سوات کی ’’ڈائری گرل‘‘ اور تعلیم کیلئے کام کرنے کے نام پر شہرت پاکر کروڑ پتی بننے والی ملالہ یوسفزئی اور انکے والد ضیاء الدین یوسفزئی کے اپنے خوشحال اسکول گل کدہ سے تین روز کی بلا درخواست کی چھٹی پر 56 طلبہ پر تعلیم کے دورازے بند کر دیئے گئے اور ان کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں ایک چور اورڈاکو بنانے کی ناکام کو شش کی جارہی ہے۔ ملالہ یوسفزئی ضلع شانگلہ کے ایک پسماندہ گاؤں شاہ پور میں پیدا ہوئی۔ انکے والد نے غربت سے تنگ آکر ہجرت کی اور سوات منتقل ہوئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ سوات آپریشن نے انکی تقدیر بدل دی۔ طالبان کے خلاف منہ تک نہ کھولنے والی ایک عام سی لڑکی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس طرح پیش کیا گیا کہ اس کو نوبل پرائز تک سے نوازا گیا۔ آج وہ آسمان کی بلندی کو چھو رہی ہے اور وہ اور انکا والد کروڑوں ڈالرز میں کھیل رہے ہیں۔وہ اپنے ملک کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔
پوری دنیا میں تعلیم عام کرنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والی ملالہ کے اپنے ہی اسکول کی یہ پوزیشن ہے کہ گزشتہ روز تین روز کی غیر حاضری پر سکول انتظامیہ نے 56 طلبہ کو بغیر کسی نوٹس کے نکال دیا۔ جب دوسرے روز بچے جو کہ پانچویں جماعت سے لے کر دسویں تک تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اسکول آئے تو انہیں گیٹ سے دو روز تک واپس گھر کی راہ دکھائی گئی۔انتظامیہ کی طرف سے انہیں آگاہ کیا گیا کہ تمام بچوں کو دوبارہ داخلہ کیلئے چھ چھ ہزار روپیہ فی کس ادا کرنا پڑیں گے۔ جب خارج شدہ بچوں نے اصرار کیا کہ انکے والدین کے آنے تک انہیں سکول میں پڑھنے دیا جائے، تو ڈائریکٹر ’’میں نہ مانوں‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے تھے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان بچوں کے خلاف ہاسٹل انتظامیہ کو بھی حکم نامہ جاری کیا گیا کہ انہیں ہاسٹل سے بھی نکال دیں۔ ہاسٹل انتظامیہ نے حکم بجا لاتے ہوئے ان پر ہاسٹل کے دروازے بھی بند کر دیئے۔
جن بچوں کو نکالا گیا ہے ان میں 30 کا تعلق ضیا ء الدین اور ملالہ یوسفزی کے آبائی علاقے شانگلہ سے ہے۔ایک طرف ضیاء الدین بیرون ملک بیٹھے یہ راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں کہ بچوں کو مفت تعلیم دلائیں گے۔ دوسری طرف وہ اپنے اسکول کو پیسوں کی مشین بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے۔ کسی نہ کسی طریقے سے وہ غریب عوام پر بوجھ ڈال کر انہیں رگید رہے ہیں۔اب المیہ یہ ہے کہ جب ملالہ یوسفزئی پاکستان میں تھی اور ضیاء الدین کو پیسے کمانے کی لت نہیں لگی تھی، تو اس وقت ملالہ کے خوشحال سکول کے تین برانچ ’’گل کدہ،شریف آباد اور لنڈے کس‘‘ تھے۔ ان میں بچے اور بچیوں کی تعداد 880 تھی۔ اب اسکول انتظامیہ کی غلط پالیسیوں اور غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے یہ تعداد گھٹتے گھٹتے صرف 253 تک آگئی ہے۔ غیر معیاری تعلیم کے حوالہ سے ہماری اطلاعات کے مطابق مزید والدین بھی اپنے بچوں کو مذکورہ اسکول سے نکال رہے ہیں ۔جن بچوں کو نکالا گیا ہے، ان میں ایک مینگورہ شہر میں ہتھ ریڑھی چلانے والا فضل حق ،شینا کا بیٹا بھی ہے۔ شینا کی غیرت دیکھیں کہ محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے سمیت اپنے بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپے فیس بھی بھر رہا ہے۔ کہا ں گئے ملالہ اور انکے مہان والد کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے بلند بانگ دعوے؟
جب ان کے اپنے اسکول میں غریب ریڑھی بان کا بیٹا فیس دینے کے باوجود نکال دیا گیا ہے۔ اب شینا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچے کو مزید سکول نہیں بھیجے گا بلکہ اس کی خواہش ہے کہ اس کا بیٹا محنت مزدوری کرکے اس کی مشکلات گھٹانے میں مدد کرے۔ شائد اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک غریب ریڑھی بان اب مزید چھ ہزار روپے دوبارہ داخلے کیلئے ادا نہیں کرسکتا۔
ملالہ اگر آپ تک میری آواز پہنچ رہی ہے، تو عرض ہے کہ اب آپ کے اسکول میں بیٹھا ’’ڈائریکٹر صاحب‘‘ معلم نہیں بلکہ ایک بزنس مین ہے، جو کہتا ہے کہ میں یہاں جو کروں میری مرضی۔ان کے بقول ان بچوں کو بنا چھ ہزار روپیہ کے واپس داخل کرنے میں آپ کے ادارے کا نقصان ہے۔اور سکول چھوڑنے کی سرٹیفیکیٹ کی وصولی پر بھی چھ ہزار روپے جمع کرنے ہونگے
