مینگورہ، ڈاکٹروں کی لاپرواہی،دوماہ کا بچہ زندگی کی بازی ہارگیا،والدین اورلواحقین سراپااحتجاج،بچے کی میت کو اٹھاکر سوات پریس کلب پہنچ گئے،فوری تحقیقات کا مطالبہ،اس حوالے سے سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے علاوہ جانو کے رہائشی محمدسالاراورصاحب شیرنے میڈی کو بتایا کہ چنددن قبل وہ دوماہ کے بچے کو سیدوشریف میڈیکل کمپلکس لے گئے جہاں پر ان سے اٹھائیس ہزارروپے اپریشن کی فیس لی گئی اپریشن کے بعدہمیں فارغ کردیاگیا ،انہوں نے کہاکہ ہم بچے کی مقامی سطح پرمرہم پٹی کرتے رہیں
تاہم بعدازاں دوبارہ بچے کوکمپلیکس لائے تو وہاں پر گیٹ پر موجود شخص نے ہمیں اندرجانے سے روک دیا، کافی دیر گزرنے کے بعدجب اندرگئے تو ڈاکٹر نے گیٹ پر موجود شخص کو ٹانکے نکالنے کی ہدایت کی ،ٹانکے نکالنے کے بعدتین گھنٹے تک بچہ اسی طر ح پڑارہا اورآخر کاردم توڑدیا،انہوں نے کہاکہ ہم نے بچے کااس لئے پرائیویٹ علاج کرایا کہ وہاں پر صحیح طریقے سے تشخیص ہوگا مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہاں پر ہماربچہ دم توڑجائے گا،انہوں نے صوبائی حکومت اوردیگراعلیٰ حکام سے اس سلسلے میں تحقیقات کی اپیل کی ہے،جب اس سلسلے میں متعلقہ ڈاکٹر کا موقف جانے کیلئے ان سے ان کے نمبر پر رابطہ کیا گیاتو انہوں نے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اتوارکو کمپلکس کی چھٹی ہوتی ہے جبکہ آج پیر کو بھی وہ سنٹرل ہسپتال میں ڈیوٹی پر ہے اور کمپلکس نہیں گیا،انہوں نے کہاکہ ہمار اکام دکھی انسانیت کی خدمت کرناہے اورجو بھی مریض آتا ہے ہم اپنی طرف سے ان کی بھرپوراندازمیں خدمت کرتے ہیں۔
587 total views, no views today


