جنوری 2014ء کے پہلے عشرے میں خبریں شائع ہوئیں کہ ہنگو میں نویں جماعت کے طالب علم اعتزاز حسن نے اپنے اسکول پر حملہ آور خودکش بمبار کو اسکول کے اندر جانے سے روکنے کے لیے اُسے پکڑا۔ بارودی مواد پھٹنے سے اعتزاز حسن رتبہ شہادت پر فائز ہوگیا۔ ایسی سعادتیں بہت کم مسلمانوں کو نصیب ہوتی ہیں، جب وہ اپنے ذاتی مقاصد کی بجائے قومی مقاصد پر قربان ہو جاتے ہیں۔
مختلف حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نوخیز شہید کو بعد از مرگ سب بڑے سویلین اعزاز سے نوازے۔ مختلف اہم شخصیات نے اعتزاز کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ مرکزی سرکار آئندہ تیئس مارچ کو اُسے ضرورکسی مناسب اعزاز سے نوازے گی۔
دنیاوی اعزازات صرف اظہار تشکر یا اظہار محبت و احترام کے لیے ہوتی ہیں۔ شہید کا اصل انعام تو اللہ رب العزت عطا کرتا ہے۔ گزشتہ اسی سالوں سے ایک بہت ہی محتاط طریقۂ کار کے ذریعے مخلص مسلمانوں سے جذبہ قربانی، جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت نکالا جا رہا ہے۔ اُن کی نظروں سے دنیاوی امور کے لیے قرآن و سنت رسولؐ اور صحابہ کرام و صالحین، علمائے حق کی تعلیمات کو نکالا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو عملی اسلامی زندگی کی جگہ رہبانیت میں راسخ کیا جا رہا ہے۔ اسلام کا نظام حکومت و حکم رانی، اسلام کا نظام عدل، اسلام کا نظام تجارت اور اسلام کا معاشرتی نظام مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل کیا جا رہا ہے۔ اس ظلم عظیم کو نہایت دل کش طریقے اور زہر کی گولی کو شہد میں لپیٹنے کے انداز میں کیا جا رہا ہے کہ بڑے دانش مند لوگ بھی اس حملے کو محسوس نہیں کرتے بلکہ اس حملے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
اعتزاز حسن کے معاملے پر صوبائی حکومت کی طرف سے تقریباً خاموشی محسوس ہوتی ہے۔ معلوم نہیں کہ اس میں کیا راز ہے؟ البتہ گورنر انجینئر شوکت اللہ، شہید کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے ضرور گئے۔ چوں کہ پاکستان بنانے کا ’’مقصد‘‘ بڑوں کو نوازنا ثابت ہوا ہے۔ اس لیے ہر بڑے نے اپنے کسی نہ کسی رشتہ دار کے نام کوئی نہ کوئی سرکاری عمارت، تنصیب یا شاہ راہ کر دی ہے۔ اعتزاز ایک عام پاکستانی معلوم ہوتا ہے۔ اگر زیادہ کچھ نہ ہوسکے، تو ہنگو کے ہائی اسکول کو اس نوجوان کے نام سے منسوب کیا جائے، تو بہتر ہوگا۔ خان عبدالولی خان ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ تھا، لیکن غنی خان اپنے طرز اور خیالات کا ایک عالم فلسفی آدمی تھا۔ اسی طرح باچا خان ایک سیاسی فکر کا سربراہ تھا۔ علمیت اور فلسفے میں وہ بھی غنی خان تک نہیں پہنچ سکتے۔ بہتر بات ہوگی کہ مردان یونی ورسٹی کو ولی خان کی جگہ غنی خان کے ساتھ منسوب کیا جائے۔ سوات یونی ورسٹی کے لیے بہترین نام جہانزیب یونی ورسٹی ہوگا، لیکن فی الحال ہم اس کی سفارش نہیں کرتے۔ کیوں کہ یونی ورسٹی آف سوات اپنی کم زور بنیادوں اور خراب ترین معیار کی وجہ سے بہت چھوٹی جب کہ میاں گل عبدالحق جہانزیب کی شخصیت، علم دوستی اور عوام کی ترقی کے حوالے سے بہت بڑا نام ہے۔ یونی ورسٹی آف سوات فی الحال اُس عظیم شخصیت کے نام کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ یونی ورسٹی آف سوات کے نام پر ہمیں جو دھوکہ دیا گیا ہے، وہی کافی ہے۔ اسے اسلامی یونی ورسٹی امام ڈھیری کی لاش پر بنایا گیا۔ ایک محل ہے جس کے بہت سارے کام نرالے ہیں۔ پتہ نہیں کہ یونی ورسٹی کہلانے والا یہ محل کس قانون کے تحت تیرھویں جماعت میں داخلے دے رہا ہے۔ جب کہ ماڈل یونی ورسٹیز آرڈی نینس 2000ء کے تحت یونی ورسٹیاں صرف ایڈوانس ریسرچ کریں گی۔ اور یہ کس قانون کے تحت پی ایچ ڈی سے نیچے والی آسامیوں کے لیے سوات ڈومیسائل کی جگہ پاکستانی قومیت کو مشتہر کرتی ہے۔ کس قانون اور کیوں بہت ساری خالی آسامیوں کے لیے ایل ایل بی ہونا ضروری خیال کرتی ہے۔ سنا ہے کہ عبدالولی خان یونی ورسٹی مردان نے بونیر میں اپنے کیمپس کھولے ہیں۔ اگر واقعی یہ درست ہے، تو یونی ورسٹی آف سوات نے کس قانون کے تحت عبدالولی خان یونی ورسٹی مردان کو بونیر میں کیمپس کی اجازت دی۔ اس کی ایل ایل بی کی ٹیم یہ کیوں نہ دیکھ سکی؟
اسلام ہر مسلمان سے تقاضا کرتا ہے کہ جب وہ کسی برائی کو دیکھے، تو اُسے ہاتھ سے روکے۔ اعتزاز حسن نے برائی کو دیکھا اور شیر کی طرح اُس پر جھپٹا۔ خود شہید ہوگیا، لیکن اپنے سیکڑوں طالب علم بھائیوں کو بچا لیا۔ ہم سلام پیش کرتے ہیں، اُس ننھے شید کو۔ یہی ایک مسلمان کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم مقصد کے لیے اپنی زندگی کا بھی خیال نہیں رکھتا۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
قرآن کا حکم ہے کہ خود بھی نیکی کرو اور دوسروں کو بھی نیکی کی طرف بلاؤ۔ خود بھی برائی سے بچو اور دوسروں کو بھی برائی سے بچاؤ۔ انسانیت کی فلاح کے لیے اپنی جان کو قربان کرنے پر عظیم ترین انعام شہادت نصیب ہوتی ہے۔ علماء جہاد کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں کہ ہر برائی، ہر ظلم، ہر انسانی حق کی تلفی کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنے کو بھی جہاد کہتے ہیں۔ اور جہاد افضل ترین عبادت ہے۔ حق کے دفاع میں مسلح جنگ بھی جہا دہے اول ترین درجے کی کیوں کہ اس میں جان و مال سب کی قربانی دینی ہوتی ہے۔
922 total views, no views today