میں نہیں بلکہ پورے سوات کے عوام تعلیم عام کرنے کی دعویدار صوبائی حکومت،محکمۂ تعلیم اور سوات بورڈ سے بھی مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور والدین بھی احتجاج کیلئے پر تول رہے ہیں۔ انہوں نے ان خارج شدہ طلبہ کے والدین سے رابطے شروع کئے ہیں۔
جب ادارے بنتے ہیں، تو پھر وہ ملالہ،ضیاء الدین یا فاروق کے نہیں بلکہ عوام کے ہو تے ہیں۔ آج ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس ادارے کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ملالہ تو بچے اور بچیوں کو تعلیم دلارہی ہے مگر ان کے اسکول میں بیٹھا ڈائریکٹر نما شخص بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھیننے کے مشن پر کس کے ایما پر کارفرما ہے؟
ڈائریکٹر صاحب، ملالہ کے ان الفاظ کا تو خیال رکھتے کہ ’’ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا بدل سکتے ہیں۔‘‘ یہاں پر تو ایک ڈائریکٹر نے کئیوں کی دنیا اجاڑ دی۔
ملالہ جب آپ کے سکول کی انتظامیہ بچے اور بچیوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انکے ہاتھوں بندوق دلانے کیلئے کام کر رہی ہے، تو پھر آپ لوگ سوات کا نام استعمال کرکے کیوں پوری دنیا میں تعلیم کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں؟ اپ لوگوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر نی چاہئے۔
میرا نہ تو آپ لوگوں کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف ہے نہ کوئی دشمنی۔ آپ جس طرح بھی ہیں، اس خطے کیلئے باعث فخر ہیں۔اب آپ کا نام پوری دنیا میں ایک باعزت طریقے سے لیا جا رہا ہے۔ لیکن آپ بھی سوچیں اور اگر آپ کا ذہن کام نہیں کر رہا ہے، تو اپنے پروڈیوسراور مہان والد صاحب کو کہیں کہ کیا اپکے سکول میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ ٹھیک ہے؟ اگر نہیں تو ان کو فوری طور پر اس نا اہل انتظامیہ کے خلاف ایکشن لینا چاہیے جو صرف اور صرف اپنے مفادات کی سوچتا ہے، جو صرف اسلام آباد میں جائیدادیں بنانے کیلئے فکر مند ہے۔ مذکورہ انتظامیہ کا تعلیم سے دور کا واسطہ نہیں۔
ملالہ ، جن لوگوں کے ہاتھوں میں آپ کے والد محترم نے اسکول کی باگ ڈور دی ہے،ان سے اس اسکول کو آزاد کرائیں۔ کیونکہ خوشحال سکول آپ کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اور اگر میری اعداد و شمار غلط نہ ہوں، تو آپ کو تو آپ کے اسکول کی تعداد کا زیادہ علم ہوگا۔ جب آپ یہاں پر تھے، تو اس کی تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے؟
خدارا، ملالہ اپنے اسکول کو اس حد تک گرانے والے کا احتساب کریں اور اس کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کریں۔ کیونکہ یہ آپ کی روزی روٹی اور آپ کو شہرت دلانے کا ذریعہ تھا۔ اب ان کو تباہ نہ ہونے دیں۔ یوں تو سوات میں ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جن میں ایس پی ایس،المدینہ اور سوات چلڈرن اکیڈیمی جیسے ادارے موجود ہیں۔ انہوں نے بھی کبھی اس طرح اقدامات نہیں کئے جو آج ملالہ کے نام سے قائم سکول میں کئے جارہے ہیں۔
ضیا ء، آج میں آپ سے بھی ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ چار سال ہو گئے ہیں جب سے آپ لوگ باہر ہیں، کیا ایک بار آپ نے ان بچیوں کا پوچھا ہے جو چالیس بچے آپ کے اسکول کے لنڈے کس برانچ میں ملالہ فنڈ کی مدد سے پڑ ھ رہے ہیں۔ ان کے یونیفارم کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان کے پاس کتابیں تک نہیں، تو ماہانہ وظیفہ تو دور کی بات ہے۔ ان کے لئے آپ کی طرف سے تو فنڈ باقاعدگی سے بھجوایا جا رہا ہے لیکن وہ ان کو مل نہیں رہا ہے ۔
مینگورہ شہر کی اہم شاہراہوں پر ایسے ہزاروں یتیم اور بے سہارا بچے مارے مارے پھر رہے ہیں، لیکن کوئی باپ اپنی بچیوں کو آپ کے اسکول لے جانے کو تیار نہیں۔ کیونکہ ان والدین نے ان چالیس بچیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھ لیا ہے ۔
ضیاء صاحب، آپ تو پوری دنیا میں ان چالیس بچیوں کو کیش کر رہے ہیں جو ملالہ فنڈ سے آپ ہی کے اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہاں پر ان کی زندگی تباہ ہو رہی ہے۔
بعض لوگ اس نکتہ کو بھی ذاتی یا سیاسی ایشو بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن خدا کیلئے اس ایشو کو سیاسی یا ذاتی نہ بنائیں۔ اگر ان بچوں یا ان کے والدین سے پوچھیں جن کے بچے آج سکول نہیں جا رہے کہ ان کے دل پر کیا بیت رہی ہے؟
ضیا ء صاحب، باقی آپ اور ملالہ مجھ سے زیادہ عقل مند ہیں۔ یہ چند سطور خدا کی قسم صرف یہاں کے معصوم بچوں کے مستقل اور ملالہ سکول کو بچانے کیلئے تحریر کر دیئے۔ ورنہ یوں تو اور بھی بہت کچھ ہے تحریر کرنے کیلئے۔
794 total views, no views today


