حلقہ پی کے چھیاسی سوات سات کے ضمنی انتخابات بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہوئے آخر کار منطقی انجام تک پہنچ گئے ہیں اور تحریک انصاف کا انصاف صرف سوات نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک میں لوگوں پر اشکارہ ہوگیا ہے ۔ انصاف مافیا نے پشاور میں جس طرح ’صحت کا انصاف‘ پروگرام شروع کیا تھا، اسی طرح سوات کے اس حلقے میں ’انتخاب کے انصاف‘ کا ڈھول ڈال کر ’حق بہ انصاف رسید ‘کا بھر پور دفاع کیا ۔الیکشن کے دن ہوتا کچھ یوں ہے کہ راقم صبح آٹھ بجے کیمرہ مین مراد علی باچہ اور نیاز احمد کے ساتھ خوازہ خیلہ کیلئے روانہ ہوئے اور ساڑھے آٹھ بجے کے قریب چارباغ پہنچ گئے تو دیکھا کہ ووٹ پول کرنے کا عمل جاری ہے لیکن رش نہیں ،یہ سمجھ کر کہ چلو لوگ بعد میں آنا شروع ہوجاینگے، خوازہ خیلہ میں داخل ہوئے تو یوں لگ رہا تھا کہ یہ سوات کا حصہ نہیں بلکہ پشاور ،اسلام آباد یا کراچی ہے جہاں پر انتخابی پولنگ جاری ہے کیونکہ وہاں پر بغیر نقاب کے خواتین گھوم پھر رہے تھے اورانکے روپ سنگار سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ خوازہ خیلہ ہے معلوم ہوا کہ یہ خواتین پشاور ،مانسہرہ اور دیگر شہروں سے مہم کیلئے بلائی گئی ہیں ،حیرانگی تو ہوئی لیکن بعد میں 15 خواتین کو جعلی ووٹ پول کرنے کے الزام میں جب پکڑا گیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی خواتین تھے جو مختلف شہروں سے لائے گئے تھے ،خیر صرف محبت اور جنگ میں نہیں،’سیاست اور انتخابات‘ میں بھی سب کچھ جائز ہے پاکستان میں شفاف انتخابات کبھی ہوئے ہیں اور نہ کبھی ہونگے ۔ سوائے پر ویز مشرف کے ریفرنڈم کے جو صاف و شفاف تھا جس میں میرے سامنے ایک شخص نے صرف ساٹھ ووٹ ڈال کر اس کی شفافیت پر مہرِ تصدیق ثبت کی تھی ۔ اس شفافیت پر صرف میں نہیں میرے ساتھ کھڑے ایک ایس ایچ او کو حیران بھی کردیا تھا ۔ اپناخیال تھا کہ عمران خان نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا ہے اور شفاف انتخابات کے اعلانات کر رہا ہے شاید اس سے یہاں کے عوام کی تقدیرتبدیل اوراس ملک کے عوام کا بھلا ہوجائیگا لیکن اب توخوازہ خیلہ کے انتخابات کے بعد سوچ رہا ہوں کہ یہ سیاسی بیانات ہیں،اور دعا گو ہوں کہ یا اللہ بلدیاتی انتخابات سرے سے ہوہی نہ جائیں ،اس طرح کے انتخابات سے عوام کو کیا فائدہ مل سکتا ہے ۔سوائے چند مخصوص افراد کے جو پہلے ہی سے سونے کے چمچے منہ میں لئے پیدا ہوئے ہیں۔
خیرایک پارٹی کے رہنماؤں نے پندرہ خواتین کوپکڑ لیا کہ اس دوران دوسرے پارٹی کے کارکن ان کو چھڑا کر بھگا لے گئے لیکن دو خواتین رخسانہ اور مسکان جنکا تعلق پشاور سے تھا انکو حوالہ پولیس کیا گیااور یہی وہ خواتین ہیں جن کے نام اخبارات میں شائع ہوئے آپ لوگ مانیں یا نہ مانے،اس وفا داری کے بدلے انکو مشیر یا مخصوص ذمہ داری دی جائیگی خیر ان خواتین کی حراست میں لینے کے بعد وہاں کے دیگر پارٹیوں کے کارکنوں نے سکھ کا سانس لیا اورسوچا کہ دھاندلی وغیرہ کا خطرہ توڑا کم ہوگیا کہ اچانک مقامی ایم این اے سلیم رحمان کو اطلاع مل گئی ، وہ پولیس سٹیشن خوازہ خیلہ پہنچ گئے ، ان خواتین کو پولیس سٹیشن سے چھڑا کر لے گئے اوران سے جب محترم کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو افسران بالا کو فوری طور پر حکم دیا کہ جس ڈی ایس پی نے دھاندلی کرنے کے الزام میں گرفتارخواتین کو چھوڑنے سے انکا ر کیا تھا اور انتخابی عمل میں مداخلت کی انکو فوری طور پر کھڈے لائن لگا دیا جائے اور یوں دہشت گردی کی