تحریر عادل حسین خان
اکیسویں صدی میں دنیا ترقی کرکے مریخ پر آبادی بسانے کا سوچ رہی ہے، خود مختاری ،آزادی ،عزم اورمساوات کا درس دے رہی ہے، کرہ ارض پر واقع میرے ملکِ پاکستان میں بھی تبدیلی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں عورتوں کے تحفظ کی بات ہو رہی ہے سماجی اور فلاحی ادارے انکے برابری کے حقوق کی بات کر رہے ہیں ، جو اکثر بیرون ملک فنڈنگ سے شروع ہو کربے بس و مجبور خواتین کیساتھ تصاویرکھنچوانے پر اختتام پذیرہوجاتی ہے ، میرے ملک کے مکینوں کو غم لاحق ہے اداسی ، مایوسی کی جھلک انکی آنکھوں میں نمایاں ہے، غربت انکے گلے کاٹ رہی ہے ، لوگ اپنے طرزِ زندگی سے ا کتا گئے ہیں، مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ، لوگ چیخ وپکا ر رہے ہیں مگر انکی آواز ہے کہ سنائی نہیں دیتی، آنکھیں نم ہیں مگر آنسوں ہیں کہ دیکھائی نہیں دیتے۔
یہ داستان ہے ایک چودہ سالہ دوشیزہ کی، جسکی ابھی ہسنے کھلنے کی عمر تھی ، جو ابھی بچپن کی سہیلیوں کیساتھ سکول جانا چاہتی تھی، کھیلنا کھودنا چاہتی تھی ، اپنے لڑکپن کی یا دیں سمیٹنا چاہتی تھی ،مگر اسکے ساتھ جو ہوا اس کو میں غربت لکھوں یاقسمت کا کھیل ، لالچ لکھوںیامجبوری،بیٹیاں جب بڑی ہونے لگتی ہیں تو والدین انکو سرکابوجھ سمجھنے لگ جاتے ہیں مگر ایسا بیٹوں کے معاملے میں کیوں نہیں ہوتا۔ یوں تو نکاح کرنا سنت ہے میں خود بھی اسکی تائید کرتا ہوں ، مگر ایک بچی جو ابھی زندگی کی سوج بھوج ہی نہ جانتی ہو، جسکو شادی بیاہ کے اصطلاحی معنی ہی نہ پتا ہوں آپ اسکی شادی ایک ستر سالہ ضعیف شخص سے کردیں جو چلنے کیلئے سہارالیتاہو، یہ کہاں کا انصاف ہے، بات یہاں پر آکر ختم نہیں ہو جا تی ، اس بچی میں ابھی معصومیت تھی، وہ گلی محلے میں کھیلناچاہتی تھی، شادی کے کچھ سال بعد اللہ نے اسکو اولاد سے بھی نوازدیا، مگراسکو کیا پتہ تھا کہ اسکی زندگی میں کہرام برپا ہونے والاہے، اس پر قیامت ٹوٹنے والی ہے وہ اب دو بچوں کی ماں بن گئی تھی ، اور پھرپاکستان کے ستر سال مکمل ہونے پرجہاں پورے ملک میں شادیانے بجائے جارہے تھے وہیں اس بچی کو بدچلن کہہ کر دن دھاڑے ننھے معصوم بچوں سمیت قتل کر دیا گیا،ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ ہم ان بے کسوں کے جنازوں میں شرکت کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں، کہ کہیں کوئی مقتول کے مراسم ہمارے ساتھ نہ جوڑدے، اگرچہ ہم نے بھی اسکی بہتی گنگا میں ڈبکی لگائی ہو جبکہ اسکے قاتل سر منڈلا ئے ڈنکے کی چوٹ پر آزاد پھررہے ہوتے ہیں، ابھی اس واقعہ کی خبر تھمی نہیں تھی کہ پنجاب کے نواحی گاؤں دین پور میں باہمی جھگڑے کے تناظر میں ایک نوعمربچی کو اسی سالہ شخص کے نکاح میں دے دیا گیا،میں پوچھنا چاہتا ہوں قصور کس کا ہے ، اسکے والدین کا ، اس بچی کا یا پھر اسلامک ریپبلک آف پاکستان کا؟
بلوچستان اور اندرونِ سندھ میں گروہوں کی آپس کی لڑائیاںآج بھی خواتین کو ونی اور سورا کر کے حل کی جاتی ہیں ، جس سے ان عورتوں کی زندگیاں جہنم بن کررہ جا تی ہیں جو گھر وہ چھوڑتی ہیں اس گھر میں وہ واپس نہیں آسکتی اور جس گھر میں وہ جاتی ہیں وہاں غلام سے بد تر زندگی انکو نصیب ہوتی ہے
ہم ہمیشہ خود کو صحیح سمجھتے ہیں ، جرم خود کیا بھی ہو تو اس کا اقرار ازخود کبھی نہیں کرتے ، اپنی کوتاہیوں ، غلطیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے طرح طر ح کے حر بے تلاش کرتے اوربہانے ڈھونڈتے ہیں، ہم غلطی پر ہو ں بھی تو اس کو ڈھانپنے کیلئے مختلف لوگوں کے حوالے دیتے ہیں ، زاویے نکال کر ان کی بات کو اپنی بات کیساتھ جوڑتے ہیں
ؓایسے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے اگر ہر فرد اس متن میں اپنا فرض نبھائے تو اس طرح کے واقعات کو کم کیاجا سکتا ہے سب سے پہلے ہمیں تعلیم ہر فرد کیلئے عام کرنا ہوگی اگر کوئی شخص اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتا تو ہمیں از خود جا کر اس کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہیئے اور اسے مرغوب کرنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے درسگاہ بھیجے، دوئم لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہوگا اس سلسلے میں سماجی آگاہی تنظیموں کو شہروں سے نکل کر دیہاتوں کا رخ کرنا چاہیے اور مہینے میں کم سے کم ایک بار ضرور ہر گھر کا دورہ کرنا چاہیئے انکے شعور کو بیعداراور خوشحال زندگی کا طرزِ عمل بتانا چاہیئے سوئم غربت کو ختم کرنا چاہیئے اس سلسلے میں لوگوں کو روزگار مہیا کرنا چاہیے اور صاحبِ استطاعت کو غریبوں میں دل کھول کر بانٹنا چاہیے اس سے آپکی دولت کم نہ ہو گی انگریزی کامشہورمعقولہ ہے(if you will spend then God will send)اگر آپ خرچ کرو گے تو اوپر والا اور دے گا، پس ہمیں دل کھول کر خرچ کرنا چاہیے
اس طرح کے کئی واقعات ہمارے ملک میں روز رونما ہوتے ہیں ، مقصدانکو رپورٹ کرنا نہیں مگر اس معاملے میں ہم کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ، نام نہاد سماجی و فلاحی ادارے جو فنڈ لے کر اپنے بینک بیلنس بڑھا رہے ہیں جو ان لاچار ، غریب ، مجبور ،محکوم لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انہی کے نام کا پیسہ کھا کر اپنا ہی الوسیدھا کررہے ہیں وہ سب اس میں برابر کے شریک ہیں
2,140 total views, no views today



