پرانے وقتوں میں داستان گوئی بہت مقبول تھی اور ایسا لگتا ہے کہ روز کہیں نہ کہیں قصہ گوئی کی محفلیں سجتیں اور لوگ ان سے محظوظ ہوتے۔ اکثر ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ داستان گو مرد یا عورت سامعین سے پوچھتا؍پوچھتی کہ آپ بیتی کہوں یا جگ بیتی۔
قارئین کرام! میں کوشش کروں گا کہ سنی سنائی کے بجائے اپنی یاد داشتوں سے کچھ آپ حضرات کے ساتھ شیئر کروں۔ سالنڈہ چوک میں تو آج کل عمارات کا ایک جنگل اُگ آیا ہے۔ کسی وقت یہاں پر ایک کشادہ حجرہ اور دو تین مکانات کے علاوہ دور دور تک آبادی کا نشان نہیں تھا۔ یہ حجرہ اور مکانات ’’سپینے اوبو‘‘ سے تعلق رکھنے والے اہل سادات کے ایک مشر ’’صنوبر پاچا‘‘ کی ملکیت تھے۔ اُن کے ایک بھتیجے میاں گل بوستان پاچا اسٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے ٹھیکہ دار تھے۔ میری ملازمت کے ابتدائی دو تین سالوں میں میرا ان سے چکیسر کے سول اسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں واسطہ رہا۔ ان ہی کی وجہ سے مجھے ’’صنوبر پاچا‘‘ سے کئی دفعہ ملاقات کا موقع ملا۔ میں نے جب ایک دفعہ اپنے والد سے اُن کا ذکر کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ صنوبر پاچا سڑک کے محکمے میں صوبے دار میجر تھے۔ ان کی نگرانی میں فضا گٹ سے خوازہ خیلہ تک کا علاقہ تھا اور وہ اس سڑک پر تعینات سپاہیوں کے کام کی نگرانی کرتے تھے۔ ان دنوں یہ سڑک ابھی پختہ نہیں تھی، پھر بھی سپاہی اس کو ایسی فارم میں رکھتے کہ گاڑی چلاتے ہوئے معمولی سا دھچکا بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔
ایک دفعہ والئی سوات کی گاڑی کو چارباغ کے آس پاس کہیں معمولی سے جھٹکا لگا۔ واپسی پر انھوں نے صنوبر پاچاکے حجرے کے قریب گاڑی رُکوا کر انھیں بلوایا اور کہا کہ فلاں جگہ پر اُن کو سڑک غیر ہم وار محسوس ہوئی ہے۔ صنوبر پاچا نے عرض کیا کہ وہ مطلوبہ جگہ جاکر اسے ٹھیک کروادیں گے۔ کوئی ہفتہ بھر بعد والی صاحب کا گزر پھر اُس جگہ سے ہوا، تو ان کو پھر دھچکا محسوس ہوا۔ انھوں نے صنوبر پاچا کو دفتر بلا کر ان سے جواب طلبی کی، تو انھوں نے جواب دیا: ’’دیکھیں صاحب، خدانے زمین اونچ نیچ کے بغیر نہیں بنائی اور آپ مجھ سے ہم وار زمین کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ لیں میرا استعفا۔ مجھے صوبے دار میجری کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اور سیدھے اپنے گھر آگئے۔ میرے والد نے بتایا کہ اس واقعے پر کئی سال گزر گئے ہیں، لیکن والی صاحب آج بھی صنوبر پاچا کی عزت کرتے ہیں۔
