بریکوٹ, مینگورہ شہر اورگردونواح میں انتظامیہ کی طرف سے چپس وپاپڑ فیکٹریوں کے خلاف کارروائی اور کارخانوں کی بندش کے خلاف پاپڑ وچپس فیکٹری مالکان اوران کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے گراسی گراؤنڈ مینگورہ میں احتجاجی مظاہرہ کیااورکارروائی کوسراسر غیرقانونی قراردیا ، مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا کارخانوں کی بندش بلاجواز ہے اورہم اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ہمارے قانونی اورجائز کاروبار کوبندکریں، ہمارے پاپڑ کے صنعت سے ہزاروں لوگ وابستہ ہیں حکومت ایسے کاموں سے گریز کریں جس سے بدامنی اورسوات میں دوبارہ دہشتگردی کی طرف راغب نہ ہو، آج پرامن احتجاج ہے آئندہ ہم پرامن نہیں رہیں گے ، پاپڑایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹرذاکرمحمد ، نائب صدر حاجی عزیزاحمد، حبیب اللہ خان اور سیف اللہ خان نے مینگورہ میں غیرقانونی طورپرپاپڑ کے کارخانے بندہونے کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ کوئی غیرقانونی کام کریں اگرہمارے یونین سے وابستہ کارخانوں میں جوبھی مضرصحت پاپڑ بناتے ہو، یاصفائی کاخیال نہیں کرتے ان کارخانوں کو بندکیاجائے لیکن اگر کوئی کارخانہ حفظان صحت کے حصول کے عین مطابق ہو انکوبندکرنے کی کوششیں نہ کیاجائے۔ ہم پیر کے دن تک مہلت دیتے ہیں کہ ہمارے تمام کارخانے کھول دیاجائے بصورت دیگرہم بڑے احتجاج پرمجبورہونگے اورآج ہم پرامن ہیں آئندہ ہم پرامن ہونے کی گرنٹی نہیں دے سکتے ۔ ہم سے این او سی کامطالبہ نہیں کیاجائے کیونکہ وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے ملاکنڈڈویژن میں این او سی کاشرط ختم کیاہواہے۔ ہمیں آبادی میں کارخانوں کی موجودگی کے بہانے نہ بنایاجائے کیونکہ سوات میں انڈسٹرئیل ایریا موجود نہیں ہم کہاں جائے۔ ہمیں حکومت غیرقانونی طورپر تنگ نہ کریں۔
922 total views, no views today


