چھے اپریل کو ایک نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر ڈیرئ ضلع شانگلہ کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کر رہے تھے۔ اس روڈ کی ناگفتہ بہہ حالت دیکھ کر بہت دُکھ ہوا۔ مجھے وہ زمانہ یاد آیا جب ریاستی دور میں اس کی دیکھ بھال اتنی عمدگی اور تسلسل سے ہوتی رہتی تھی کہ باوجود کچہ سڑک ہونے کے، اس میں معمولی سا گڑھا بہ نہیں ہوتا تھا اور ٹریفک بھی اس قدر نہیں تھی، پھر بھی ڈھیرئ سے لے کر چکیسر تک آپ اس پر ہم وار سفر کرسکتے تھے۔ مذکورہ روڈ کوٹکے پورن روڈ سے ڈھیری کے مقام پر چکیسر کی طرف جاتی ہے۔ کوٹکے سے پورن کے تحصیل ہیڈ کوارٹر آلوچ تک پکی سڑک ہے، جو مقامی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے طفیل ہی سے ممکن ہوسکا ہے۔ کیوں کہ ان کا تعلق اسی علاقہ سے ہے۔ ان میں مرحوم پیر محمد خان، اُن کے بیٹے فضل اللہ خان اور انجینئر امیر مقام اور موجودہ ایم این اے ڈاکٹر عباداللہ جو اس سے پہلے ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین بھی تھے، کی مساعی شامل ہیں۔ لیکن چکیسر کی طرف نکلنی والی یہ اہم سڑک ابھی تک پختہ ہونے سے محروم ہے۔
والئی سوات کے دور میں جب یہ سڑک تعمیر ہورہی تھی، تو اغلباً ہم اسکول کے طالب علم تھے۔ یہ ریاستی فوج کے ذریعے بنائی جا رہی تھی اور اس کی عمومی نگرانی کے لیے سیدوشریف سے ایک کپتان جاکر وہاں کیمپ لگاتے تھے۔ وہ صاحب بہت زیادہ سخت گیر اورڈسپلن کے معاملے میں بہت سنجیدہ تھے۔ خود بھی ڈیوٹی کے اوقات کار میں موجود رہتے تھے اور کسی کو سر جھکانے کی مہلت بھی نہیں دیتے تھے۔ ڈھیری سے تقریباً تین کلو میٹر کے فاصلے پر ’’ٹواہ‘‘ نامی پہاڑی کے ٹاپ سے یہ سڑک دوسری جانب نیچے اُترتی ہے۔ اس زمانے میں پروفیشل مہارت کے فقدان کی وجہ سے مذکورہ پہاڑی سے سڑک موڑ در موڑ نیچے اُترتی ہے اور اس میں اٹھارہ ’’وی موڑ‘‘ V.Curves بنائے گئے تھے۔ یہ اس سڑک کے تعمیری مراحل میں سب سے مشکل اور صبر آزما مرحلہ تھا۔ سپاہی مسلسل کام اور کپتان صاحب کی سخت نگرانی سے بے زار ہوگئے تھے، لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق مجبور تھے۔ اپنی فرسٹریشن اور غصہ اور بے بسی کا مداوا کرنے کے لیے انھوں نے ایک عجیب طریقہ نکالا۔ انھوں نے کپتان کا کوڈ نام ’’ٹواہ‘‘ رکھا۔ ایک سپاہی کام کرتے کرتے اچانک بیلچہ کے سہارے کھڑے ہوکر چلاتا ’’ٹواہ‘‘ اور دوسرے سپاہی ٹواہ کو گالیاں دینے لگتے جب کہ دراصل اُن کی سب وشتم کا نشانہ کپتان صاحب ہوا کرتے تھے اور یہ ساری گوہرافشانیاں اُن کی نذر کرتے تھے۔ کپتان نے دو تین دن بہت ضبط کیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ ان سپاہیوں کا اصل مخاطب ’’ٹواہ‘‘ نہیں بلکہ وہ خود ہی ہے۔ ایک دن اس نے دوران کام عین اُسی وقت اُن کو مخاطب کیا، جب وہ گالیوں کا پہلا چکر پورا کرکے خاموش ہوگئے تھے۔ ’’سنو! گدھے کی اولاد، میں جانتا ہوں کہ تم ’’ٹواہ‘‘ کی آڑ میں یہ ساری گالیاں مجھے دیتے ہو۔ تم سب کی۔۔۔‘‘ سارے سپاہی زور زور سے ہنسنے لگے اور اس دن کے بعد انھوں نے ’’ٹواہ‘‘ کو گالیاں دینا چھوڑ دیا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں، اُن دنوں میں اسکول کا طالب علم تھا۔مذکورہ کپتان صاحب کی رہائش گاہ افسر آباد میں پہاڑ کے دامن میں واقع تھی۔ مذکورہ مکان اس محلے کا آخری مکان تھا، سوائے افسر آباد مسجد کے۔ سرکاری پیش امام کے، جن کا ایک چھوٹا سا مکان اُن کے قریب ہی واقع تھا۔ جب وہ چند دنوں کے لیے ’’ٹواہ‘‘ سے آتے، تو میں اپنے والد کے ساتھ ہر شام کو اُن کے دیرے پر ریڈیو سننے جایا کرتا۔ ایک دن انھوں نے ہمیں یہ واقعہ سنایا، تو ہم بہت ہنسے۔ اس سڑک کی عمدہ دیکھ بھال کے لیے پھر کئی مستقل سپاہی لگائے گئے تھے۔ اسی سڑک پر والئی سوات تین بار چکیسر کے دورے پر آئے تھے۔ اگر اُس زمانے کا کوئی باشندہ زندہ ہو تو وہ گواہی دے گا کہ اس کی حالت آج کل کی پختہ سڑک سے بھی اچھی تھی۔ جب بعد میں، مَیں 1961ء میں اسٹیٹ پی ڈبلیو ڈی میں ملازم ہوا، تو کئی بار اس سڑک سے سفر کرنا پڑا۔ ہماری سرکاری پک اَپ اسی سڑک پر پچاس ساٹھ میل کی رفتار سے چلتی تھی اور ہمیں کوئی دھچکا وغیرہ کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔
ذکر شدہ ٹی وی رپورٹ میں جب ’’خالد خان رپورٹر‘‘ مقامی لوگوں سے انٹرویوز لے رہے تھے، تو وہ یک زبان ہوکر یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اگر اس کو حکومت پختہ نہیں کرتی، تو صرف اس پر شنگل بچھائے اور اس کی سطح پر بنے ہوئے گہرے کھڈے بھر دے۔ ایک معمر شخص نے کہا کہ یہ والئی سوات کے دور کی نشانی ہے اور اس کا وجود ہی خطرے میں ہے۔
ضلع شانگلہ میں جتنے بھی تعمیری کام، ادغام کے بعد ہوئے ہیں، وہ امیر مقام کی کوششوں سے ہوسکے ہیں۔ اب جب کہ وہ وفاقی حکومت میں نہایت اہم عہدے پر متمکن ہیں، اُن کو اس ہم سڑک کی تعمیر و پختگی کے لیے اپنا اثر و رسوخ کام میں لانا چاہیے۔ صوبائی حکومت میں تو ہمیں کسی قسم کی اہلیت نظر نہیں آتی۔ تبدیلی کے دعوے دار صرف اپنی سہولتوں اور مراعات میں اضافہ کررہے ہیں۔ اور وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج ہی کھڑی کرسکے ہیں۔ سب کو حصہ بہ قدرِ جثہ فراہم کررہے ہیں۔ انجینئر صاحب وفاقی حکومت ہی سے اس سڑک کے لیے گرانٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں، تو لوگوں کے دل جیت لیں گے۔
1,656 total views, no views today


