خبر کب وجود میں آئی؟ اس کے لیے کسی خاص زمانے کا تعین تاحال نہیں کیا جاسکا ہے۔ ابتدائی دور سے ہی انسان ایک دوسرے کے بارے میں جاننے، اپنے ماحول اور اس میں رونما ہونے والے واقعات و حالات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا متجسس تھا۔ انسانی معاشرہ کے ابتدائی ادوار میں بھی انسان اپنے عزیز و اقارب کے حالات اور علاقہ کے واقعات سے باخبر رہنے کی ضرورت محسوس کرتا اور آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتا تھا۔ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ انسان دوسروں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتا ہے اور معاشرہ، زمین و آسمان دنیا اور اس میں بسنے والی مخلوق (جانور اور انسان دونوں) کے بارے میں علم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ علم البشریات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پتھر کے دور میں بھی انسان جنگلوں، غاروں، وادیوں، دریاؤں کے کناروں اور بیابانوں میں رہتے تھے۔ انھیں اپنے ارد گرد کے ماحول سے با خبر رہنے میں دل چسپی تھی۔ وہ ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے تھے۔ وہ ابتدا میں اشاروں، کنایوں میں بات کرتے یا پھر خاکوں، تصویروں اور لکیروں کے ذریعے اپنا مافی الضمیر بیان کرتے تھے۔ پھر جب انسان بات کہنے کے لائق ہوا اور زبان وجود میں آئی تو حالات و واقعات سے آگاہی کا طرز بھی بدلا اور مٹی کی ٹکیوں، چٹانوں اور پتھر کے سلوں پر تحریری اشاروں کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کا دور آیا۔ پھر بادشاہوں، راجوں اور مہاراجوں کے فرمان مختلف علاقوں میں لوگوں تک پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ انسانی تاریخ کا ابتدائی دور تھا اور خبر نگاری کی بالیدگی بھی ساتھ ساتھ جاری رہی، جوں جوں وقت گزرتا گیا اظہار کی صورتیں واضح اور بہتر ہونے لگیں اور اس میں جدت آتی گئی۔
برصغیر میں خبروں کی ترسیل کا نظام اشوک کے زمانہ میں شروع ہوا۔ چندر گپت کے دور میں اس میں بہتری لائی گئی۔ چندر گپت کے وزیراعظم کو خبروں کی ترسیل کا خاصا شعور تھا۔ اس نے اس میں بہت سی اصلاحات کیں اور نئے طریقے رائج کیے۔ اس مقصد کے لیے خاص افراد مقرر کیے جو ’’پلسا‘‘ کہلاتے تھے۔ ان کا کام خفیہ طریقوں سے خبروں کی چھان بین تھا۔
ظہور اسلام سے قبل عرب میں خبر رسانی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں اس پر توجہ دی گئی۔ امیر معاویہؓ کے دور میں ’’البرید‘‘ یعنی ڈاک کا باقاعدہ نظام قائم ہوا اور مملکت کے مختلف حصوں کی خبریں حاصل کرنے اور دوسروں علاقوں میں احکامات پہنچانے کا منظم سلسلہ شروع ہوا۔
برصغیر میں ڈاک کا نظام غزنوی کے حکم رانوں نے جاری کیا اور سلاطین دہلی کے عہد میں اسے عروج حاصل ہوا۔ بلبن سلطان کے دور میں تمام شہروں اور قصبوں میں وقائع نگار مقرر کیے گئے۔ علاؤالدین خلیجی کے عہد میں اس نظام سے تجارتی نرخ قائم رکھنے میں بھی مدد لی جاتی تھی۔ محمد بن تغلق نے خبر رسانی میں تیز رفتاری پر توجہ دی۔ اس زمانہ میں ڈاک کی ترسیل کے لیے گھوڑے استعمال ہوتے تھے۔ برصغیر میں صحافت کے ابتدائی ادوار تھے۔ جوں جوں وقت بڑھتا گیا صحافت کے معیار اور وسعت میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور خبر نویسی جدید رجحانات اور نئے تقاضوں سے روشناس ہوتی گئی۔
تاریخ صحافت کی ابتدائی منازل میں خبر کی کوئی طے شدہ شکل نہیں تھی۔ اسے بنانے اور سنوارنے اور تکنیکی لحاظ سے آراستہ کرنے کے لیے باقاعدہ کلیہ موجود نہیں تھا۔ خبر ایک عام سی بات ہوتی تھی اور ذاتی خیال، آراء، افواہوں اور سنی سنائی باتوں کو بھی خبر کے زمرے میں ڈال دیا جاتا تھا۔
جب اخبار نویسی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسے صنعت کی حیثیت حاصل ہوئی تو اخبارات میں مسابقت اور مقابلہ شروع ہوا۔ جدید پرنٹنگ پریس قائم ہوئے اور اخبارات کی اشاعت بڑھانے اور قارئین کو معیاری اور مصدقہ خبریں فراہم کرنے کا دور آیا تو خبر میں بھی نکھار آئی اور اسے بنانے اور اس کی نوک پلک سنوارنے کے طریقے اور قاعدے وضع ہوئے اور خبر نگاری کو باقاعدہ ایک علمی اور فنی موضوع کی حیثیت حاصل ہوئی۔ پاکستان میں 1960ء کے عشرہ میں اردو صحافت جدید طرز طباعت سے روشناس ہوئی۔ خبر کو پیشہ ورانہ مہارت اور تقاضوں کے عین مطابق ڈھالا گیا اور اخبارات نے خبر کی تیاری میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ اب خبر کی تمہید، متن اور اختتامیہ پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ خبر کے چناؤ میں زبان کی سادگی اور شائستگی اور مٹھاس لانے کی طرف تمام اخبارات خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
3,060 total views, no views today