جنگ میں قربانیاں دینے والے خود پر اور پولیس اہلکاروں اور تنصیبات پرطالبا ن کے دس حملوں میں پورے پولیس کی جان بچانے والا اور ان کے عزائم ناکام بنانے والے ایک ایماندار اور تجربہ کار ڈی ایس پی مذکر شاہ خان تحریک انصاف کی انصاف کی بھینٹ چڑھادیا اور انکو کھڈے لائن لگا کر فوری طور پر پولیس لائن میں حاضر ہونے کا اعلامیہ وائرلیس پر نشر ہواورمنٹوں میں اسے اپنا بوریا بستر گول کر روانہ ہونے کی ہدایت کی گئی جس پر ایک دفعہ نہیں صد دفعہ افسوس ہوا کیونکہ باقی کوئی بھی ہوتا تویہی کرتا کیونکہ پولیس میں اس طرح کی سیاست اور تبادلے تو معمول کی بات ہے لیکن ڈی پی او شیر اکبر خان کی موجودگی میں ایسا کرنے پر کچھ زیادہ ہی افسوس ہوا میرے خیال میں شیر اکبر خان نے اس افسر سے تو شکوہ کیا ہوگا جنہوں نے سیاسی طور پر اس ڈی ایس پی کو کھڈے لائن لگا دیا ،،کہ یہ زیادتی ہے ،،کیونکہ شیر اکبر خان سوات میں اپنے فورس کا بہت خیال رکھتے ہیں اور کبھی اپنے اہلکاروں پر سودا بازی نہیں کرتے ،انہوں نے اس اعلی افسر کے سامنے یہ لب کشائی کی ہوگی کہ ،انکا جرم اور قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کی ،
یہاں پرایم این اے سلیم رحمان سے میرا ایک سوال ہے دہشت گردی کے سال 2007 میں جب آپ ہی کے حلقے کے عوام سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہے اور وہاں پر ایک مخصوص گروپ نے پورے علاقے کواسلام کے نام پر یرغما ل بنالیا تھا اسی ڈی ایس پی(اس وقت کے ایس ایچ او جو خوازہ خیلہ پولیس ہی میں تعینات تھے )نے چھ ماہ تک اپنی جان پر کھیل کر اپکی اور اپ کے ان ووٹران کی حفاظت نہیں کی تھی اور اگر اپکا حافظہ کمزور ہو تو میں یاد دلاتا چلو کہ اسی ڈی ایس پی نے پولیس سٹیشن خوازہ خیلہ پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا تھا ،ابھی تو اپ ایم این اے اور حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں اور وی ائی پی پروٹو کول کے خاتمے کے اعلانات کی دھجیاں اڑارہے ہیں لیکن میں یاد د لاتا رہوں کہ کتنے بموں کوانہوں نے ناکارہ بنایا تھا کتنے سکولوں کی حفاظت کی تھی لیکن خیر اقتدار کی نشے میں مست لوگوں کو ان سب کی کیاپرواہ ۔کہ کس نے اس علاقے کی خدمت کی ہے ،ان پولیس اہلکاروں نے اپنے خون کے نذرانے پیش کئے ۔ کیا ایم این اے سیٹ پر کامیابی کے بعد دس ما ہ ہوگئے ہیں اپ نے ان 102 پولیس اہلکاروں میں سے کسی ایک کے گھر کا پوچھا ہے کہ انکے گھر میں کیا پک رہا ہے انکے بیوی بچوں کی زندگی کیسے گزر رہی ہے ؟ اور اگر کوئی کام کیا ہے تو انہی خواتین کو چھڑانے اور ایک ایس ایچ او کا تبادلہ کیا ہے
لیکن ہمارے افسران نے بھی کسی بھی وضاحت یا تحقیقات کے بغیر ان کے قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا انکو ٹرانسفر کرانے کا حکم دیا ،کیا یہ پی ٹی ائی کے اعلانات اور انتخابی
منشورکی کھلا کھلم خلاف ورزی نہیں ہے ،کیا انتخابات سے دو روز قبل تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے خوازہ خیلہ کے گراونڈ میں یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ پولیس سے سیاست کا خاتمہ کردیا ہے پولیس کو بااختیار بنا دیا ہے کیا یہ ہے ہماری سیاست سے پاک اور با اختیار پولیس ؟
کس کس نے نہیں دیکھی دھونس اوردھاندلی ؟آج تمام سیاسی پارٹیاں احتجاج پر مجبورنہیں ہیں اورانہوں نے اسی حلقے کے انتخابات کو مسترد نہیں کیا ہے ؟اوراب وہ الیکشن کمیشن سے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں
