی طرف سے معمولی معدنیات جیسے ریت، بجری وغیرہ پر عائد ٹیکس پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ معدنیات کی طرف سے بریفنگ دی گئی اور حیدر علی خان ایم پی اے نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کے پیش نظر کسی بھی ٹیکس کے نفاذ سے پہلے مقامی افراد کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ اور اس سلسلے میں آئینی اور قانونی رائے بھی زیر غور لانا پڑے گی۔ ڈاکٹر حیدر علی خان نے کہا کہ معدنیات کے ذریعے صوبائی حکومت کیلئے آمدنی کا ذریعہ بنانے سے پہلے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے ماحول زراعت اور دریاؤں پر اس کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا پڑے گا۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ غیر قانونی کرش مشینیں دریائے سوات کیلئے ماحولیاتی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر کرش مشینوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اور ایسی کرش مشینوں کو جو دریائے سوات کو آلودہ کر رہے ہیں اور بغیر کسی قانون کے کام کر رہے ہیں، فوری طور پر بند کیا جائے۔ ڈاکٹر حیدر علی خان نے اس موقع پر محکمہ کے سربراہان کو معدنیات کے حوالے سے مقامی افراد کو اعتما د میں لینے کی تاکید کی۔ اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئیندہ میٹنگ میں صوبائی سطح کے اعلٰی افسران میٹنگ میں شرکت کرینگے اور اس بارے میں کمیٹی سفارشات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کر ے گی۔ ۔
580 total views, no views today