جب اُن سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی، تو اغلباً وہ ساٹھ اور ستر سال کی درمیانی عمر میں تھے، میں اس وقت اُنیس سال کا تھا۔ ایک دفعہ میں اور میاں گل بوستان پاچا سالنڈہ سے چکیسر جانے کے لیے پیدل نکلے، تو صنوبر پاچا نے بھی ہمارے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ ہم تینوں رات گزارنے ’’سپینے اوبو‘‘ میں رُک گئے اور اگلے دن ’’امنوئی‘‘ کے راستے چکیسر کی طرف روانہ ہوئے۔ پیدل چلتے چلتے میرا برا حال ہوگیا، لیکن مجبوری تھی کیا کرتے۔ ڈھیرئ کے آس پاس میری ہمت جواب دے گئی۔ کیوں کہ میں تو بڑا ’’نیازبین‘‘ قسم کا لڑکا تھا۔ میں ایک پتھر کے اوپر زرا سستانے کے لیے بیٹھا، تو صنوبر پاچا نے میرا بہت مذاق اُڑایا۔ میری آنکھوں میں بے چارگی اور بے بسی کی وجہ سے آنسو آگئے۔ ان دنوں اس سڑک پر ٹریفک کا یہ عالم نہ تھا۔ اکثر ہفتے گزرتے اور چکیسر کو جانے والا شیر داد لالہ کا واحد ’’گٹو‘‘ بھی نظر نہ آتا تھا۔ صنوبر پاچا نے جیب سے چاندی کی بنی ہوئی ڈبیا نکالی اور ایک چٹکی میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ’’چلو یہ منھ میں رکھو۔‘‘ میں نے کہا ’’پاچا! میں نسوار نہیں رکھتا۔‘‘ انھوں نے اصرار کرتے ہوئے وہ چیز مجھے دی۔ میں نے منھ میں رکھی تو اس کا ذائقہ بڑا میٹھا تھا۔ میں آہستہ آہستہ اُس کو حلق سے اُتارنے لگا۔ کچھ دیر بعد مجھے اپنے جسم میں توانائی سی دوڑتی محسوس ہوئی۔ مجھے ایک فرحت آمیز تازگی اور بھر پور قوت کا احساس ہونے لگا۔ میری تھکاوٹ گویا ہوا میں تحلیل ہوگئی اور میں اُٹھ کر چلنے لگا۔ ’’درڈونو‘‘ سے لے کر چکیسر تک میں بغیر دم لیے چلتا رہا۔ رات کو نیند بھی بڑے آرام سے آئی۔ صبح اُٹھا تو بالکل تازہ دم تھا۔ اسپتال پر کام جاری تھا اوٹی بلاک پر نالی دار لوہے کی چادریں لگائی گئی تھیں اور وارڈ کے اوپر لکڑی کا کام ہورہا تھا۔ دو تین دن وہاں پر گزارے، تو شیر داد لالہ کا ’’گٹو‘‘ آگیا۔ آپ اسے ایک منی بس بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس قسم کی عجیب الخلقت گاڑیاں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ اس میں پہلے اشیائے ضروریہ کی بوریاں رکھ دی جاتی تھیں اور اس کے اوپر سواریاں بٹھائی جاتی تھیں۔ یہ تو مینگورہ کے رہنے والے شیر داد لالہ کی ہمت تھی کہ وہ اس خطرناک سڑک پر وہ عجیب و غریب گاڑی چلاتے تھے۔
شیر داد لالہ کا تعلق مینگورہ کی ایک کاروباری فیملی سے تھا۔ نہ جانے اُن کو کیا پڑی تھی کہ وہ اس روٹ پر آتے جاتے تھے۔ بہ ہر حال ہم اس ’’گٹو‘‘ میں واپس آگئے۔
میں نے اپنے افسر محمد کریم صاحب کو کام کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ انھوں نے مجھے آرام کے لیے دو دن کی چھٹی دے دی۔ میں نے جب اپنے والد صاحب کو صنوبرپاچا کی دی ہوئی دوائی کے بارے میں بتایا، تو انھوں نے مجھے بتایا کہ اسے ’’برش‘‘ کہتے ہیں اور اس کی تیاری پر بہت لاگت آتی ہے۔ اس میں افیون بھی ملائی جاتی ہے اور اکثر بڑے لوگ اسے کھاتے ہیں۔
1,412 total views, no views today