میں خود گواہ ہو ں جب خوازہ خیلہ کے خواتین پولنگ سٹیشن پر ایک بارہ سالہ بچی جسکا کارڈ تک نہیں بناتھانے ووٹ پول کیا اور اسکے انگوٹھے پرسیاہی کا نشان دیکھ کر ن لیگ کے ڈویژنل صدر خواتین ونگ شاہ عزت نے انکو پکڑا اور اسکے پاس پانچ مذید شناختی کارڈ ز برآمد کئے اور جب پولیس کے حوالے کیا تو ایک پارٹی کے کارکنوں نے انکو چھڑا دیا کیا یہی ہوتے ہیں شفا ف انتخابات ؟
غیر سیاسی پولیس کا ایک اور کارنامہ بھی سنیں ،خوازہ خیلہ میں ن لیگ اور پی ٹی ائی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ میں جسکی لاٹھی اسکے بھینس کے مصداق ن لیگ کے سابق ایم پی اے قیموس خان ،سابق امیدوار سردار خان انکے دو بھائیوں ،بھانجوں اور بھتیجوں سمیت انکے خاندان کے بیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا کیا اس وقت برد باری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ ہزاروں لوگ گواہ ہے کہ اس وقت قیموس خان اور سردار خان سنگوٹہ میں امیر مقام کے رہایش گاہ پر موجود تھے لیکن جب ن لیگ کے انہی رہنماوں کی جانب سے اپنے گھر پر حملے کی درخواست دی گئی تاحال ان ملزمان کے خلاف جنکی نشاندہی کی گئی ہے کاروائی سے گریز کیا جارہا ہے کیا یہی ہے غیر سیاسی پولیس ؟خوازہ خیلہ میں ڈیوٹی دینے والے سب انسپکٹر اکبر حیات کو جب اسی پارٹی کی شکایت پر تبدیل کیا جارہا تھا تو اس وقت اکبر حیات کا موقف کیوں نہیں سنا گیا کہ اس نے تو اس گاڑی کو ایک ہزار روپے دیکر بک کیا تھا ۔
سوات کے تمام منتخب ایم پی ایز اور ایم این ایز جو کہ اپنی ذاتی حیثیت سے کتنی دفعہ کونسلرز کی انتخابات میں پنجہ ازمائی کر چکے ہیں اور وہ بھی نہیں جیت سکتے آج اقتدار کے نشے میں اتنے دھت ہو چکے ہیں کہ ایک مقامی ایم پی اے کے سسر نے اپنے بیٹے اور غنڈوں سمیت انجینئر ذاکر خان پرغیر قانونی نقشہ پاس نہ کرنے پر بھرے ٹی ایم اے آفس میں حملہ کرتا ہے اور وہ بے چارہ اپنی جان بچانے کی خاطر کئی روز تک غائب رہتا ہے کیا یہ ہے تحریک انصاف کا انصاف ؟کیونکہ اس جگہ پر سول کورٹ میں کیس چل رہا ہے ،اس سے قبل غیر قانونی تعمیرات سے روکنے پر ایک ایماندار اور سوات کے عوام کے ہمدرد اے سی فرخ عتیق بھی انہی افراد کے زیر عتاب آکر یہاں سے تبدیل کیا گیا ہے ۔کیا عبدالکبیر قبضہ مافیا کے غلط کام نہ کرنے پر تبدیل نہیں کیا گیا؟
کیا پی ٹی ائی کے چیر مین عمران خان جو بلند و بانگ دعوے کر رہا ہے جنکی ’تبدیلی ‘کے غبارے کی ہوا ابھی نہیں نکلی ہے جو اس ملک نہ اس صوبے میں تبدیلی کے خواہاں ہے ان سب کا انکو کوئی علم نہیں ہے ۔کہ انکے لاڈلے ممبران اسمبلی کیا کیا گل کھلا رہے ہیں،کیا انہیں سوات میں غیر قانونی تبادلوں اور تقرریوں کا علم نہیں ہے ۔
اب سوات کے عوام مزید یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتے ، خوشی کی بات ہے کہ یہاں کی سول سوسائٹی نے ٹھوس بنیادوں پر اپنی کوشیشوں کا آغاز کردیا ہے اور یہاں کے ممبران اور رہنماوں کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنا شروع کردیے ہیں اور ان افراد میں خود پی ٹی ائی کے نظریاتی رہنما بھی شامل ہیں جو ثبوت اکھٹے کر کے جلد ہی ایک وائٹ پیپر شائع کرینگے، دیکھنا یہ ہے کہ ان قبضہ مافیا ،جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے والوں ،وی ائی پی پروٹوکول کی مزے لوٹنے والوں ،پی ٹی ائی کے منشور کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف عمران خان کوئی ایکشن بھی لیتے ہیں یا ان کے تبدیلی کے اعلانات صرف اعلانات تک محدود ہے ؟
968 total views, no views today


