مینگورہ، بری کوٹ میں دو لاکھ آبادی کیلئے بنایا گیا واحد گرلز ڈگری کالج تمام بنیادی سہولیا ت سے محروم ، کوئی پرسان حال نہیں 300طالبات کے لیے ٹیچر ز کا بندوبست نہیں ۔24ٹیچروں کی ضرورت صرف 8مشکل سے پورا کرتے ہیں۔سائنسی الات اور ٹیچر کا بندوبست نہیں ہوسکا پختون معاشرے کا مذاق لڑکیوں کالج کے پردے کا کوئی انتظام نہیں 6کروڑ کی لاگت سے بننے والی اس بلڈنگ بارانی پانی آتا اور بلڈنگ کو بوسیدہ کرتا ہے ۔
19گریڈ کے دو ٹیچر گھر بیٹھے تنخواہ وصول کررہے ہیں ، بچوں کو کالج تک چھوڑنے کیلئے بس چار سالوں سے کھڑی ہے ۔یواے ای کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ ،حکام نوٹس لیں ۔ سب ڈویژن بریکوٹ ہر دور میں نظر کیا گیا ہے بڑی مشکل سے گزشتہ دور میں دو لاکھ آبادی کیلئے گرلز ڈگری کالج کا بلڈنگ یواے ای کے تعاون سے تقریبا چھ کروڑ روپے سے قائم ہوگئی لیکن عمارت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کسی قسم کا انتظام موجود نہیں جس کے وجہ سے ابھی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے دوسری جانب اس کالج میں کسی قسم کی بنیادی سہولیات موجود نہیں، 300طالبات کے لئے صرف 8 ٹیچر ہیں حالانکہ اس کالج کو 24ٹیچروں کی ضرورت ہیں ،معلوم ہوا ہے کہ با اثر افراد کی وجہ سے 19گریڈ کے ٹیچرز تنخواہ لیتے ہیں مگر پڑھائی کرنے کے لئے کالج نہیں آتے،کالج میں ایک بس چار سال سے کھڑی ہے جو چلنے کے قابل نہیں اور ڈرائیور باقاعدہ تنخواہ لیتا ہے اس کالج میں بی ایس سی کے لئے کوئی سہولت اور ہاسٹل تک بھی موجود نہیں جوکہ دور دراز سے انے والے سٹودنٹس اور ٹیچرز کے لئے مشکلات کا باعث ہے کالج میں نکاس آب کا کوئی انتظام موجود نہیں جس کے وجہ سے رٹنگ وال زمیں بوس ہونے کا خطرہ ہے کالج انتظامیہ نے اپنی مدداپ کے تحت تقریباً 75ہزار روپے پر چار لیکچرار کا بندوبست کیا ہے کروڑوں مالیت کی بلڈنگ تباہ ہونے کا خطرہ ہے اور پختون معاشرے میں اتنے بڑے کالج کی باونڈری وال 6 فٹ ہے جس سے باآسانی پورا کالج نظر آتا ہے کالج کے لئے پولیس سیکورٹی بھی انتہائی ضروری ہے مقامی ایم پی اے نے تا حال کوئی ٹوس اقدام نہیں کیا،مقامی حلقوں نے حکومت اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذکورہ کالج کی زبون حالی دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
548 total views, no views today


