پچھلے دنوں وادی سوات کی ترقی وبحالی کے لئے جو بھی خوش آئنداعلانات کئے گئے ہیں وہ تمام مجھے ایک خواب کی طرح محسوس ہورہے ہیں مگر بجٹ 2016/2017 میں ڈیفس کے لئے 860 بلین مقرر کرنے پر یہ خواب بھی سچ سا لگلنے لگا کیو نکہ سیلاب ، زلزلہ جسی قدرتی آفات کے علاوہ آپریشن نے اُس وادی کوجتنے زخم دیئے ہیں اس سے ہم ابھی تک سنھبل نہیں پائیں ہے۔
وہی گراونڈ ، وہی کرسیاں اور وہی اسٹیج ، مگر حیرت اس بات کی کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ساتھ سوات پر مہربان کیسے ہوگئی کیونکہ امیر مقام اور نواز شریف یہاں ناقابل یقین شکست سے دوچار ہوئے تھے ہاں اگر ایسے اعلانات پی ٹی ائی کرتی تواتنا عجیب نہ لگتا۔ اب اگر کوئی کہے کے نوازشریف پورے پاکستان کا وزیراعظم ہے تو جناب پاکستان میں پشاور، مردان، دیر، بونیر ، کوہاٹ وغیرہ بھی آتے ہیں۔
ان دوعدد جلسوں سے پہلے سوات کے ترقی کے لئے کون کون سے اقدامات اٹھائے گئے آئیں اس پر نظر ڈالتے ہیں ۔ سب سے پہلے سوات کے مصروف ترین شہر مینگورہ کے وہ غریب سبزی اور پھل فروش جو سڑک کنارے اپنا ٹھیلا لگا کر اپنے اوراپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے ۔ گاڑیوں کو رواں دواں رکھنے کے لئے ان کو جبرا وہاں سڑکوں سے ہٹا دیا گیا ، وہ بے چارے احتجاج بھی نہ کر سکیں نہ کوئی ان کے حق کے لئے بولا۔ مانا کہ سڑک کنارے یوں کاروبار کرنا قانونا جرم ہے مگر انہیں متبادل روزگار فراہم کرنا بھی تو حکومت کا فرض تھا۔ اس کے بعدسٹرکوں کو مزید کشادہ کرنے کے لئے ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کے کام کا آغاز کیا گیا ۔ اس کے لئے دوکانوں اور مکانوں کو مسمار کیاگیا۔ لوگوں کا بنا بنایا روزگاراور رہائش کا انتظام ختم ہوا اور وہ مشکلات کا شکار ہوئے۔
اس کے بعد غیر مقامی اور غیر قانونی رکشوں کوختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا گیا۔ غیر مقامی رکشے جوکہ سوات میں 50 سے 60فیصد تھے انہیں دیگر اضلاع میں منتقل کرنے کا اجازت نامہ بھی دیا گیا یوں ان لوگوں کے گھروں کے چھولہے مستقل ٹھنڈے پٹرگئے اور حکومت تبدیلی لاتی رہی ۔ اُس سے بھی جی نہ بھرا تو سوات میں کسٹم ایکٹ کا نفاذ کردیا ۔ سیاستدانوں اور تاجروں نے برائے نام احتجاج تو بہت کئے گئے مگر حقیقی معنوں میں کوئی کسٹم ایکٹ کے خلاف کھڑا نہ ہوا اور اگر اُنکوکسٹم ایکٹ واپس لینا ہی تھا تولگایا کیون تھا؟ اب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو سوات کے سڑکوں پر چلنے سے کیسے روکا جا سکے گا؟ جس مشن کے لئے بڑے بڑے اقدامات کئے گئے تھے اب آخری مراحل میں یوں ادھورا چھوڑ کر مشن کو ناکام کیوں بنایا جاتا؟اُس کے بعد سوات میں چھاونی بنانے کا اعلان کیاگیا۔
قارئیں کرام جو حکومت کل تک ہمارے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کرنے والی اسپیشل پولیس فورس کو تنخواہ تک نہیں دے سکتی تھی آج وہ سوات پراچانک اتنی مہرنان کیسے؟ تو معذرت کے ساتھ یہ سب صرف اور صرف ایک ہی ادارے کو نوازنے کے لئے کیاگیا۔
ایکسپریس وے، ہاکی گراونڈ، مٹہ ،اورکبل گریڈ اسٹیشن، کانجو فلائی اوور جیسی ترقی کا غریب عوام کیا کرے؟ جب آپریشن کے بعد بے روزگار ہوئے تو حکومت کے ان کی بحالی و رزگار کے لئے کوئی اعلان تک نہ کیا ؟ ایکسپریس وے سے لیکر سیدو شریف ائیر پورٹ تک باہر سے آنے والے مہانوں کے لئے آسانیاں ضرور فراہم کئی گئی مگر بات پھر وہیں آکے رُک جاتی ہے کہ جب غریب عوام کے پاس نہ روزگارہے نہ روزگار کے مواقع تو وہ ان سب کا کیا کرئے؟ غریب عوام دل چھوٹا نہ کرے ۔ کیونکہ ہم پختونوں میں تو ویسے بھی ایک کہاوت بہت مشہور ہے .. چہ پہ پلنکو اووریگی نو پہ منگ بہ وساسیگی،،
جاتے جاتے ایک نئے قلم نگار محترم کو بس اتنا لکھنا چاہوں گا۔ critic us when you are in our level کیونکہ آپ نہ تو تجربہ گار ہیں نہ دانشور کالم نگار، صرف ڈگری لے لینے سے انسان تعلیم یافتہ نہیں بنتا ، تعلیم وتربیت انسان کو شعور ضروردیتی ہے مگر مسائل اور عوام کے جذبات کو سمجھنے کے لئے ڈگری نہیں صاحبِ دل ہونا ضروری ہے۔
1,048 total views, no views today
Comments


