بریکوٹ :سوات کے 214ویلیج کونسلوں میں صر ف ایک نئبر ہوڈکونسلوں بریکوٹ غربی کو ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہوسکاجس کی وجہ سے ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور عوام منتخب نمائندہ گان سے ترقیاتی کام شروع کرنے کے مطالبات کررہے ہیں ۔بئبر ہوڈ بریکوٹ غربی کے منتخب نمائندہ گان سراپا احتجا ج ہیں کہ ہمارے ترقیاتی فنڈز کو سازش کے تحت بند کرکے ہمیں فنڈز سے محروم رکھا جا رہاہے ۔صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کے بارے جو پالیسی بنائی تھی اس پر مکمل طور پر عمل نہیں ہورہاہے اور اب بھی بلدیاتی نمائندہ گان تذبدب کا شکار ہیں ۔ان خیالات کا اظہار نئبر ہوڈ بریکوٹ غربی کے ناظم حماد خان ،نائب ناظم اعزاز خان ،جنرل کونسلرز،نور محمد ،مختیار خان ،سمیر پراچہ ،شیر علی ،کسان کونسلر رفیع اللہ خان ،یوتھ کونسلر ابدال خان نے فورم میں کیا ۔انہوں نے کہاکہ نئبر ہوڈ بریکوٹ غربی کا 50 لاکھ روپے فنڈہے جسمیں 05لاکھ روپے غیر ترقیاتی فنڈ ہے جو کہ ہمیں ملا ہے اور اس کا استعمال بھی ہوچکاہے جبکہ ترقیاتی فنڈ 45لاکھ روپے فنڈ جس کے اجراء کے لئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈویژن سوات کے آفس سے لیٹرنمبر 398مورخہ 07-04-2016صوبائی ڈائریکٹریٹ کو ارسال کی گئی ۔اسی دفتر سے تین دفعہ لیٹر نمبر 14-04-2016لیٹر نمبر 419 ،05-05-016لیٹر نمبر 472-76اور 09-05-2016لیٹر نمبر481یاددھانی کے طور پر ارسال کئے گئے اور اس کے علاوہ نئبر ہوڈ بریکوٹ غربی کے آفس سے بھی تحصیل ناظم بریکوٹ آفس،اے ڈی آفس ،ضلعی ناظم آفس کے علاوہ صوبائی وزیر بلدیات کے آفس کو بھی لیٹر ز کئے ہیں مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے ۔اب خدشہ ہے کہ جون میں ہمارے فنڈ ز لیپس ہوجائیں گے ۔انصاف کے دور میں ہمارے ساتھ ناانصافی ہو کر کہاں کا انصاف ہے ۔ہم ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ہمارے ترقیاتی فنڈز کو جاری کیا جائے ورنہ راست اقدام پر مجبور ہوجائیں گے ۔انہوں نے بلدیاتی فنڈز سے ستر فیصد کٹوتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بلدیات کا اصل مقصد اختیار ات کو نچلی سطح پر لانا ہے مگر اب صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو ناکام بنانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ۔اگر حکومت نے اس پر نظر ثانی نہیں کی تو 22مئی کو عمران خان کے جلسے کے دوران احتجاجی دھرنا دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کریں گے ۔انہوں نے بریکوٹ انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بریکوٹ بازار کا ہفتے میں ایک بار معائنہ کریں تاکہ صارفین کو مقررہ ریٹ اور معیاری اشیاء کی فراہمی ممکن ہوسکے ۔بریکوٹ بازار کے تجاوزات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ تجاوزات کے خلاف آپریشن لوگوں کے قیمتی مارکیٹوں اور دکانوں کو مسمار کردیا اور ایک انچ کی رعایت بھی نہیں کی گئی مگر کئی ماہ گذر گئے اب بھی بازار میں روڈ کے عین وسط میں ٹیلی فون اور بجلی کے کھمبے موجود ہیں ۔ان کھمبوں کی موجودگی کی بازار اب بھی تجاوزات کی زد میں ہے فوری طور پر تمام کھمبوں کو ہٹایا جائے ۔بریکوٹ بازار کے تمام نالیوں کو ڈھانپ دیا جائے کیونکہ نالیوں کے اوپر فٹ پاتھ بنایا گیا ہے اور بعض جگہوں پر نالیاں کھلی ہیں جس کی وجہ سے آئے روز راہگیر ان نالیوں میں گر کر شدید زخمی ہو جاتے ہیں اور اب تک درجنوں کی تعداد میں راہ گیر گر کرشدید رخمی ہوئے ہیں ۔فورم رپورٹ ریاض احم
900 total views, no views today



