کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ طالبان شوریٰ اور حکومتی اراکین کے درمیان براہ مذاکرات میں جنگ بندی میں توسیع سمیت دیگر امور پر اتفاق ہوگیا ہے۔ مطابق حکومتی اور طالبان کمیٹی کے ارکان طالبان شوریٰ سے براہ راست مذاکرات کے لئے پشاور سے براستہ ہیلی کاپٹر شمالی وزیرستان کے خفیہ مقام پہنچے جہاں حکومتی کمیٹی کے ارکان نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کو فون کرکے طالبان شوری سے براہ راست مذاکرات کے آغاز کی اطلاع دی۔
کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق طالبان شوریٰ سے براہ راست مذاکرات کے دوران حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات جاری رکھنے اور مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی تک جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہوگیا جب کہ بہتر روابط کے لئے آئندہ بھی کمیٹیوں میں بات چیت جاری رہے گی، اس کے علاوہ مذاکرات کےدوران حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی سے متعلق بات چیت اور قیدیوں کے ناموں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
طالبان شوریٰ سے مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہونے کے بعد حکومت اور طالبان کی رابطہ کار کمیٹی شمالی وزیرستان سے واپس روانہ ہوگئیں۔ طالبان شوریٰ سے ملاقات کے لئے شمالی وزیرستان جانے والی حکومتی کمیٹی میں حبیب اللہ خٹک، ارباب عارف، فواد حسن فواد اور رستم شاہ مہمند شامل ہیں جبکہ طالبان کمیٹی میں مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ شامل تھے۔
مذاکرات کے لئے روانگی سے قبل طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی پہلی ترجیح ہے اور دونوں کمیٹیاں اپنے اپنے نکات پربات کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان شوریٰ کی نمائندگی قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکراور مولوی بشیرکریں گے، فریقین آمنے سامنے ہوں گے تو ایک دوسرے کے مطالبات کو سننے اور اس پر عملدرآمد کرنے میں آسانی گی۔
467 total views, no views today


