بریکوٹ، پاکستان تحریک انصاف کے بانی کارکن اور سابق تحصیل بریکوٹ صدر انجینئر شرافت علی نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اٹھارہ سال پہلے اسی امید کے ساتھ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی کہ ملک میں بے انصافی کے خلاف جہدوجہد اور عدل کا نظام قائم کریں گے مگر بدقسمتی سے دوسروں کو انصاف دینے والی پارٹی میں میرے ساتھ کئی بے انصافیاں ہوئیں ۔پارٹی رکنیت کے خاتمے کے خلاف اعلیٰ قیادت تک اپنی فریاد پہنچاچکا ہوں اور اب تک کئی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوا ۔
میں پارٹی کارکنوں کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے میرے ساتھ ہر مصیبت اور آڑے وقت میں ساتھ دیا جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں ۔2013کے الیکشن کے دوران میں نے پی کے 81و 82کے صوبائی امیدواروں کے علاوہ ایم این اے مراد سعید کے ساتھ انتخابی مہم میں بھرپور ساتھ دیا اور اختتامی تقریب میرے رہائش گاہ میں منعقد ہوئی مگر میرے قربانیوں کا صلہ مجھے پرمیرے صوبائی ممبر اسمبلی کے ایماء پر ایف آئی آر درج کیا گیا جس میں میں نے جیل بھی کاٹی ۔ آج میں مجبوراً پارٹی مفلر اور جھنڈا اتار رہا ہوں۔مستقبل کافیصلہ اور لائحہ عمل پارٹی کارکنوں کے باہمی مشاورت سے کیا جائیگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا ۔اس موقع پر پارٹی کے کارکن جس میں پارٹی جھنڈا خالق محمد رحمان عرف ماما،باز محمد خان ،تحصیل کونسلر حاجی نواب خان ،ویلیج کونسل مانیار ناظم اسحاق لالا ،ویلیج کونسل بریکوٹ شرقی ناظم ظفرعلی کے علاوہ پارٹی کے منتخب بلدیاتی نمائندہ گان اور پارٹی کارکن کثیر تعداد میں موجودتھے ۔انہوں نے کہاکہ آج میں مجھے انتہائی دکھ درد محسوس ہورہاہے کہ میں اپنی سالوں کی رفاقت جس میں میری بہت سی قربانیاں اور خدمات ہیں کنارہ کشی اختیار کررہا ہوں مگر یہ سب کچھ میری مجبوری ہے ۔انہوں نے کہاکہ عام انتخابات کے بعد ممبرصوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجدعلی کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کرلیے گئے اسی دوران میں نے بہت کوشش کی کہ پارٹی کے مفادات کے خاطر رغبت و صلہ ہوجائے اور الیکشن میں کامیابی کے بعد میں ان کے رہائش گاہ کو جلوس کی شکل میں بھی مبارک باد کے لئے گیا تھا ۔بعد میں تحصیل بریکوٹ پارٹی تنظیم نے اس وقت کے تحصیل بریکوٹ جنرل سیکرٹری محمد نعیم اور سلطانی روم باچہ کو ثالث بنا کر کمیٹی نشکیل دے دی مگر وہ خود عہدیدار بن کر واپس آگئے ۔میرے خلاف غیر قانونی عدم اعتماد بھی کیا گیا ۔انہوں نے بلدیاتی الیکشن لڑنے کے بارے میں کہاکہ میرا بلدیات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر کارکنوں کے اصرار اور مقامی ایم پی اے کے نامناسب رویے پر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا اور پارٹی کارکنوں اور علاقے کے عوام کے بے لوث محبت کی وجہ سے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا ۔پارٹی رکنیت کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ پارٹی نے 17مارچ 2016کو رکنیت ختم کردی اور رکنیت کی بحالی کے لئے مرکز تک گیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ میری رکنیت بحال ہوجائے ۔پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے میرے رکنیت کے خاتمے پر ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں صوبائی الیکشن کمشنر رستم شاہ مہمند ،ریٹایٹرڈ کرنل ظہور کیانی اور ظفراللہ خان پر مشتمل تھی ان کو اپنی بے گناہی کے تمام ثبوت پیش کئے جس سے وہ مطمئن ہوکر اسی وقت رستم شاہ مہمند ،ریٹایٹرڈ کرنل ظہور کیانی نے رکنیت بحالی کے احکامات جاری کردئیے مگر ظفراللہ نے کہاکہ پارٹی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجینئر شرافت علی اور ڈاکٹر امجدعلی کے مابین صلہ کیا جائے اور یہ ٹاسک ممبرصوبائی اسمبلی فضل الہی کو سونپ دی مگر اس میں وہ ناکام ہوگئے اور ڈاکٹر امجدعلی نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ اگر انجینئر شرافت علی کی رکنیت بحالی کی گئی تو ضلع سوات کے دوایم پی ایز اور 86بلدیاتی نمائندہ پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گے ۔اسی تناظر کو دیکھتے ہوئے پارٹی کو تباہی سے بچانے کے لئے آج میں پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کررہا ہوں اور رکنیت کی بحالی کے لئے مزید اقدامات نہیں اٹھاؤں گا۔
518 total views, no views today


