نئی دلی: بھارت کی پانڈی چیری یونیورسٹی میں انتہا پسند ہندؤں نے پاکستانی طالب علم کو تشددکا نشانہ بنا کر شدید زخمی کردیا۔کوئی چاہے کتنی ہی ’’امن کی آشا‘‘ کی مہم چلالے لیکن کیا بھارتیوں کے دلوں میں پاکستانیوں کے لئے جو نفرت کی آگ جل رہی ہے اس کو بجھا پائے گا ، بھارت میں کبھی کشمیری نوجوانوں کو پاکستانی ٹیم کی حمایت کرنے کی سزا میں تعلیمی اداروں سے بے دخل کردیا جاتا ہے
تو کبھی پاکستان مردہ باد کے نعرے نہ لگانے کی پاداش میں ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور اگر کوئی پاکستانی ہاتھ آجائے تو بھارتیوں کی تو جیسے لاٹری نکل آئی اوراس کو اس وحشیانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں کہ جس کو دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے اورایسا ہی ایک موقع ہاتھ لگا بھارتی علاقے پانڈی چری میں جہاں زیر تعلیم پاکستانی طالب علم کو رات کے اندھیرے میں انتہا پسند ہندوؤں نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
بھارت کی پانڈی چیری یونیورسٹی میں زیر تعلیم 24 سالہ طالب علم علی حسن رضا گزشتہ رات یونیورسٹی کے ہاسٹل میں سو رہے تھے کہ رات گئےانتہا پسند ہندو ان کے کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے ان پر لوہے کی سلاخوں سے حملہ کردیا۔ تشدد کی وجہ سے علی رضا کی چیخیں سن کر ہاسٹل کے دیگر کمروں سے طالب علم وہاں پہنچے تو حملہ آور فرار ہوگئے۔ ساتھی طلبا اسے قریبی اسپتال لے گئے جہاں پتہ چلا کہ تشدد سے علی رضا کو کمر اور گردن پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کرلی ہے تاہم ابھی تک کوئی کارروائی ہی نہیں کی گئی اور کارروائی بھی آخر کیوں ہو کیونکہ پولیس ہو یا کوئی اور دشمن تو سانجھا ہے نہ۔
دوسری جانب علی رضا وطن سے دور دشمنوں کی سرزمین پر بننے والی درگت پر اس قدر خوفزدہ تھے کہ جب ایکسپریس نیوز نے ان سے بات کی تو وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کوکھل کر نہ بتا سکے، والدہ سے بات کرتے ہوئے بھی وہ بڑے ضبط سے کام لیتے رہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے والدین نے انہیں کس طرح خود سے دور کرکے ان کے تابناک مستقل کے لئے تعلیم دلوانے کا سوچا اور کیسے جتن کرکے وہ ان کے اخراجات اٹھا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزارت خارجہ نے علی حسن پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے، اس سلسلے میں نئی دلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ علی حسن پر تشدد افسوسناک ہے۔ پاکستانی طالب علم کا ویزا 30 جون تک کا ہے، وہ جب چاہیں انہیں وطن واپسی کے لئے تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔
400 total views, no views today


